মুসান্নাফ ইবনু আবী শাইবাহ (উর্দু)

الكتاب المصنف في الأحاديث و الآثار

نماز کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৬৩৩ টি

হাদীস নং: ৪৪৩৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایک آدمی نماز کا سجدہ تلاوت کرنا بھول جائے اور اسے دوسری نماز میں یاد آئے تو کیا کرے ؟
(٤٤٣٣) حضرت مجاہد سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کو اس بارے میں شک ہوجاتا ہے کہ اس نے سجدہ کیا یا نہیں، اب وہ بیٹھا ہوا ہے تو کیا کرے ؟ انھوں نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو سجدہ کرلو پھر جب نماز مکمل کرچکو تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے سہو کے کرلو۔ اور اگر تم چاہو تو سجدہ نہ کرو اور نماز کے آخر میں بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرلو۔
(۴۴۳۳) حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ لَیْثٍ ، عَنْ مُجَاہِدٍ ؛ فِی الرَّجُلِ یَشُکُّ فِی سَجْدَۃٍ وَہُوَ جَالِسٌ لاَ یَدْرِی سَجَدَہَا أَمْ لاَ ، قَالَ مُجَاہِدٌ : إِنْ شِئْتَ فَاسْجُدْہَا ، فَإِذَا قَضَیْتَ صَلاَتَکَ ، فَاسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ ، وَإِنْ شِئْتَ فَلاَ تَسْجُدْہَا ، وَاسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ فِی آخِرِ صَلاَتِک۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر کوئی شخص رکوع یاسجدے کی حالت میں آیت سجدہ سنے تو کیا کرے ؟
(٤٤٣٤) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے رکوع یا سجدے کی حالت میں آیت سجدہ سنی تو اس کے لیے یہی رکوع یا سجدہ کافی ہے۔
(۴۴۳۴) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : إذَا سَمِعَ السَّجْدَۃَ وَہُوَ رَاکِعٌ ، أَوْ سَاجِدٌ ، أَجْزَأَہُ رُکُوعُہُ وَسُجُودُہُ مِنَ السُّجُودِ بِہَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٣٥) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک مرتبہ نماز پڑھائی، اس میں اضافہ کردیا یا کمی فرمادی۔ جب آپ سلام پھیر کو لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے تو لوگوں نے کہا یارسول اللہ ! کیا نماز کے بارے میں کوئی نیا حکم نازل ہوا ہے ؟ آپ نے پوچھا کیوں، کیا ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے آج ایسی ایسی نماز پڑھائی ہے۔ آپ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی وقت اپنے قدموں کو موڑا اور دو سجدے فرمائے۔ پھر سلام پھیرا اور لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ پھر فرمایا کہ اگر نماز کے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہوتا تو میں تمہیں ضرور بتاتا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں، جیسے تم بھولتے ہو ایسے میں بھی بھول سکتا ہوں۔ جب میں نماز میں بھول جاؤں تو تم مجھے یاد کرادیا کرو۔ جب تم میں سے کسی کو نماز میں کوئی بھول چوک ہوجائے تو غور وفکر کرکے جو بات درست لگے اس پر عمل کرلے۔ پھر جب سلام پھیرے تو دو سجدے کرلے۔
(۴۴۳۵) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ، عَن عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِاللہِ، قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلاَۃً فَزَادَ ، أَوْ نَقَصَ ، فَلَمَّا سَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ بِوَجْہِہِ ، قَالُوا: یَا رَسُولَ اللہِ ، حَدَثَ فِی الصَّلاَۃ شَیْئٌ؟ قَالَ : وَمَا ذَاکَ ؟ قَالُوا : صَلَّیْتَ کَذَا وَکَذَا ، فَثَنَی رِجْلَہُ فَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : إِنَّہُ لَوْ حَدَثَ فِی الصَّلاَۃ شَیْئٌ أَنْبَأْتُکُمْ بِہِ ، وَلَکِنِّی بَشَرٌ أَنْسَی کَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِیتُ فَذَکِّرُونِی ، فَإِذَا سَہَا أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہ فَلْیَتَحَرَّ الصَّوَابَ فَلْیُتِمَّ عَلَیْہِ ، فَإِذَا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ۔ (بخاری ۴۰۱۔ ابوداؤد ۱۰۱۲)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٣٦) حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے تو شک کو زائل کردے اور یقین پر عمل کرے۔ اگر اس کو نماز کے مکمل ہونے کا یقین ہو تو ایک رکعت پڑھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔ اگر اس کی نماز مکمل ہوگئی تھی تو یہ رکعت اور دو سجدے نفل بن جائیں گے۔ اگر اس کی نماز نامکمل تھی تو اس رکعت کی وجہ سے مکمل ہوجائے گی اور دو سجدے شیطان کو ذلیل کردیں گے۔
(۴۴۳۶) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عْن عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلْیُلْغ الشَّکَّ ، وَیَبْنِ عَلَی الْیَقِینِ ، فَإِذَا اسْتَیْقَنَ التَّمَامَ رَکَعَ رَکْعَۃً وَسَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، فَإِنْ کَانَتْ صَلاَتُہُ تَامَّۃً ، کَانَتِ الرَّکْعَۃُ وَالسَّجْدَتَانِ نَافِلَۃً ، وَإِنْ کَانَتْ نَاقِصَۃً کَانَتِ الرَّکْعَۃُ تَمَامَ صَلاَتِہِ ، وَالسَّجْدَتَانِ یُرْغِمَانِ الشَّیْطَانَ۔ (ابوداؤد ۱۰۱۶۔ احمد ۳/۸۴)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٣٧) حضرت عون بن عبداللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر کے ساتھ ان کے کمرے میں ظہر سے پہلے کی چار رکعتیں پڑھیں۔ انھوں نے فرمایا کہ جب تمہیں نماز کے بارے میں شک ہو تو زیادہ پڑھو کم نہ پڑھو۔
(۴۴۳۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : صَلَّیْتُ مَعَ عُمَرَ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّہْرِ فِی بَیْتِہِ ، وَقَالَ : إذَا أَوْہَمْتَ فَکُنْ فِی زِیَادَۃٍ ، وَلاَ تَکُنْ فِی نُقْصَانٍ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٣٨) حضرت علی فرماتے ہیں کہ جب تمہیں نماز میں کمی یا زیادتی کے بارے میں شک ہو تو ایک رکعت پڑھ لو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ نماز پر عذاب نہیں دے گا۔ اگر نماز پوری نہ تھی تو اس رکعت کی وجہ سے پوری ہوجائے گی اور اگر یہ رکعت زیادہ ہوگئی تو اس کا اجر ہے۔
(۴۴۳۸) حَدَّثَنَا جَرِیرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : إذَا شَکَّ فِی الزِّیَادَۃِ وَالنُّقْصَانِ فَلْیُصَلِّ رَکْعَۃً ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ عَیََ زِیَادَۃٍ فِی صَلاَۃ ، فَإِنْ کَانَتْ تَمَامًا کَانَتْ لَہُ ، وَإِنْ کَانَتْ زِیَادَۃً کَانَتْ لَہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৩৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٣٩) حضرت علی فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں شک ہوجائے کہ نماز پوری کی ہے یا نہیں تو جو شک ہے اسے پورا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ زیادہ پڑھنے پر عذاب نہیں دے گا۔
(۴۴۳۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ: إذَا شَکَکْتَ فَلَمْ تَدْرِ، أَتْمَمْتَ، أَوْ لَمْ تُتِمَّ ، فَأَتْمِمْ مَا شَکَکْتَ ، فَإِنَّ اللَّہَ لاَ یُعَذِّبُ عَلَی الزِّیَادَۃِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٠) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اگر تم میں سے کسی کو نماز کی مقدار کے بارے میں شک ہوجائے تو غور و فکر کے بعد جو غالب گمان ہو اس پر عمل کرلے۔ اس کا غالب گمان یہ ہے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں تو ایک رکعت پڑھے اور سجدہ ٔ سہو کرے۔ اگر اس کا غالب گمان یہ ہو کہ اس نے چار رکعتیں پڑھ لی ہیں تو آخر میں صرف سجودِ سہو کرلے۔
(۴۴۴۰) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ خُصَیْفٍ ، عَنْ أَبِی عُبَیْدَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ ، فَلْیَتَحَرَّ أَکْثَرَ ظَنِّہِ ، فَلْیَبْنِ عَلَیْہِ ، فَإِنْ کَانَ أَکْثَرُ ظَنِّہِ أَنَّہُ صَلَّی ثَلاَثًا ، فَلْیَرْکَعْ رَکْعَۃً ، وَیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ، وَإِنْ کَانَ ظَنُّہُ أَرْبَعًا فَلْیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤١) حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ وہ غور وفکر کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
(۴۴۴۱) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الْحَجَّاجِ ، عَنِ الْحَکَمِ ، عَنْ أَبِی وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ : یَتَحَرَّی وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٢) حضرت ابن عمر فرمایا کرتے تھے کہ اگر کمی کا خیال بھی آرہا ہے تو اسے پورا کرے گا۔
(۴۴۴۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ أَیُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّہُ کَانَ یَقُولُ: یَتَوَخَّی الَّذِی یُرَی أَنَّہُ نَقَصَ فَیُتِمَّہُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৩
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٣) حضرت سالم فرماتے ہیں کہ اگر کسی کو شک ہوگیا کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک سے نجات حاصل کرلے اور سجودِ سہو کرے۔ یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ میں نے اس قول کا ذکر حضرت قاسم سے کیا تو انھوں نے فرمایا کہ میں بھی یہی کہتا ہوں، میں بھی یہی کہتا ہوں۔
(۴۴۴۳) حَدَّثَنَا عَبْدَۃُ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، قَالَ : إذَا شَکَّ فَلَمْ یَدْرِ أَثَلاَثًا صَلَّی أَمْ أَرْبَعًا ، فَلْیَرْمِ بِالشَّکِّ وَیَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ، فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِلْقَاسِمِ ، فَقَالَ : وَأَنَا کَذَاکَ أَقُولُ ، وَأَنَا کَذَاکَ أَقُولُ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৪
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٤) حضرت عطاء بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت کعب سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی کو اس بارے میں شک ہوجائے کہ اس نے تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ کیا کرے ؟ دونوں حضرات نے فرمایا کہ وہ ایک رکعت پڑھے پھر آخر میں بیٹھ کر سجدہ ٔ سہو کرے۔
(۴۴۴۴) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ حُبَابٍ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَالِکُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَفِیفِ بْنِ عَمْرٍو السَّہْمِیِّ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَبْدَ اللہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَکَعْبًا عَنِ الَّذِی یَشُکُّ فِی صَلاَتِہِ ، صَلَّی ثَلاَثًا ، أَوْ أَرْبَعًا ؟ فَکِلاَہُمَا قَالَ : لِیَقُمْ فَلْیُصَلِّ رَکْعَۃً ، ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ ، إذَا صَلَّی وَہُوَ جَالِسٌ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৫
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٥) حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ وہ غور وفکر کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
(۴۴۴۵) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ إبْرَاہِیمَ ، قَالَ : یَتَحَرَّی وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৬
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٦) حضرت سالم فرماتے ہں ا کہ جس چیز کا اسے یقین ہو اس پر بنا کرے گا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سجودِ سہو کرے گا ؟ انھوں نے فرمایا ہاں۔
(۴۴۴۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ یَحْیَی، عَنْ سَالِمٍ، قَالَ: یَبْنِی عَلَی مَا یَسْتَیْقِنُ، قِیلَ لَہُ: وَیَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ؟ قَالَ: نَعَمْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৭
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٧) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ رسول اللہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم میں سے کسی کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہوجائے کہ کتنی پڑھی ہے۔ تو اگر اس کو ایک یا دو رکعتوں کے بارے میں شک ہوا ہے تو ایک رکعت اور پڑھ لے تاکہ وہم زیادتی میں تبدیل ہوجائے۔ پھر تشہد کی حالت میں بیٹھ کر سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کرے، اس کے بعد سلام پھیرے۔ حضرت کریب کہتے ہیں کہ اس حدیث کے بارے میں حضرت عمر اور حضرت ابن عباس کا اختلاف ہوگیا تو حضرت عبد الرحمن بن عوف نے آکر بتایا کہ میں نے حضور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ حدیث سنی ہے۔
(۴۴۴۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللہِ بْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَکْحُولٍ ؛ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَ : إذَا شَکَّ أَحَدُکُمْ فِی صَلاَتِہِ فَلَمْ یَدْرِ زَادَ ، أَوْ نَقَصَ ، فَإِنْ کَانَ شَکَّ فِی الْوَاحِدَۃِ وَالثِّنْتَیْنِ ، فَلْیَجْعَلْہَا وَاحِدَۃً حَتَّی یَکُونَ الْوَہْمُ فِی الزِّیَادَۃِ ، ثُمَّ یَسْجُدْ سَجْدَتَیْنِ وَہُوَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَ ، ثُمَّ یُسَلِّمُ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ لِی حُسَیْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ : ہَلْ أَسْنَدَ لَکَ مَکْحُولٌ الْحَدِیثَ ؟ قَالَ مُحَمَّدٌ : ما سَأَلْتُہُ عَنْ ذَلِکَ ، قَالَ : فَإِنَّہُ ذَکَرَہُ عَنْ کُرَیْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ عُمَرَ ، وَابْنَ عَبَّاسٍ تَدَارَآ فِیہِ ، فَجَائَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ ، فَقَالَ : أنَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ہَذَا الْحَدِیثَ۔(ترمذی ۳۹۸۔ احمد ۱/۱۹۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৮
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٨) حضرت عبد الکریم کہتے ہیں کہ اگر حضرت سعید بن مسیب اور حضرت ابو عبیدہ کو نماز کی مقدار کے بارے میں وہم ہوجاتا اور یہ اندازہ نہ ہوتا کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار تو وہ دونوں سلام پھیرنے سے پہلے سجودِ سہو کیا کرتے تھے۔
(۴۴۴۸) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ فُرَاتٍ ، عَنْ عَبْدِ الْکَرِیمِ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ، وَأَبِی عُبَیْدَۃَ ؛ أَنَّہُمَا کَانَا إذَا وَہِمَا فِی صَلاَتِہِمَا ، فَلَمْ یَدْرِیَا ثَلاَثًا صَلَّیَا ، أَمْ أَرْبَعًا ، سَجَدَا سَجْدَتَیْنِ قَبْلَ أَنْ یُسَلِّمَا۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৪৯
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٤٩) حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر آپ اپنے حجرے میں تشریف لے گئے۔ ایک آدمی جنہیں خرباق کہا جاتا تھا وہ حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یارسول اللہ ! آپ نے آج یوں کیا ہے۔ اس پر نبی پاک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غصے سے چادر گھسیٹتے ہوئے باہر تشریف لائے اور لوگوں کے پاس پہنچ کر فرمایا کہ کیا یہ ٹھیک کہتا ہے ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ اس پر آپ نے وہ رکعت پڑھائی پھر سلام پھیر کردو سجدے کئے اور پھر سلام پھیرا۔
(۴۴۴۹) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ ، عَنْ أَبِی الْمُہَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ ، قَالَ : صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَسَلَّمَ مِنْ ثَلاَثِ رَکَعَاتٍ ، ثُمَّ دَخَلَ ، فَقَامَ إلَیْہِ رَجُلٌ ، یُقَالُ لَہُ : الْخِرْبَاقُ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، فَذَکَرَ لَہُ الَّذِی صَنَعَ ، فَخَرَجَ مُغْضَبًا یَجُرُّ رِدَائَہُ حَتَّی انْتَہَی إلَی النَّاسِ ، فَقَالَ : صَدَقَ ہَذَا ؟ فَقَالُوا : نَعَمْ ، فَصَلَّی تِلْکَ الرَّکْعَۃَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ سَلَّمَ۔ (مسلم ۱۰۱۔ ابوداؤد ۱۰۱۰)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫০
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٥٠) حضرت انس اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ وہ اپنے آخری وہم پر عمل کرے گا اور سجودِ سہو کرے گا۔
(۴۴۵۰) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَالْحَسَنِ ، قَالاَ : یَنْتَہِی إلَی آخِرِ وَہْمِہِ ، ثُمَّ یَسْجُدُ سَجْدَتَیْنِ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫১
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٥١) حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ جہاں تک ہوسکے شمار کرو اور نماز کا اعادہ نہ کرو۔
(۴۴۵۱) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ یَقُولُ : أَحْصِ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَلاَ تُعِدْ۔
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৪৫২
نماز کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی نے نماز پڑھی لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اس نے کتنی نماز پڑھ لی ، اب وہ کیا کرے ؟
(٤٤٥٢) حضرت عبد العزیز بن صہیب کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک نے تیسری رکعت میں قعدہ کردیا تو لوگوں نے پیچھے سے تسبیح کہی۔ وہ کھڑے ہوئے اور چوتھی رکعت مکمل فرمائی۔ جب سلام پھیرا تو سہو کے دو سجدے کئے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ جب تمہیں وہم ہوجائے تو یوں کرو۔
(۴۴۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ صُہَیْبٍ ؛ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ قَعَدَ فِی الرَّکْعَۃِ الثَّالِثَۃِ ، فَسَبَّحُوا بِہِ ، فَقَامَ فَأَتَمَّہُنَّ أَرْبَعًا ، فَلَمَّا سَلَّمَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْقَوْمِ بِوَجْہِہِ ، فَقَالَ : إذَا وَہَمْتُمْ فَاصْنَعُوا ہَکَذَا۔
tahqiq

তাহকীক: