মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ২৪১৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٣) حضرت حذیفہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان کی ایک رات میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجور کی چھال کے بنے حجرہ سے باہر تشریف لائے، پھر اپنے اوپر پانی کا ایک ڈول ڈالا اور فرمایا (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے، وہ بادشاہت ، جلال، کبریائی اور عظمت کا مالک ہے۔
(۲۴۱۳) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنِ الْعَلاَئِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ یَزِیدَ الأَنْصَارِیِّ ، عَنْ حُذَیْفَۃَ قَالَ : قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ مِنْ رَمَضَانَ فِی حُجْرَۃٍ مِنْ جَرِیدِ النَّخْلِ ، ثُمَّ صَبَّ علَیْہِ دَلْوًا مِنْ مَائٍ ، ثُمَّ قَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ذُو الْمَلَکُوتِ ، وَالْجَبَرُوتِ ، وَالْکِبْرِیَائِ ، وَالْعَظَمَۃِ۔
(احمد ۵/۴۰۰۔ نسائی ۱۳۷۸)
(احمد ۵/۴۰۰۔ نسائی ۱۳۷۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٤) حضرت علی فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع کرتے تو اللہ اکبر کہنے کے بعد یہ کلمات ارشاد فرماتے (ترجمہ) میں نے اپنا چہرہ یکسوہو کر اس ذات کی طرف پھیرلیا جس نے زمینوں اور آسمانوں کو وجودبخشا ہے۔ اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں اسلام لانے والوں میں ابتداء کرنے والا ہوں۔ اے اللہ ! تو بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں تو میرے سارے گناہوں کو معاف فرمادے، یقیناً تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا۔ مجھے اچھے اخلاق کی ہدایت عطا فرما، تیرے سوا اچھے اخلاق کی ہدایت کوئی نہیں دے سکتا۔ مجھے برے اخلاق سے محفوظ فرما تیرے سوا مجھے برے اخلاق سے کوئی محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ میں حاضر ہوں اور تیری خدمت میں حاضری کو سعادت سمجھ کر حاضر ہوں۔ ساری کی ساری بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، میرا سہارا اور مرجع تو ہی ہے، تو بابرکت ہے اور تو بلند ہے۔ میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیرے دربار میں توبہ کرتا ہوں۔
(۲۴۱۴) حَدَّثَنَا سُوَیْد بْنُ عَمْرٍو الْکَلْبِیُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ أَبِی سَلَمَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمَاجِشُونُ عَمِّی، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی رَافِعٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ کَبَّرَ ، ثُمَّ قَالَ : وَجَّہْت وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِیفًا ، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِینَ ، إنَّ صَلاَتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِی لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِینَ لاَ شَرِیکَ لَہُ ، وَبِذَلِکَ أُمِرْت وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ ، اللَّہُمَّ أَنْتَ الْمَلِکُ لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ ، أَنْتَ رَبِّی وَأَنَا عَبْدُک ، ظَلَمْت نَفْسِی ، وَاعْتَرَفْت بِذَنْبِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی جَمِیعًا ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ ، وَاہْدِنِی لأَحْسَنِ الأَخْلاَقِ لاَ یَہْدِینی لأَحْسَنِہَا إِلاَّ أَنْتَ ، وَاصْرِفْ عَنِّی سَیِّئَہَا لاَ یَصْرِفُ عَنِّی سَیِّئَہَا إِلاَّ أَنْتَ ، لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ ، وَالْخَیْرُ کُلُّہُ فِی یَدَیْک ، أَنَا بِکَ وَإِلَیْک ، تَبَارَکْت وَتَعَالَیْت ، أَسْتَغْفِرُک وَأَتُوبُ إلَیْک۔ (مسلم ۲۰۱۔ ترمذی ۳۴۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٥) حضرت عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر مکہ کی طرف جاتے ہوئے مقام ذو الحلیفہ میں تھے، آپ نے وہاں ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں اللہ اکبرکہنے کے بعد یہ کلمات کہے (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
(۲۴۱۵) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَیْمُونٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا عُمَرُ الصُّبْحَ وَہُوَ مُسَافِرٌ بِذِی الْحُلَیْفَۃِ وَہُوَ یُرِیدُ مَکَّۃَ ، فَقَالَ : اللَّہُ أَکْبَرُ ، سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٦) حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز شروع فرماتے تو یہ کلمات کہتے (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
(۲۴۱۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی جَعْفَرُ بْنُ سُلَیْمَانَ الضُّبَعِیُّ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ عَلِیٍّ الرِّفَاعِیِّ ، عَنْ أَبِی الْمُتَوَکِّلِ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْتَفْتِحُ الصَّلاَۃَ یَقُولُ : سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک۔ (ابن ماجہ ۸۰۴۔ نسائی ۹۷۳)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٧) حضرت ضحاک اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِینَ تَقُومُ } کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اس کا معنی یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوجاؤ تو یہ کلمات کہو (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
(۲۴۱۷) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا جُوَیْبِرٌ ، عَنِ الضَّحَّاکِ : فِی قَوْلِہِ : وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِینَ تَقُومُ ، قَالَ : حِینَ تَقُومُ إلَی الصَّلاَۃِ تَقُولُ ہَؤُلاَئِ الْکَلِمَاتِ ، سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٨) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کا سب سے زیادہ پسندیدہ کلام یہ ہے کہ وہ یہ کہے (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے، یقیناً تیرے سوا کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔
(۲۴۱۸) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، وَأَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَیْد، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : إنَّ مِنْ أَحَبِّ الْکَلاَمِ إلَی اللہِ أَنْ یَقُولَ الرَّجُلُ : سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک ، رَبِّ إنِّی ظَلَمْت نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی ذنوبی ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪১৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤١٩) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمرجب نماز شروع کرتے تو ہمیں سنانے کے لیے بلند آواز سے یہ کلمات پڑھتے (ترجمہ) اے اللہ تو پاک ہے اور تیری ہی تعریف ہے۔ تیرا نام بابرکت ہے، تیری شان بلند ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔
(۲۴۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : کَانَ عُمَرُ إذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ صَوْتَہُ یُسْمِعُنَا یَقُولُ : سُبْحَانَک اللَّہُمَّ وَبِحَمْدِکَ ، وَتَبَارَکَ اسْمُک وَتَعَالَی جَدُّک ، وَلاَ إلَہَ غَیْرُک۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤٢٠) حضرت عبداللہ بن ابی الخلیل فرماتے ہیں کہ حضرت علیجب نماز کے لیے تکبیرِتحریمہ کہہ لیتے تو یہ کلمات کہتے ” اے اللہ ! تو پاک ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا تو میرے گناہوں کو معاف فرمادے بیشک تیرے سوا گناہوں کو کوئی معاف نہیں کرسکتا۔
(۲۴۲۰) حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللہِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : سَمِعْتُہُ حِینَ کَبَّرَ فِی الصَّلاَۃِ ، قَالَ : لاَ إلَہَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحَانَک ، إنِّی ظَلَمْت نَفْسِی فَاغْفِرْ لِی ذُنُوبِی ، إِنَّہُ لاَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤٢١) ایک اور سند سے یہی حدیث منقول ہے۔
(۲۴۲۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ وَعَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی الْخَلِیلِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، مِثْلَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤٢٢) حضرت ابو الہیثم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمرکو نماز شروع کرتے وقت یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے (ترجمہ) اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ پاک ہے اور صبح وشام اس کی تعریف ہے، اے اللہ اپنے سامنے کھڑے ہونے کو میرے لیے سب سے زیادہ محبوب چیز بنادے اور اسے میرے لیے سب سے زیادہ قابل خشیت چیز بنادے۔
(۲۴۲۲) حَدَّثَنَا وَکِیعُ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِی الْہَیْثُمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ حِینَ یَفْتَتِحُ الصَّلاَۃَ : اللَّہُ أَکْبَرُ کَبِیرًا ، وَسُبْحَانَ اللہِ وَبِحَمْدِہِ بُکْرَۃً وَأَصِیلاً ، اللَّہُمَّ اجْعَلْہُ أَحَبَّ شَیْئٍ إلَیَّ ، وَأَخْشَی شَیْئٍ عِنْدِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز کس عمل سے شروع کی جائے گی ؟
(٢٤٢٣) حضرت ابن مسعود سے بھی ایسے کلمات منقول ہیں۔
(۲۴۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، نَحْوَہُ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٤) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو کندھوں تک اٹھایا کرتے تھے۔
(۲۴۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إذَا افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ مَنْکِبَیْہِ۔ (ترمذی ۲۵۶۔ ابوداؤد ۷۲۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٥) حضرت وائل بن حجرکہتے ہیں کہ جب میں مدینہ آیا تو میں نے لوگوں سے کہا کہ میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کو دیکھنے کا اشتیاق رکھتا ہوں۔ چنانچہ میں نے دیکھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ آپ کے انگوٹھے آپ کے کانوں کے قریب ہوگئے۔
(۲۴۲۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ ، فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إلَی صَلاَۃِ النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَکَبَّرَ وَرَفَعَ یَدَیْہِ ، حَتَّی رَأَیْت إبْہَامَیْہِ قَرِیبًا مِنْ أُذُنَیْہِ۔ (ابوداؤ۹ ۷۲۸۔ نسائی ۱۱۹۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٦) حضرت براء بن عازب فرماتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے نماز شروع کرتے وقت ہاتھوں کو اتنا اٹھایا کہ وہ آپ کے کانوں کے برابر ہوگئے۔
(۲۴۲۶) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، عَنْ یَزِیدَ بْنِ أَبِی زِیَادٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِینَ افْتَتَحَ الصَّلاَۃَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی کَادَتَا تُحَاذِیَانِ أُذُنَیْہِ۔ (احمد ۴/۲۰۲۔ عبدالرزاق ۳۵۳۰)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٧) حضرت مالک بن حویرث فرماتے ہیں کہ میں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز میں ہاتھوں کو اتنا بلند کرتے دیکھا کہ وہ آپ کے کانوں کے لو کے برابر ہوگئے۔
(۲۴۲۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ مَالِکِ بْنِ الْحُوَیْرِثِ ، قَالَ : رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی یُحَاذِیَ بِہِمَا فُرُوعَ أُذُنَیْہِ۔ (مسلم ۲۶۔ ابوداؤد ۷۴۵)
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٨) حضرت اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرماتے تھے۔
(۲۴۲۸) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ عَدِیٍّ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ؛ أَنَّ عُمَرَ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ فِی الصَّلاَۃِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪২৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٢٩) حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
(۲۴۲۹) حَدَّثَنَا ابْنُ إدْرِیسَ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٣٠) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ نماز میں ہاتھوں کو کانوں سے زیادہ بلند مت کرو۔
(۲۴۳۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : لاَ تُجَاوِزْ بِالْیَدَیْنِ الأُذُنَیْنِ فِی الصَّلاَۃِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٣١) حضرت ابو جعفر فرماتے ہیں کہ تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ کانوں سے زیادہ بلند نہیں ہونے چاہئیں۔
(۲۴۳۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی جَعْفَرٍ ، قَالَ : لاَ یُجَاوِزُ أُذُنَیْہِ بِیَدَیْہِ فِی الإِفْتِتَاحِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৩২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز شروع کرتے وقت ہاتھ کہاں تک اٹھانے چاہئیں ؟
(٢٤٣٢) حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ حضرت محمد نماز میں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر بلند فرمایا کرتے تھے۔
(۲۴۳۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ العوام ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ؛ أَنَّہُ کَانَ یَرْفَعُ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکِبَیْہِ۔
তাহকীক: