মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)
الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار
نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৩৩ টি
হাদীস নং: ৪৭৭৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٣) حضرت ابو جحیفہ کہتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سفر میں جس میں سب سوئے رہ گئے اور سورج طلوع ہوگیا تھا ، فرمایا ” تم مردہ حالت میں تھے، اللہ تعالیٰ نے تمہارے اندر تمہاری روحوں کو واپس لوٹایا۔ جو نماز کے وقت سو جائے یا اسے نماز پڑھنا بھول جائے تو جب جاگے اور جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
(۴۷۷۳) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بن عَبَّاسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِی جُحَیْفَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرِہِ الَّذِی نَامُوا فِیہِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ قَالَ : إنَّکُمْ کُنْتُمْ أَمْوَاتًا فَرَدَّ اللَّہُ إلَیْکُمْ أَرْوَاحَکُمْ ، فَمَنْ نَامَ عَنْ صَلاَۃٍ ، أَوْ نَسِیَ صَلاَۃً فَلْیُصَلِّہَا إذَا ذَکَرَہَا ، وَإِذَا اسْتَیْقَظَ۔ (ابو یعلی ۸۹۵۔ طبرانی ۲۶۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٤) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے تو جب یاد آئے اور جب بیدار ہو اس وقت پڑھ لے۔
(۴۷۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : إذَا نَامَ الرَّجُلُ عَنْ صَلاَۃٍ ، أَوْ نَسِیَ فَلْیُصَلِّ إذَا اسْتَیْقَظَ ، أَوْ ذَکَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٥) حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عمران بن حصین کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہوگیا جو نماز پڑھنا بھول جائے۔ حضرت عمران بن حصین نے فرمایا کہ جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے اور حضرت سمرہ نے فرمایا کہ جب اسے یاد آئے اس وقت پڑھ لے یا اگلے دن اس کے وقت میں پڑھ لے۔
(۴۷۷۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ؛ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَیْنٍ وَسَمُرَۃَ بْنَ جُنْدُبٍ اخْتَلَفَا فِی الَّذِی یَنْسَی صَلاَتَہُ ، فَقَالَ عِمْرَانُ : یُصَلِّیہَا إذَا ذَکَرہَا ، وَقَالَ سَمُرَۃُ : یُصَلِّیہَا إذَا ذَکَرَ وَفِی وَقْتِہَا مِنَ الْغَدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٦) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔
(۴۷۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاکٍ، عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ نَخَفٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: یُصَلِّی إذَا ذَکَرَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٧) حضرت سعد فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے اور اگلے دِن اس کے وقت اسی جیسی نماز پڑھے۔
(۴۷۷۷) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ إسْرَائِیلَ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی مُوسَی ، عَنْ سَعْدٍ ، قَالَ : قَالَ: یُصَلِّیہَا إذَا ذَکَرَہَا ، وَیُصَلِّی مِثْلَہَا مِنَ الْغَدِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٨) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز کے وقت سویا رہ جائے تو طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت اسے جب بھی یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔ پھر انھوں نے اس آیت کی تلاوت فرمائی { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی } پھر فرمایا کہ جب تمہیں یاد آجائے اس وقت پڑھ لو خواہ وہ کوئی بھی وقت ہو۔
(۴۷۷۸) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : مَنْ نَامَ عَنْ صَلاَۃٍ ، أَوْ نَسِیَہَا ، قَالَ : یُصَلِّی مَتَی ذَکَرَہَا عِنْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ ، أَوَعِنْدَ غُرُوبِہَا ، ثُمَّ قَرَأَ : (أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی) قَالَ : إذَا ذَکَرْتَہَا فَصَلِّہَا فِی أَیِّ سَاعَۃٍ کُنْتَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٧٩) حضرت ابو ذر اور حضرت عبدالرحمن بن عوف اس شخص کے بارے میں جو نماز پڑھنا بھول جائے فرماتے ہیں کہ جب اسے یاد آجائے اس وقت پڑھ لے۔
(۴۷۷۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عُبَیْدِ اللہِ بْنِ أَبِی حُمَیْدٍ ) ، عَنْ أَبِی مَلِیحٍ ، عَنْ أَبِی ذَرٍّ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ؛ فِی الصَّلاَۃ تُنْسَی ؟ قَالاَ : یُصَلِّیہَا إذَا ذَکَرَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨٠) حضرت ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ تمہیں جگانے والا کوئی نہ تھا ؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میری یاد کے لیے نماز پڑھو۔
(۴۷۸۰) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ مُوسَی بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ زَکَرِیَّا بْنِ جَرَادٍ ، عَنْ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : مَا کَانَ لَکَ أَحَدٌ یُہبَّکَ ؟ صَلِّہَا لِذِّکْرِی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨١) حضرت شعبی اور حضرت ابراہیم اس آیت { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر تم نماز پڑھنا بھول جاؤ تو جب یاد آجائے اس وقت پڑھ لو۔
(۴۷۸۱) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، وَإِبْرَاہِیمَ ، قَالاَ : {أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی} أَیْ : صَلِّہَا إذَا ذَکَرْتَہَا وَقَدْ نَسِیتَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨٢) حضرت صخر بن جویریہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو عصر کی نماز پڑھنا بھول جائے اور سورج زرد پڑجائے تو اب وہ کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ وہ اسے ادا کرلے ، نماز جیسی کوئی چیز نہیں۔
(۴۷۸۲) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَیْرِیَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ نَافِعًا عَنْ رَجُلٍ نَسِیَ صَلاَۃَ الْعَصْرِ حَتَّی اصْفَارَّت الشَّمْسُ ؟ قَالَ : یُصَلِّیہَا لَیْسَتْ کَشَیْئٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨٣) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ جب یاد آئے اس وقت پڑھ لے۔
(۴۷۸۳) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، قَالَ : سَأَلْتُ الْحَکَمَ ، قَالَ : یُصَلِّیہَا إذَا ذَکَرَہَا۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨٤) حضرت ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو عشاء کی نماز پڑھے بغیر سو جائے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوجائے فرماتے ہیں کہ وہ اسے اس وقت ادا کرلے۔
(۴۷۸۴) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ؛ فِی الرَّجُلِ یَنَامُ عَنْ صَلاَۃِ الْعِشَائِ حَتَّی تَبْزُغَ الشَّمْسُ ، قَالَ : یُصَلِّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھنا بھول جائے یا نماز پڑھے بغیر سو جائے تو اس کے لیے کیا حکم ہے ؟
(٤٧٨٥) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فجر کی نماز کے وقت سو گئے ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کہ اس جگہ کو چھوڑ دو جس میں تم پر غفلت طاری ہوئی ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی : { أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی }
(۴۷۸۵) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَامَ عَنْ صَلاَۃِ الْفَجْرِ حَتَّی طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَقَالَ لأَصْحَابِہِ : تَزَحْزَحُوا عَنِ الْمَکَانِ الَّذِی أَصَابَتْکُمْ فِیہِ الْغَفْلَۃُ ، فَصَلَّی ثُمَّ قَالَ : {أَقِمِ الصَّلاَۃ لِذِکْرِی}۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٨٦) بنو ابی بکرہ کے ایک آدمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ ہمارے ایک کمرے میں سو گئے۔ ہم سمجھے کہ انھوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہوگی، وہ سورج کے غروب کے وقت بیدار ہوئے تو انھوں نے سورج کے غروب ہونے کا انتظار کیا پھر نماز پڑھی۔
(۴۷۸۶) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ الثَّقَفِیُّ ، عَنْ أَیُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِیرِینَ ، عَنْ بَعْضِ بَنِی أَبِی بَکْرَۃَ ؛ أَنَّ أَبَا بَکْرَۃَ نَامَ فِی دَالِیَۃٍ لَہُمْ وَظَنَنَّا أَنَّہُ قَدْ صَلَّی الْعَصْرَ ، فَاسْتَیْقَظَ عِنْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ ، قَالَ : فَانْتَظَرَ حَتَّی غَابَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٨٧) حضرت عبد الملک بن کعب فرماتے ہیں کہ میں فجر کی نماز کے وقت سو گیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہوگیا۔ اس وقت ہم پھل چننے کے لیے اپنی ایک زمین میں تھے۔ میں کھجور کے ایک درخت کے پاس وضو کرنے کے لیے گیا تو میرے والد نے مجھے دیکھ لیا اور فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ میں وضو کرکے نماز پڑھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر مجھے اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ جب سورج بلند ہوگیا اور سفید ہوگیا۔ تو انھوں نے میرے نماز شروع کرنے سے پہلے مجھے مارا اور فرمایا کیا تو بھول گیا تھا ؟ اب نماز پڑھ۔
(۴۷۸۷) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ سَعْدِ بن إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ کَعْبٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : نِمْتُ عَنِ الْفَجْرِ حَتَّی طَلَعَ قَرْنُ الشَّمْسِ ، وَنَحْنُ خَارِفُونَ فِی مَالٍ لَنَا ، فَمِلْتُ إلَی شَرْبَۃٍ مِنَ النَّخْلِ أَتَوَضَّأُ ، قَالَ : فَبَصُرَ بِی أَبِی فَقَالَ : مَا شَأْنُک ؟ قُلْتُ : أُصَلِّی قَدْ تَوَضَّأْت ، فَدَعَانِی فَأَجْلَسَنِی إلَی جَنْبِہِ ، فَلَمَّا أَنْ تَعَلَّتِ الشَّمْسُ وَابْیَضَّتْ وَأَتَیْتُ الْمَسْجِدَ ، ضَرَبَنِی قَبْلَ أَنْ أَقُومَ إلَی الصَّلاَۃ ، وَقَالَ : تَنْسَی ؟ صَلِّ الأَنَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٨٨) حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی عصر کی نماز پڑھنا بھول جائے یہاں تک کہ سورج زرد پڑجائے تو اسے سورج غروب ہونے کے بعد ادا کرے۔ حضرت قتادہ بھی یونہی فرمایا کرتے تھے۔
(۴۷۸۸) حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَۃَ ، عَنْ حَمَّادٍ ؛ فِی الرَّجُلِ إذَا نَسِیَ أَنْ یُصَلِّیَ صَلاَۃً حَتَّی تَصْفَرَّ الشَّمْسُ ، قَالَ: یُصَلِّیہَا إذَا غَابَتِ الشَّمْسُ ، وَقَالَ قَتَادَۃُ مِثْلَ ذَلِکَ۔
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٨٩) حضرت ابو قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک رات حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ رات کو ہم نے کہا کہ یارسول اللہ ! اگر اس وقت ہم پڑاؤ ڈال لیں تو اچھا ہو۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے ڈر ہے تم نماز کے وقت میں سوئے رہو گے۔ ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا ؟ حضرت بلال نے کہا کہ میں جگاؤں گا۔ چنانچہ لوگوں نے پڑاؤ ڈالا اور سو گئے۔ حضرت بلال نے اپنی سواری سے ٹیک لگائی اور ان پر نیند غالب آگئی۔ جب نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیدار ہوئے تو سورج طلوع ہوچکا تھا۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے بلال ! جو بات تم نے کہی تھی وہ کیا ہوئی ؟ انھوں نے عرض کیا کہ جیسی نیند مجھے آج آئی اب سے پہلے کبھی نہیں آئی۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری روحوں کو جب چاہتا ہے قبض کرلیتا ہے اور جب چاہتا ہے چھوڑ دیتا ہے۔ پھر آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کو اپنی ضروریات کے لیے منتشر ہونے کا حکم دیا اور انھوں نے وضو کیا۔ جب سورج بلند ہوگیا تو آپ نے انھیں فجر کی نماز پڑھائی۔
(۴۷۸۹) حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا حُصَیْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ أَبِی قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیہِ أَبِی قَتَادَۃَ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ذَاتَ لَیْلَۃٍ ، قَالَ : قُلْنَا : یَا رَسُولَ اللہِ ، لَوْ عَرَّسْت بِنَا ، فَقَالَ : إنِّی أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاَۃ ، فَمَنْ یُوقِظُنَا لِلصَّلاَۃِ ؟ قَالَ : فَقَالَ بِلاَلٌ : أَنَا ، یَا رَسُولَ اللہِ ، قَالَ : فَعَرَّسَ بِالْقَوْمِ وَاضْطَجَعُوا ، وَاسْتَنَدَ بِلاَلٌ إلَی رَاحِلَتِہِ فَغَلَبَتْہُ عَیْنَاہُ ، وَاسْتَیْقَظَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : یَا بِلاَلُ ، أَیْنَ مَا قُلْتَ لَنَا ؟ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَالَّذِی بَعَثَک بِالْحَقِّ مَا أُلْقِیَتْ عَلَیَّ نَوْمَۃٌ مِثْلہَا ، قَالَ : فَقَالَ : إنَّ اللَّہَ قَبَضَ أَرْوَاحَکُمْ حِینَ شَائَ ، وَرَدَّہَا عَلَیْکُمْ حِینَ شَائَ ، قَالَ : ثُمَّ أَمَرَہُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِہِمْ ، وَتَوَضَّؤُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ، فَصَلَّی بِہِمُ الْفَجْرَ۔ (بخاری ۵۹۵۔ ابوداؤد ۴۴۱)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٩٠) حضرت جابر فرماتے ہیں کہ غزوہ ٔ خندق میں حضرت عمر قریشی سرداروں کو برا بھلا کہتے ہوئے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ کے رسول ! میں نے عصر کی نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب ہوگیا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ خدا کی قسم ! میں نے بھی ابھی تک نماز نہیں پڑھی۔ اس کے بعد نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وضو فرمایا اور سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی اور عصر کے بعد مغرب کی نماز ادا فرمائی۔
(۴۷۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمُبَارَکِ ، عَنْ یَحْیَی ، عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : جَائَ عُمَرُ یَوْمَ الْخَنْدَقِ فَجَعَلَ یَسُبُّ کُفَّارَ قُرَیْشٍ وَیَقُولُ : یَا رَسُولَ اللہِ ، مَا صَلَّیْتُ الْعَصْرَ حَتَّی کَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغِیبَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَأَنَا وَاللَّہِ مَا صَلَّیْتُ بَعْدُ ، فَنَزَلَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّی الْمَغْرِبَ بَعْدَ مَا صَلَّی الْعَصْرَ۔ (بخاری ۹۴۵۔ مسلم ۴۳۸)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حضرات فرماتے ہیں کہ بھولی ہوئی نماز کو اس وقت تک قضا نہ کرے جب تک سورج غروب یا طلوع نہ ہوجائے
(٤٧٩١) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ ہم ایک سفر میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے۔ ہم نے رات کو سفر کیا، رات کے آخری حصہ میں ہم نے پڑاؤ ڈالا اور اس پڑاؤ سے زیادہ محبوب کوئی پڑاؤ مسافر کے لیے نہیں ہوتا۔ پھر ہم ایسا سوئے کہ سورج کی گرمی نے ہمیں بیدار کیا۔ حضرت عمر اس موقع پر تکبیر کہنے لگے۔ جب لوگ بیدار ہوئے تو انھوں نے اس واقعہ کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شکایت کی۔ نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی پریشانی کی بات نہیں۔ یہاں سے چل پڑو۔ ابھی تھوڑا دور ہی گئے تھے کہ پھر قیام ہوا اور اذان دی گئی، اور نبی پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔
(۴۷۹۱) حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِی رَجَائٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ ، وَإِنَّا سَرَیْنَا اللَّیْلَۃَ حَتَّی إذَا کَانَ آخِرُ اللَّیْلِ وَقَعْنَا تِلْکَ الْوَقْعَۃَ ، وَلاَ وَقْعَۃَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَی مِنْہَا ، فَمَا أَیْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ، فَجَعَلَ عُمَرُ یُکَبِّرُ ، فَلَمَّا اسْتَیْقَظَ شَکَا النَّاسُ إلَیْہِ مَا أَصَابَہُمْ ، فَقَالَ : لاَ ضَیْرَ ، قَالَ : فَارْتَحَلُوا فَسَارُوا غَیْرَ بَعِیدٍ ، ثُمَّ نَزَلَ فَنُودِیَ بِالصَّلاَۃ ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ۔ (بخاری ۳۴۴۔ مسلم ۴۷۶)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی آدمی نماز پڑھ رہا ہو اور دورانِ نماز اسے کوئی دوسری نماز یاد آجائے
(٤٧٩٢) حضرت عامر اور حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تم عصر کی نماز پڑھ رہے ہو اور تمہیں یاد آجائے کہ ابھی تم نے ظہر کی نماز نہیں پڑھی تو نماز توڑ دو اور پہلے ظہر کی نماز پڑھو پھر عصر کی۔
(۴۷۹۲) حَدَّثَنَا شَرِیکٌ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ (ح) وَعَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالاَ: إذَا کُنْتَ فِی صَلاَۃِ الْعَصْرِ، فَذَکَرْت أَنَّک لَمْ تُصَلِّ الظُّہْرَ ، فَانْصَرِفْ فَصَلِّ الظُّہْرَ ، ثُمَّ صَلِّ الْعَصْرَ۔
তাহকীক: