সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
زکوة کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৭ টি
হাদীস নং: ১৫৮৩
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس شخص کے لیے صدقہ (وصول کرنا) حلال ہے
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) عنہروایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے خوشحال اور طاقت ور شخص کے لیے (صدقہ وصول کرنا جائز نہیں۔ امام ابومحمد دارمی فرماتے ہیں (اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ذی مرہ سوی سے مراد قوی طاقت ور ہے)
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ وَأَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ رَيْحَانَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ قَالَ أَبُو مُحَمَّد يَعْنِي قَوِيٍّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৪
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس شخص کے لیے صدقہ (وصول کرنا) حلال ہے
حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود مانگے گا وہ جب قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے میں داغ ہوں گے عرض کی گئی یا رسول اللہ خوشحالی کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا پچاس درہم یا ان کی قیمت جتنا سونا۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَفِي وَجْهِهِ خُمُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ أَوْ خُدُوشٌ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغِنَى قَالَ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৫
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اہل بیت کے لیے صدقہ وصول کرنا جائز نہیں ہے
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں حضرت امام حسن نے صدقے کی کھجور پکڑی اور اسے اپنے منہ میں ڈالنے لگے تو آپ نے فرمایا ارے ارے اسے رکھ دو کیا تمہیں پتا نہیں ہے ہم صدقہ نہیں کھاتے۔
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ أَخَذَ الْحَسَنُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِخْ كِخْ أَلْقِهَا أَمَا شَعَرْتَ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৬
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اہل بیت کے لیے صدقہ وصول کرنا جائز نہیں ہے
حضرت ابویعلی بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا حضرت علی (رض) کے صاحبزادے حسن بھی آپ کے پاس موجود تھے انھوں نے صدقے کی کھجوروں میں سے ایک کھجور پکڑی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ ان سے چھین لی اور فرمایا تمہیں پتہ نہیں ہے ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے۔
أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ عِيسَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّهُ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৭
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود سوال کرے اس کے بارے میں شدت کا سوال۔
حضرت معاویہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے مجھ سے کوئی چیز مانگتے ہوئے اصرار نہ کیا کرو اللہ کی قسم جو مجھ سے کوئی چیز مانگے گا اور میں ناپسندیدگی کی حالت میں اسے دے دوں گا تو اس شخص کو اس میں کوئی برکت نصیب نہ ہوگی۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَخِيهِ عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تُلْحِفُوا بِي فِي الْمَسْأَلَةِ فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ شَيْئًا فَأُعْطِيَهُ وَأَنَا كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৮
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود سوال کرے اس کے بارے میں شدت کا سوال۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان نقل کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص لوگوں سے کوئی چیز مانگے حالانکہ وہ اس کا محتاج نہ ہو تو وہ چیز اس کے چہرے میں ایک داغ ہوگی۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَأَلَ النَّاسَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْنًا فِي وَجْهِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৮৯
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مانگنے سے بچنا۔
حضرت ابوسعیدخدری (رض) بیان کرتے ہیں انصار سے تعلق رکھنے والے بعض افراد نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ مانگا آپ نے انھیں عطا کردیا انھوں نے اور مانگا آپ نے انھیں عطا کردیا یہاں تک کہ آپ کے پاس سارا مال ختم ہوگیا تو آپ نے ارشاد فرمایا میرے پاس جو بہترین چیز موجود ہوگی وہ میں تم سے چھپا کر نہیں رکھوں گا اور جو شخص مانگنے سے بچے گا اللہ اسے بچا کر رکھے گا اور جو شخص بےنیازی اختیار کرے گا اللہ اسے بےنیاز کردے گا اور جو شخص صبر اختیار کرے اللہ اسے صبر عطا کرے گا اور کسی بھی شخص کو ایسی چیز نہیں دی گئی جو صبر سے زیادہ بہتر اور وسعت والی ہو۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَاسًا مِنْ الْأَنْصَارِ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَاهُمْ ثُمَّ سَأَلُوهُ فَأَعْطَاهُمْ حَتَّى إِذَا نَفِدَ مَا عِنْدَهُ قَالَ مَا يَكُونُ عِنْدِي مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ أَدَّخِرَهُ عَنْكُمْ وَمَنْ يَسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللَّهُ وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً هُوَ خَيْرٌ وَأَوْسَعُ مِنْ الصَّبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯০
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہدیہ واپس کرنے کی ممانعت
حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کوئی چیز عطا کی تو میں نے عرض کیا آپ یہ اسے عطا کردیں جس کو مجھ سے زیادہ ضرورت ہو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اسے لو اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح سے جو مال عطا کرے اگر تم اسراف نہیں کرتے اور تم مانگتے نہیں اور اسے وصول کرلو اور جو تمہیں نہیں ملتا اس کی وجہ سے خود کو پریشان نہ کرو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
ابن سعدی بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے مجھے عامل مقرر کیا (اس کے بعد انھوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے )
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
ابن سعدی بیان کرتے ہیں حضرت عمر نے مجھے عامل مقرر کیا (اس کے بعد انھوں نے اسی طرح روایت نقل کی ہے )
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ أَعْطِهِ مَنْ هُوَ أَفْقَرُ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْهُ وَمَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ عَنْ عُمَرَ بِنَحْوِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ السَّعْدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ فَذَكَرَ نَحْوًا مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯১
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مانگنے کی ممانعت
حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک چیز مانگی آپ نے مجھے عطا کردی میں نے پھر مانگی آپ نے پھر عطا کردی آپ سے پھر مانگی پھر آپ نے عطا کردی میں نے پھر مانگی تو آپ نے ارشاد فرمایا یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے جو شخص نفس کی سخاوت کے ہمراہ اسے وصول کرے گا اس کے لیے اس میں برکت رکھ دی گئی اور جو شخص نفس کی حرص کے ہمراہ اسے حاصل کرے گا اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی گئی اور اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو کھا کر بھی سیر نہیں ہوتا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ حَكِيمَ بْنَ حِزَامٍ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْطَانِي ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَقَالَ يَا حَكِيمُ إِنَّ هَذَا الْمَالَ خَضِرٌ حُلْوٌ فَمَنْ أَخَذَهُ بِسَخَاوَةِ نَفْسٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ وَمَنْ أَخَذَهُ بِإِشْرَافِ نَفْسٍ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَكَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯২
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کس شخص کے لیے صدقہ کرنا کب مستحب ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے۔ آدمی اس شخص سے کرنا چاہیے جو اس کے زیر کفالت ہو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ حَدَّثَنِي هِشَامٌ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৩
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوپر والے ہاتھ کی فضیلت
حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا اوپر والا ہاتھ لینے والا ہاتھ ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى قَالَ وَالْيَدُ الْعُلْيَا يَدُ الْمُعْطِي وَالْيَدُ السُّفْلَى يَدُ السَّائِلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৪
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اوپر والے ہاتھ کی فضیلت
حضرت حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے بہترین صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں دیا جائے اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے تم آغاز ان لوگوں سے کرو جو تمہارے زیر کفالت ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يَذْكُرُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৫
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کون سا صدقہ افضل ہے۔
حضرت عبداللہ کی اہلیہ سیدہ زینب بیان کرتی ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے خواتین صدقہ دیا کرو خواہ وہ تمہارے زیور کیوں نہ ہو۔ حضرت زینب بیان کرتی ہیں حضرت عبداللہ ان دنوں تنگ دست تھے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں دریافت کرنے کے لے گئے تو زینب نامی ایک انصاری خاتون مجھے ملی اس نے بھی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وہی سوال کرنا تھا جو میں نے کرنا تھا میں نے حضرت بلال سے کہا آپ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مسئلہ پوچھ کر بتائیں کہ میں اپنا صدقہ کہاں خرچ کرو کیا عبداللہ پر یا اپنے رشتہ داروں پر حضرت بلال نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا تو آپ نے دریافت کیا کون سی والی زینب ہے، حضرت بلال نے عرض کی حضرت عبداللہ کی اہلیہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو دو طرح کا اجر ملے گا ایک رشتہ داری کا دوسرا صدقہ کرنے کا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سُلَيْمَانُ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْأَلُهُ فَوَافَقَتْ زَيْنَبَ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ أَضَعُ صَدَقَتِي عَلَى عَبْدِ اللَّهِ أَوْ فِي قَرَابَتِي فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ فَقَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الْقَرَابَةِ وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৬
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کون سا صدقہ افضل ہے۔
حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کھجوروں کے باغ کی ملکیت کے حوالے سے حضرت ابوطلحہ مدینہ منورہ میں سب سے امیر انصاری تھے انھیں اپنے باغات میں سب سے زیادہ بیرحاء نامی باغ محبوب تھا جو مسجد کے مقابل میں تھا اور نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے تھے وہاں پاکیزہ پانی پیتے تھے اور حضرت انس (رض) یہ بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی " تم لوگ اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک وہ چیزیں خرچ نہ کرو جو تمہیں پسند ہیں اور جو چیز تم خرچ کروگے اس سے اللہ واقف ہے " حضرت ابوطلحہ بولے میرا سب سے پسندیدہ مال بیرحاء ہے، یہ صدقہ ہے اور میں اللہ کی بارگاہ میں اس کے ثواب کے امیدوار ہوں یا رسول اللہ آپ اسے جہاں چاہیں خرچ کرسکتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا بہت عمدہ اور نفع بخش (راوی کو شک ہے یا شاید آپ نے فرمایا) فائدہ مند مال ہے تم نے جو کہا میں نے اسے سن لیا تاہم میری رائے یہ ہے کہ تم اسے اپنے قریبی عزیزوں میں خرچ کردو حضرت ابوطلحہ نے عرض کی یا رسول اللہ میں ایسا ہی کروں گا۔ (راوی کہتے ہیں) پھر حضرت ابوطلحہ نے وہ باغ اپنے چچازاد رشتے داروں میں تقسیم کردیا۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ أَبُو طَلْحَةَ أَكْثَرَ أَنْصَارِيٍّ بِالْمَدِينَةِ مَالًا نَخْلًا وَكَانَتْ أَحَبَّ أَمْوَالِهِ إِلَيْهِ بَيْرُحَاءُ وَكَانَتْ مُسْتَقْبِلَةَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ يَدْخُلُهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا طَيِّبٌ فَقَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ قَالَ إِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءُ وَإِنَّهَا صَدَقَةٌ لِلَّهِ أَرْجُو بِرَّهَا وَذُخْرَهَا عِنْدَ اللَّهِ فَضَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ شِئْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ أَوْ رَائِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ فِيهِ وَإِنِّي أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ فِي الْأَقْرَبِينَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَسَّمَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي قَرَابَةِ بَنِي عَمِّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৭
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کرنے کی ترغیب دینا۔
حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں جب بھی خطبہ دیا تو آپ نے اس میں ہمیں صدقہ کرنے کی ہدایت کی اور مثلہ کرنے سے منع کیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ هَيَّاجِ بْنِ عِمْرَانَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَمَرَنَا فِيهَا بِالصَّدَقَةِ وَنَهَانَا عَنْ الْمُثْلَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৮
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ کرنے کی ترغیب دینا۔
حضرت عدی بن حاتم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں آگ سے بچنے کی کوشش کرو خواہ ایک کھجور کے ٹکرے کے ذریعے ہی ہو اگر وہ بھی نہ ملے تو پاکیزہ بات کے ذریعے (آگ) سے بچو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ خَيْثَمَةَ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৯৯
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے پاس سارا مال موجود صدقہ کرنے کی ممانعت۔
حضرت عبدالرحمن بن ابولبابہ بیان کرتے ہیں حضرت ابولبابہ نے انھیں بتایا کہ جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے راضی ہوگئے تو انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ میری توبہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ میں اپنی قوم کے گھر سے علیحدگی اختیار کرتا ہوں اور آپ کے پاس سکونت اختیار کرتا ہوں اور اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کرتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہارے لیے ایک تہائی (مال صدقہ کرنا) ہی کافی ہوگا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ دُحَيْمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ لَمَّا رَضِيَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي وَأُسَاكِنَكَ وَأَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِي عَنْكَ الثُّلُثُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০০
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ آدمی کا اپنے پاس سارا مال موجود صدقہ کرنے کی ممانعت۔
حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ ہم نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھے ایک شخص انڈے کی طرح کا سونا لے کر آپ کے پاس آیا جو اسے کسی جنگ میں ملا تھا (ایک روایت میں ہے) کسی کان میں سے ملا تھا اور یہی زیادہ صحیح ہے اس نے عرض کی یا رسول اللہ یہ میری طرف سے صدقہ کے طور پر قبول کیجئے اللہ کی قسم میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا پھر وہ دوسری جانب سے آپ کے پاس آیا اور وہی بات عرض کی پھر وہ آپ کے سامنے کی جانب سے آیا اور وہی بات عرض کی پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناراضگی کے عالم میں فرمایا لاؤ پھر آپ نے وہ اس کی طرف پھینکا اگر وہ اسے لگ جاتا تو وہ زخمی ہوجاتا (یا شاید مر ہی جاتا) پھر آپ نے فرمایا کوئی شخص اپنے مال کو صدقہ کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور مال نہیں ہوتا پھر وہ اسے صدقہ کردیتا ہے اور خود لوگوں سے مانگنے کے لیے بیٹھ جاتا ہے صدقہ وہ ہے جو خوشحالی کے عالم میں ہو (پھر آپ نے اس سے فرمایا) اپنا یہ پکڑو ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ (راوی کہتے ہیں) اس شخص نے وہ مال پکڑا اور چلا گیا۔ امام دارمی فرماتے ہیں امام مالک فرماتے ہیں جب کوئی شخص اپنا مال غریبوں میں بانٹنا چاہے تو وہ ایک تہائی مال صدقہ کرے۔
أَخْبَرَنَا يَعْلَى وَأَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ بِمِثْلِ الْبَيْضَةِ مِنْ ذَهَبٍ أَصَابَهَا فِي بَعْضِ الْمَغَازِي قَالَ أَحْمَدُ فِي بَعْضِ الْمَعَادِنِ وَهُوَ الصَّوَابُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا مِنِّي صَدَقَةً فَوَاللَّهِ مَا لِي مَالٌ غَيْرَهَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ جَاءَهُ عَنْ رُكْنِهِ الْأَيْسَرِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ هَاتِهَا مُغْضَبًا فَحَذَفَهُ بِهَا حَذْفَةً لَوْ أَصَابَهُ لَأَوْجَعَهُ أَوْ عَقَرَهُ ثُمَّ قَالَ يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى مَالِهِ لَا يَمْلِكُ غَيْرَهُ فَيَتَصَدَّقُ بِهِ ثُمَّ يَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسَ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى خُذْ الَّذِي لَكَ لَا حَاجَةَ لَنَا بِهِ فَأَخَذَ الرَّجُلُ مَالَهُ وَذَهَبَ قَالَ أَبُو مُحَمَّد كَانَ مَالِكٌ يَقُولُ إِذَا جَعَلَ الرَّجُلُ مَالَهُ فِي الْمَسَاكِينِ يَتَصَدَّقُ بِثُلُثِ مَالِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০১
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی آدمی کا اپنے پاس موجود سب کچھ صدقہ کردینا۔
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں صدقہ کرنے کی ہدایت کی میرے پاس اس وقت مال موجود تھا میں نے سوچا آج میں ابوبکر (رض) پر سبقت لے جاؤں گا حضرت عمر کہتے ہیں میں اپنا نصف مال لے کر آگیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے میں نے جواب دیا اتنا ہی۔ حضرت عمر نے بتایا کہ حضرت ابوبکر (رض) اپنا سارا مال لے کر آئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا تم نے اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے تو انھوں نے جواب دیا میں نے ان کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑا ہے حضرت عمر کہتے ہیں میں آئندہ کبھی بھی کسی بھی معاملے میں آپ کا مقابلہ نہیں کروں گا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ مَالًا عِنْدِي فَقُلْتُ الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ قُلْتُ مِثْلَهُ قَالَ فَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ فَقَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ فَقَالَ أَبْقَيْتُ لَهُمْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقُلْتُ لَا أُسَابِقُكَ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৬০২
زکوة کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صدقہ فطر کا بیان۔
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رمضان کے صدقہ فطر میں کھجور کا ایک صاع یا جو کا ایک صاع ہر آزاد یا غلام مرد یا عورت مسلمان پر لازم کیا ہے۔ امام دارمی سے سوال کیا گیا آپ اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں انھوں نے جواب دیا امام مالک بھی اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ قِيلَ لِأَبِي مُحَمَّدٍ تَقُولُ بِهِ قَالَ مَالِكٌ كَانَ يَقُولُ بِهِ
তাহকীক: