সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
زکوة کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৭ টি
হাদীস নং: ১৬০৩
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کا بیان۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقہ فطر کے بارے میں یہ ہدایت کی ہے ہر چھوٹے اور بڑے اور آزاد اور غلام کی طرف سے ایک صاع کھجور صدقہ فطر کے طور پر ادا کیا جائے گا۔ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں پھر لوگوں نے دو " مد " گندم کو اس کے برابر قرار دے دیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَدَلَهُ النَّاسُ بِمُدَّيْنِ مِنْ بُرٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৪
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کا بیان۔
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے درمیان موجود تھے تو ہم صدقہ فطر کے طور پر چھوٹے بڑے آزاد اور غلام کی طرف اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا پنیر کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔ اور یہ معمول یوں ہی برقرار رہا یہاں تک کہ حضرت معاویہ (اپنے عہد حکومت میں) حج یا شاید عمرہ کے لیے مدینہ منورہ آئے تو انھوں نے فرمایا میرے خیال میں شام کی گندم کے دو مد ایک صاع کھجور کے برابر ہوتے ہیں تو لوگوں نے اس کے مطابق عمل کرنا شروع کردیا۔ حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو اسی طرح ادا کرتا ہوں جیسے پہلے ادا کیا کرتا تھا۔ امام دارمی فرماتے ہیں میرا خیال میں ہر چیز کا ایک صاع ادا کرنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ إِذْ كَانَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ حُرٍّ وَمَمْلُوكٍ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا فَقَالَ إِنِّي أَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ يَعْدِلُ صَاعًا مِنْ التَّمْرِ فَأَخَذَ النَّاسُ بِذَلِكَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ أَمَّا أَنَا فَلَا أَزَالُ أُخْرِجُهُ كَمَا كُنْتُ أُخْرِجُهُ قَالَ أَبُو مُحَمَّد أَرَى صَاعًا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৫
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کا بیان۔
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں ہم لوگ رمضان میں صدقہ فطر کے طور پر اناج کا ایک صاع یا کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع، یا کشمش کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ادا کیا کرتے تھے۔
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ادا کیا کرتے تھے (اس کے بعد حسب سابق ہے)
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ اقدس میں ادا کیا کرتے تھے (اس کے بعد حسب سابق ہے)
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ كُنَّا نُعْطِي عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৬
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کا بھتہ وصول کرنا حرام ہے
حضرت عقبہ بن عامر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جنت میں مکس (وصول کرنے والا) شخص داخل نہیں ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں یعنی بھتہ وصول کرنے والا۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ قَالَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي عَشَّارًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৭
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آسمان (یعنی بارش) سے سیراب ہونے والی اور اونٹنیوں کے ذریعے پانی لا کر سیراب کی جانے والی زمین میں عشر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
حضرت معاذ بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یمن بھیجا تو آپ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ زمینوں کو قدرتی طور پر پانی سے سیراب کیا جاتا ہے ان کے پھلوں میں سے دسواں حصہ وصول کرو اور جنہیں اونٹنیوں کے ذریعے پانی لا کر سیراب کیا جاتا ہے ان سے نصف عشر وصول کرو۔
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ مُعَاذٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ الثِّمَارِ مَا سُقِيَ بَعْلًا الْعُشْرَ وَمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ فَنِصْفَ الْعُشْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৮
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خزانے کا حکم
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جانور کے ذریعے زخمی ہونے کا کوئی جرمانہ نہیں ہے کنوئیں میں گرنے کا کوئی جرمانہ نہیں ہے کان میں مرجانے کا کوئی جرمانہ نہیں ہے اور خزانے میں خمس کی ادائیگی لازم ہوگی۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جُرْحُ الْعَجْمَاءِ جُبَارٌ وَالْبِئْرُ جُبَارٌ وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০৯
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ وصول کرنے والوں کو جو چیز بطور تحفہ دی جائے وہ کس کی ہوگی۔
حضرت ابوحمید انصاری بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کا عامل مقرر کیا وہ شخص اپنا کام کرکے جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرض کیا رسول اللہ یہ آپ کے لیے ہے یہ مجھے تحفہ کے طور پر دیا گیا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھو اور پھر دیکھو کہ تمہیں تحفہ کہیں سے ملتا ہے یا نہیں۔ راوی کہتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شام کے وقت نماز کے بعد منبر پر کھڑے ہوئے اور آپ نے کلمہ شہادت پڑھا اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد وثناء کی پھر ارشاد فرمایا صدقہ وصول کرنے والوں کو ہم اس کام کا نگران مقرر کرتے ہیں پھر یہ ہمارے پاس آکر کہتے ہیں کہ یہ آپ کے کام کی وصولی ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے وہ شخص اپنے ماں باپ کے گھر میں بیٹھ کیوں نہیں جاتا تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے کہ اب اسے ہدیہ ملتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس بارے میں جو بھی شخص ہمارے ساتھ دھوکا کرے گا قیامت کے دن وہ اسی کے ساتھ ہوگا اس نے اسے اپنے کندھوں پر اٹھایا ہوگا اگر وہ اونٹ ہوگا تو اسے لے کر آئے گا اور وہ اونٹ آوازیں نکال رہا ہوگا اگر وہ گائے ہوگی تو اسے لے کر آئے گا وہ گائے آوازیں نکال رہی ہوگی اگر وہ بکری ہوگی تو اسے لے کر آئے گا وہ بکری آوازیں نکال رہی ہوگی پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا میں نے تبلیغ کردی ہے۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی ہم نے دیکھ لی۔ حضرت ابوحمید بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات میرے ساتھ حضرت زید بن ثابت نے بھی سنی تھی تم ان سے پوچھ سکتے ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ثُمَّ السَّاعِدِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ عَامِلًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَجَاءَهُ الْعَامِلُ حِينَ فَرَغَ مِنْ عَمَلِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الَّذِي لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ فَنَظَرْتَ أَيُهْدَى لَكَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشِيَّةً بَعْدَ الصَّلَاةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ مَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ فَيَأْتِينَا فَيَقُولُ هَذَا مِنْ عَمَلِكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي فَهَلَّا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ فَيَنْظُرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَغُلُّ أَحَدُكُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا جَاءَ بِهِ لَهُ رُغَاءٌ وَإِنْ كَانَتْ بَقَرَةً جَاءَ بِهَا لَهَا خُوَارٌ وَإِنْ كَانَتْ شَاةً جَاءَ بِهَا تَيْعَرُ فَقَدْ بَلَّغْتُ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ ثُمَّ رَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ حَتَّى إِنَّا لَنَنْظُرُ إِلَى عُفْرَةِ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ وَقَدْ سَمِعَ ذَلِكَ مَعِي مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَسَلُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১০
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ وصول کرنے والا شخص جب تم سے واپس جائے تو اسے مطمئن ہونا چاہیے۔
حضرت جریر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جب صدقہ وصول کرنے والا شخص تمہارے پاس آئے تو وہ جب تمہارے پاس سے واپس جائے تو اسے تم سے مطمئن ہونا چاہیے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ وَمُجَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَكُمْ الْمُصَدِّقُ فَلَا يَصْدُرَنَّ عَنْكُمْ إِلَّا وَهُوَ رَاضٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الْفَزَارِيِّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১১
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو چیز مانگے بغیر ملی ہو اسے واپس کرنا مکروہ ہے۔
عمرو بن معاذ اپنی نانی جن کا نام حواء تھا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اے مسلم خواتین تم میں سے کوئی ایک اپنی پڑوسن کی طرف سے آئی ہوئی کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھے خواہ وہ بکری کا جلا ہوا پایا ہی کیوں نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُعَاذٍ الْأَشْهَلِيِّ عَنْ جَدَّتِهِ يُقَالُ لَهَا حَوَّاءُ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ يَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ لَا تَحْقِرَنَّ إِحْدَاكُنَّ لِجَارَتِهَا وَلَوْ كُرَاعُ شَاةٍ مُحَرَّقٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১২
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص اسلام قبول کرے تو اس کے غصب شدہ مال کا حکم
حضرت صخر بن عیلہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کی پھوپھی کو پکڑ لیا پھر میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا حضرت مغیرہ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنی پھوپھی کے بارے میں عرض کی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے صخر جب لوگ اسلام قبول کرلیں تو وہ اپنے احوال اور اپنی جان کو محفوظ کرلیتے ہیں تم اس خاتون کو ان لوگوں کے حوالے کردو۔ بنوسلیم کا ایک تالاب تھا جب ان لوگوں نے اسلام قبول کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا سوال کیا گیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا اے صخر جب کچھ لوگ اسلام قبول کرلیں وہ اپنے مال اور خون کو محفوظ کرلیتے ہیں اسے ان کے حوالے کردو۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے وہ ان کے حوالے کردیا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم یہ زیادہ طویل ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے تاہم یہ زیادہ طویل ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ صَخْرِ بْنِ الْعَيْلَةِ قَالَ أُخِذَتْ عَمَّةُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ فَقَدِمَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّتَهُ فَقَالَ يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَكَانَ مَاءٌ لِبَنِي سُلَيْمٍ فَأَسْلَمُوا فَسَأَلُوهُ ذَلِكَ فَدَعَانِي فَقَالَ يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْهَا إِلَيْهِمْ فَدَفَعْتُهُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ صَخْرٍ أَطْوَلَ مِنْ حَدِيثِ أَبِي نُعَيْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৩
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کرنے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص پاکیزہ مال میں سے جو بھی چیز صدقہ کرتا ہے ویسے اللہ تعالیٰ پاکیزہ چیز کو ہی قبول کرتا ہے اللہ اس چیز کو اپنے دست رحمت میں رکھ لیتا ہے اور اللہ تمہاری ایک کھجور کو اسی طرح پالتا پوستا ہے جیسے کوئی شخص اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ ایک کھجور احد پہاڑ جتنی ہوتی ہے۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصَدَّقَ امْرُؤٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا إِلَّا وَضَعَهَا حِينَ يَضَعُهَا فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ وَإِنَّ اللَّهَ لَيُرَبِّي لِأَحَدِكُمْ التَّمْرَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ أُحُدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৪
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کرنے کی فضیلت
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا صدقہ مال میں کوئی کمی نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ معاف کردینے سے بندے کی عزت میں اضافہ ہی کرتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اس کو بلندی عطا کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৫
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کام کاج میں استعمال ہونے والے اونٹوں پر زکوۃ فرض نہیں ہے۔
بہز بن حکیم اپنے والد کے حوالے سے اپنی دادی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جنگل میں چرنے والے ہر چالیس اونٹوں میں سے ایک بنت لبون (یعنی جو دو سال کی ہو کر تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو) کی ادائیگی لازم ہوگی اور اونٹوں کو اس کے حساب سے الگ نہیں کیا جائے گا جو شخص اجر کے حصول کے لیے زکوۃ ادا کرے گا تو اس کو اس کا اجر ملے گا اور جو شخص ادا نہیں کرے گا ہم وہ وصول کرلیں گے اور اس کے مال کا کچھ حصہ جرمانہ کے طور پر وصول کریں گے اور آل محمد کے لیے اس زکوۃ میں سے کچھ لینا جائز نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا بِهَا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةٌ مِنْ عَزَمَاتِ اللَّهِ لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৬
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس شخص کے لیے صدقہ لینا جائز ہے۔
حضرت قبیصہ بن مخارق بیان کرتے ہیں میرے اوپر کچھ رقم کی ادائیگی لازم ہوگئی میں وہ مانگنے کے لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا تو آپ نے ارشاد فرمایا اے قبیصہ یہاں ٹھہرو ہمارے پاس صدقہ کا مال آجائے تو ہم تمہارے لیے کچھ حکم کردیں گے پھر آپ نے فرمایا اے قبیصہ تین طرح کے لوگوں میں سے کسی ایک شخص کے لیے مانگنا جائز ہے ایک وہ شخص جس کے ذمہ کوئی ادائیگی لازم ہو اس کے لیے مانگنا جائز ہے وہ شخص مانگے یہاں تک کہ ادائیگی لازم ہوجائے تو مانگنے سے باز آجائے دوسرا وہ شخص جسے کوئی آفت لاحق ہو اور اس کا مال ضائع ہوجائے اس کے لیے مانگنا جائز ہے وہ مانگے گا یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو مانگنے سے باز آجائے گا۔ اور وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین دانش مند لوگ یہ کہہ دیں کہ فلاں شخص کو فاقہ لاحق ہوگیا ہے وہ مانگتا رہے گا یہاں تک کہ جب اس کی ضروریات پوری ہوجائیں گی تو اس کے علاوہ کسی بھی شخص کا مانگن احرام ہے اے قبیصہ اس طرح مانگ کر کھانے والا حرام کھائے گا۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هَارُونَ بْنِ رِيَابٍ حَدَّثَنِي كِنَانَةُ بْنُ نُعَيْمٍ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ قَالَ تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فِيهَا فَقَالَ أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا ثُمَّ قَالَ يَا قَبِيصَةُ إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَهَا ثُمَّ يُمْسِكَ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قَالَ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ حَتَّى يَقُولَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَى مِنْ قَوْمِهِ قَدْ أَصَابَ فُلَانًا الْفَاقَةُ فَحَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ثُمَّ يُمْسِكَ وَمَا سِوَاهُنَّ مِنْ الْمَسْأَلَةِ سُحْتٌ يَا قَبِيصَةُ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৭
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داروں کو صدقہ دینا۔
حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں ایک شخص نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے صدقات کے بارے میں دریافت کیا ان میں سے کون سا افضل ہے آپ نے جواب دیا وہ جو ایسے قریبی رشتہ دار کو دیا جائے جو باطنی طور پر تمہارے ساتھ دشمنی رکھتا ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّدَقَاتِ أَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৮
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داروں کو صدقہ دینا۔
حضرت سلیمان بن عامر نے بیان کیا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (ناواقف) غریب آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں ایک صدقہ دینا اور دوسرا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو حَاتِمٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ذَكَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬১৯
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داروں کو صدقہ دینا۔
حضرت سلیمان بن عامر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں (ناواقف) غریب آدمی کو صدقہ دینا صرف صدقہ ہے اور رشتہ دار کو صدقہ دینے میں دو پہلو ہیں ایک صدقہ دینا اور دوسرا رشتہ داری کے حقوق کا خیال رکھنا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ الرَّبَابِ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ يَرْفَعُهُ قَالَ الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ
তাহকীক: