মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৩০৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٣) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہلی دو رکعتوں کے بعد اتنی تھوڑی دیر بیٹھتے تھے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کھڑے ہونے سے پہلے ؟ انھوں نے فرمایا ہاں کھڑے ہونے سے پہلے۔
(۳۰۳۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ، عَن أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ ؛أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ إذَا قَعَدَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ کَأَنَّہُ عَلَی الرَّضْفِ ، قُلْتُ : حتَّی یَقُومَ ؟ قَالَ : حَتَّی یَقُومَ۔ (ابوداؤد ۹۸۷۔ احمد ۱/۳۸۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٤) حضرت تمیم بن سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکر دو رکعتوں کے بعداتنی دیر بیٹھا کرتے تھے جیسے گرم پتھر پر بیٹھے ہوں۔
(۳۰۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ تَمِیمِ بْنِ سَلَمَۃَ ، قَالَ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ إذَا جَلَسَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ کَأَنَّہُ عَلَی الرَّضْفِ ، یَعْنِی حَتَّی یَقُومَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٥) ایک تابعی روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت ابو بکرکے پیچھے نماز پڑھی، پہلی دورکعات کے بعد اٹھنے سے پہلے وہ اتنی دیر بیٹھے جیسے انگارے پر بیٹھے ہوں۔
(۳۰۳۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَن رَجُلٍ صَلَّی خَلْفَ أَبِی بَکْرٍ ؛ فَکَانَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ ، کَأَنَّہُ عَلَی الْجَمْرِ حَتَّی یَقُومَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٦) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم دو رکعت پڑھنے کے بعد تشہد میں تیز تشہد پڑھنے کی مقدار بیٹھتے اور پھر کھڑے ہوجاتے۔
(۳۰۳۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخبرنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَجْلِسُ فِی التَّشَہُّدِ فِی الرَّکْعَتَیْنِ قَدْرَ التَّشَہُّدِ مُتَرَسِّلاً ، ثُمَّ یَقُومُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٧) حضرت ابن عمر فرمایا کرتے تھے کہ دو رکعات میں راحت صرف تشہد کے لیے رکھی گئی ہے۔
(۳۰۳۷) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عِیَاضِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : مَا جُعِلَتِ الرَّاحَۃُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ إِلاَّ لِلتَّشَہُّدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٨) حضرت حسن فرمایا کرتے تھے کہ پہلی دو رکعات کے بعد تشہد پر کوئی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
(۳۰۳۸) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ : لاَ یَزِیدُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ عَلَی التَّشَہُّدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٣٩) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے قعدہ اولیٰ میں تشہد پر کسی چیز کا اضافہ کیا اس پر سجودِ سہو لازم ہے۔
(۳۰۳۹) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ نُعَیْمٍ الْقَارِیء ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : مَنْ زَادَ فِی الرَّکْعَتَیْنِ الأُولَیَیْنِ عَلَی التَّشَہُّدِ فَعَلَیْہِ سَجْدَتَا السَّہْوَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پہلی دو رکعتوں میں کتنی دیر بیٹھنا چاہیے ؟
(٣٠٤٠) حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو رکعات کے بعد التحیات پڑھا کرتے تھے۔
(۳۰۴۰) حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ ، عَنْ بُدَیْلٍ ، عَنْ أَبِی الْجَوْزَائِ ، عَنْ عَائِشَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ فِی الرَّکْعَتَیْنِ : التَّحِیَّاتُ۔ (ابوداؤد ۷۷۲)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤١) حضرت مصعب بن سعد فرماتے ہیں کہ حضرت سعدجب تشہد پڑھ لیتے تو یہ کلمات کہتے (ترجمہ) میں اللہ کی پاکی بیان کرتا ہوں زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر، اللہ سب سے بڑا ہے زمین و آسمان بھرنے کے برابر اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ بھرنے کے برابر اور تحت الثری بھرنے کے برابر (حضرت شعبہ کہتے ہیں کہ اللہ اکبر پہلے کہا یا الحمد للہ پہلے کہا) اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں ایسی تعریفیں جو پاکیزہ ہوں اور بابرکت ہوں۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے اور اسی کے لیے سب تعریفیں ہیں۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ میں تجھ سے ساری خیروں کا سوال کرتا ہوں۔ یہ دعا مانگنے کے بعد وہ سلام پھیرتے۔
(۳۰۴۱) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ زِیَادِ بْنِ فَیَّاضٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ یُحَدِّثُ عَنْ سَعْدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ إذَا تَشَہَّدَ فَقَالَ : سُبْحَانَ اللہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمَا بَیْنَہُنَّ ، وَمَا تَحْتَ الثَّرَی ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمَا بَیْنَہُنَّ ، وَمَا تَحْتَ الثَّرَی ، وَاللَّہُ أَکْبَرُ مِلْئَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئَ الأَرْضِ ، وَمَا بَیْنَہُنَّ ، وَمَا تَحْتَ الثَّرَی ، قَالَ شُعْبَۃُ : لاَ أَدْرِی اللَّہُ أَکْبَرُ قَبْلُ ، أَوِ الْحَمْدُ لِلَّہِ ، وَالْحَمْدُ لِلَّہِ حَمْدًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ ، لاَ إلَہَ إِلاَّ اللَّہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ ، وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ ، اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٢) حضرت عمیر بن سعید کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودہ میں نماز میں تشہد سکھاتے پھر فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی تشہد سے فارغ ہوجائے تو یہ کلمات کہے (ترجمہ) اے اللہ ! مجھے وہ خیریں بھی عطا فرما جو میں جانتا ہوں اور وہ خیریں بھی عطا فرما جو میں نہیں جانتا، میں ان شرور سے حفاظت چاہتا ہوں جو میں جانتا ہوں اور ان شرور سے بھی حفاظت چاہتا ہوں جو میں نہیں جانتا۔ اے اللہ ! میں تجھ سے وہ تمام خیریں مانگتا ہوں جو تیرے نیک بندوں نے مانگی ہیں۔ اے اللہ ! میں ان تمام شرور سے پناہ مانگتا ہوں جن سے تیرے نیک بندوں نے پناہ مانگی ہے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے، تو ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری خطاؤں سے درگزر فرما اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ فرما۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں وہ سب کچھ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں سے وعدہ کیا ہے اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ فرما، بیشک تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔
(۳۰۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیدٍ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ یُعَلِّمُنَا التَّشَہُّدَ فِی الصَّلاَۃِ، ثُمَّ یَقُولُ : إذَا فَرَغَ أَحَدُکُمْ مِنَ التَّشَہُّدِ فِی الصَّلاَۃِ فَلْیَقُلِ : اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ ، مَا عَلِمْت مِنْہُ ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ ، مَا عَلِمْت مِنْہُ ، وَمَا لَمْ أَعْلَمْ ، اللَّہُمَّ إنِّی أَسْأَلُک مِنْ خَیْرِ مَا سَأَلَک مِنْہُ عِبَادُک الصَّالِحُونَ ، وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا عَاذَ مِنْہُ عِبَادُک الصَّالِحُونَ ، رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ، رَبَّنَا إنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا ، وَکَفِّرْ عَنَّا سَیِّئَاتِنَا ، وَتَوَفَّنَا مَعَ الأَبْرَارِ ، رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتنَا عَلَی رُسُلِکَ ، وَلاَ تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ، إنَّک لاَ تُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٣) حضرت ابو عبیدہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ تشہد پڑھتے، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود بھیجتے پھر اپنے لیے دعا مانگتے۔
(۳۰۴۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الأَحْوَصِ ، وَأَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : یَتَشَہَّدُ الرَّجُلُ ، ثُمَّ یُصَلِّی عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ یَدْعُو لِنَفْسِہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٤) حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب تم تشہد سے فارغ ہوجاؤ تو اپنی دنیا وآخرت کے لیے جو چاہو دعا مانگو۔
(۳۰۴۴) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : إذَا فَرَغْت مِنَ التَّشَہُّدِ فَادْعُ لِاٰخِرَتِکَ وَدُنْیَاک مَا بَدَا لَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٥) حضرت شیبانی اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ نما زمین اپنے لیے جو چاہو دعا مانگو۔
(۳۰۴۵) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ (ح) وَعَنِ الشَّیْبَانِیِّ عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُمَا قَالاَ : اُدْعُ فِی صَلاَتِکَ بِمَا بَدَا لَک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٦) حضرت عثمان بن اسود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد سے پوچھا کہ کیا میں فرض نماز میں اپنے لیے دعا مانگ سکتا ہوں ؟ انھوں نے فرمایا کہ تشہد پڑھنے تک اپنے لیے دعا مت مانگو۔ میں نے یہی سوال حضرت عطاء سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ مغفرت طلب کرنے پر زور دو ۔
(۳۰۴۶) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قُلْتُ لِمُجَاہِدٍ : أَدْعُو لِنَفْسِی فِی الْمَکْتُوبَۃِ ؟ قَالَ : لاَ تَدْعُ لِنَفْسِکَ حَتَّی تَتَشَہَّدَ ۔ قَالَ : وَسَأَلْت عَطَائً ، فَقَالَ : تَحْتَاطُ بِالإسْتِغْفَارِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٧) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اسلاف کو یہ بات پسند تھی کہ امام تشہد پڑھنے کے بعد ان پانچ جامع کلمات سے دعا مانگے (ترجمہ) اے اللہ ! ہم تجھ سے ان تمام خیروں کا سوال کرتے ہیں جو ہم جانتے ہیں اور جو ہم نہیں جانتے، اور ہم ان تمام برائیوں سے پناہ چاہتے ہیں جو ہم جانتے ہیں اور جو ہم نہیں جانتے۔ حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ امام کو جتنی بھی جلدی ہو وہ ان کلمات کونہ چھوڑے۔
(۳۰۴۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانُوا یُحِبُّونَ أَنْ یَدْعُوَ الإِمَامُ بَعْدَ التَّشَہُّدِ بِخَمْسِ کَلِمَاتٍ جَوَامِعَ : اللَّہُمَّ إنَّا نَسْأَلُک مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہِ ، مَا عَلِمْنَا مِنْہُ ، وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، وَنَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہِ ، مَا عَلِمْنَا مِنْہُ ، وَمَا لَمْ نَعْلَمْ ، قَالَ : فَمَہْمَا عَجِلَ بِہِ الإِمَامُ فَلاَ یَعْجَلْ عَنْ ہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٨) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نماز میں اپنی سب سے اہم ضروریات کا سوال کرو۔
(۳۰۴۸) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَۃَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ عَوْنٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : اُدْعُوا فِی صَلاَتِکُمْ بِأَہَمِّ حَوَائِجِکُمْ إلَیْکُمْ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٤٩) حضرت عون فرماتے ہیں کہ اپنی اہم ترین ضروریات کو نماز میں مانگو کیونکہ نماز میں دعا کی فضیلت نفل نماز کے برابر ہے۔
(۳۰۴۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَوْنٍ ، قَالَ : اجْعَلُوا حَوَائِجَکُمُ الَّتِی تَہُمُّکُمْ فِی الصَّلاَۃِ الْمَکْتُوبَۃِ، فَإِنَّ فَضْلَ الدُّعَائِ فِیہَا کَفَضْلِ النَّافِلَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تشہد کے بعد کون کون سے کلمات کہے جاسکتے ہیں ؟
(٣٠٥٠) حضرت ابو بردہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو موسیجب نماز سے فارغ ہوجاتے تو یہ دعا کرتے (ترجمہ) اے اللہ ! میرے گناہوں کو معاف فرما، میرے معاملے کو آسان فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
(۳۰۵۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ یُونُسَ بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ ، قَالَ : کَانَ أَبُو مُوسَی إذَا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِہِ ، قَالَ : اللَّہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی ، وَیَسِّرْ لِی أَمْرِی ، وَبَارِکْ لِی فِی رِزْقِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فرض نماز میں قرآنی دعائیں پڑھنا مستحب ہے
(٣٠٥١) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ فرض نماز میں قرآنی دعائیں مانگی جائیں۔
(۳۰۵۱) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : کَانَ یَسْتَحِبُّ أَنْ یَدْعُوَ فِی الْمَکْتُوبَۃِ بِدُعَائِ الْقُرْآنِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩০৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن حضرات کے نزدیک فرض نماز میں قرآنی دعائیں پڑھنا مستحب ہے
(٣٠٥٢) حضرت طاوس فرماتے ہیں کہ فرض نماز میں قرآنی دعائیں مانگو۔
(۳۰۵۲) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ طَاوُوسًا یَقُولُ : اُدْعُوا فِی الْفَرِیضَۃِ بِمَا فِی الْقُرْآنِ۔
তাহকীক: