সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
خرید وفروخت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ২৪৭৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض کے بارے میں شدید تاکید۔
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح جسم سے جدا ہو اور وہ شخص تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے تکبر سے خیانت سے اور قرض سے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کے ذمے قرض ہو اس کی نماز جنازہکا حکم۔
حضرت عبداللہ بن ابوقتادہ (رض) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ایک شخص کی میت کو لایا گیا تاکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے ارشاد فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو میں اس لیے نہیں پڑھ رہا کیونکہ اس کے ذمے قرض ہے۔ حضرت ابوقتادہ (رض) نے عرض کی اس کی ادائیگی کا میں ذمہ لیتاہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا پورے کا۔ حضرت ابوقتادہ (رض) نے عرض کی پورے کا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی۔
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ وَأَبُو الْوَلِيدِ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا قَالَ أَبُو قَتَادَةَ هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بِالْوَفَاءِ قَالَ بِالْوَفَاءِ قَالَ فَصَلَّى عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ایسے شخص کی نماز جنازہ کے بارے میں رخصت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست اقدس میں میری جان ہے۔ روئے زمین پر جو بھی مومن ہے میں باقی سب لوگوں کے مقابلے میں اس کے زیادہ قریب ہوں لہٰذا جو مومن کوئی قرض یا کنبہ چھوڑ کر مرے گا تو اس کے بارے میں مجھے بلایا جائے گا کیونکہ میں اس کا نگران ہوں اور جو شخص کوئی مال چھوڑ کر جائے گا تو وہ اس کے قریبی رشتے داروں کو مل جائے گا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ ضیاع سے مراد اہل خانہ ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں مجھے بلایا جائے گا سے مراد یہ ہے کہ تم لوگ اس قرض کی ادائیگی کے لیے مجھے بلاؤ۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ إِلَّا أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِهِ فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْأُدْعَ لَهُ فَأَنَا مَوْلَاهُ وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ قَالَ عَبْد اللَّهِ ضَيَاعًا يَعْنِي عِيَالًا وَقَالَ فَلْأُدْعَ لَهُ يَعْنِي ادْعُونِي لَهُ أَقْضِ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض دینے والے کی مدد کی جاتی ہے۔
حضرت عبداللہ بن جعفر بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کا فضل قرض خواہ کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کردے جب تک وہ کسی ایسے کام کو انجام نہیں دیتا جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن جعفر نے اپنے خزانچی سے کہا تھا جاؤ اور میرے لینے والا لے آؤ کیونکہ جب سے میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبانی یہ بات سنی ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں کوئی ایسی رات بسر کروں جس میں اللہ میرے ساتھ نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُفْيَانَ مَوْلَى الْأَسْلَمِيِّينَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الدَّائِنِ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ مَا لَمْ يَكُنْ فِيمَا يَكْرَهُ اللَّهُ قَالَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ يَقُولُ لِخَازِنِهِ اذْهَبْ فَخُذْ لِي بِدَيْنٍ فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَبِيتَ لَيْلَةً إِلَّا وَاللَّهُ مَعِي بَعْدَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاریتا لی ہوئی چیز کی واپس ادائیگی۔
حضرت سمرہ بن جندب روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ ارشاد فرمایا ہے آدمی کے ہاتھ نے جو حاصل کیا ہو اس کی ادائیگی اس پر لازم ہے یہاں تک کہ وہ اسے واپس کردے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امانت ادا کرنا اور خیانت سے پرہیز کرنا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جس شخص نے تمہیں امانت سونپی تھی اس کی امانت اسے واپس ادا کردو اور جو شخص تمہارے ساتھ خیانت کرے تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ عَنْ شَرِيكٍ وَقَيْسٍ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَدِّ إِلَى مَنْ ائْتَمَنَكَ وَلَا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کوئی چیز توڑ دے اس کے اوپر اس کی مانند چیز کی ادائیگی لازم ہوگئی۔
حضرت انس روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک زوجہ نے آپ کی خدمت میں ایک پیالہ بھیجا جس میں ثرید موجود تھا اس وقت آپ دوسری زوجہ کے ہاں تھے اس دوسری زوجہ نے اس پیالے کو مار کر توڑ دیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ثرید کو اٹھا کر ہتھیلی پر رکھا اور ارشاد فرمایا کھالو تمہاری والدہ کو غصہ آگیا تھا۔ پھر آپ انتظار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ صحیح پیالہ لے آئیں آپ نے وہ پیالہ لیا اور ان محترمہ کو ادا کیا جو ٹوٹے ہوئے پیالے کی مالک تھیں۔ امام دارمی فرماتے ہیں ہم بھی اسی بات کے قائل ہیں۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَهْدَى بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ وَهُوَ فِي بَيْتِ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ فَضَرَبَتْ الْقَصْعَةَ فَانْكَسَرَتْ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ الثَّرِيدَ فَيَرُدُّهُ فِي الصَّحْفَةِ وَهُوَ يَقُولُ كُلُوا غَارَتْ أُمُّكُمْ ثُمَّ انْتَظَرَ حَتَّى جَاءَتْ قَصْعَةٌ صَحِيحَةٌ فَأَخَذَهَا فَأَعْطَاهَا صَاحِبَةَ الْقَصْعَةِ الْمَكْسُورَةِ قَالَ عَبْد اللَّهِ نَقُولُ بِهَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملی ہوئی چیز کا حکم۔
سفیان کے دو صاحبزادے عمرو اور عاصم بیان کرتے ہیں حضرت سفیان بن عبداللہ (رض) کو ایک تھیلی ملی وہ اسے لے کر حضرت عمر کے پاس آئے حضرت عمر نے ہدایت کی کہ ایک سال تک اس کا اعلان کرتے رہو اگر اس کی شناخت ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ یہ تمہاری ہوئی۔ اتنے عرصے کے تک کوئی شناخت نہ ہوئی اگلے سال حج کے موقع پر سفیان بن عبداللہ (رض) پھر اس تھیلی کے ہمراہ حضرت عمر کے پاس حاضر ہوئے اور اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے فرمایا یہ تمہاری ہوئی کیونکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس بات کی ہدایت کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے حضرت عمر نے اس تھیلی کو اپنے قبضے میں کرلیا اور اسے بیت المال میں جمع کردیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ عَمْرٍو وَعَاصِمٍ ابْنَيْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ الثَّقَفِيِّ أَنَّ سُفْيَانَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَجَدَ عَيْبَةً فَأَتَى بِهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ عُرِفَتْ فَذَاكَ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ فَلَمْ تُعْرَفْ فَلَقِيَهُ بِهَا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي الْمَوْسِمِ فَذَكَرَهَا لَهُ فَقَالَ عُمَرُ هِيَ لَكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهَا فَقَبَضَهَا عُمَرُ فَجَعَلَهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجیوں کی گری ہوئی چیز اٹھانے کی ممانعت۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں فتح مکہ کے سال نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کے لشکر کو مکہ میں داخل ہونے نہیں دیا اور اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر غلبہ نصیب کیا خبردار یہ بات مجھ سے پہلے کسی کے لیے جائز نہیں تھی اور میرے بعد بھی کسی کے لیے جائز نہیں ہوگی کہ وہ مکہ پر حملہ کرے خبردار آج کی اس گھڑی سے یہ قابل احترام ہے اس کی گھاس کو نہیں کاٹا جائے گا اس کے درخت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور اس میں گری ہوئی چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا البتہ کوئی شخص اعلان کرنے کے لیے اٹھائے تو اسے اس کی اجازت ہے۔
أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّهُ عَامَ فُتِحَتْ مَكَّةُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهِمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ أَلَا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي وَلَا تَحِلُّ لِأَحَدٍ بَعْدِي أَلَا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لَا يُخْتَلَى خَلَاهَا وَلَا يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلَا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ چیز کا بیان۔
جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کسی دوسرے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৮৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گم شدہ چیز کا بیان۔
حضرت جارود بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے تم ہرگز اس کے قریب نہ جانا۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اگر کوئی گری ہوئی چیز ہمیں مل جائے تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم اس کا اعلان کرو تم اسے چھپاؤ نہیں تم اسے پوشیدہ نہیں رکھو۔ اگر اس کا مالک آجائے تو وہ چیز اس کے سپرد کردو ورنہ اللہ کا مال ہے جسے چاہے عطاکرے۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَذْمِيِّ عَنْ الْجَارُودِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ لَا تَقْرَبَنَّهَا قَالَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا قَالَ أَنْشِدْهَا وَلَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے۔
حضرت ابوامامہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا جو شخص قسم اٹھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو لازم کردیتا ہے اور جنت اس کے لیے حرام کردیتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کی یا رسول اللہ اگرچہ وہ عام چیز ہو آپ نے فرمایا اگرچہ وہ پیلو کی ایک شاخ ہو۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَإِنْ قَضِيبٌ مِنْ أَرَاكٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹی قسم کا حکم۔
حضرت ابوذر روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تین طرح کے لوگوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کلام نہیں کرے گا ان کی طرف نظر کرم نہیں کرے گا ان کا تزکیہ نہیں کرے گا اور ان لوگوں کے لے دردناک عذاب ہوگا حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں میں نے فرمایا یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں یہ تو ذلیل بھی ہوئے اور خسارے کا بھی شکار ہوئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بات دہرائی میں نے عرض کی یا رسول اللہ یہ کون لوگ ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تکبر کے طور پر شلوار یا تہبند کو لٹکا کر چلنے والا شخص، احسان جتلانے والا اور جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرنے والا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُدْرِكٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هُمْ خَابُوا وَخَسِرُوا فَأَعَادَهَا فَقُلْتُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الْمُسْبِلُ وَالْمَنَّانُ وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ كَاذِبًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکرا ہتھیالے۔
حضرت سعید بن زید بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص بطور ظلم زمین کا چھوٹا ساٹکڑا ہتھیالے تو سات زمینوں کے برابر وزنی طوق اس کے گلے میں ڈالا جائے گا۔
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ظَلَمَ مِنْ الْأَرْضِ شِبْرًا فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی بےآباد زمین کو آباد کرے وہ اس کی ہوجائے گی۔
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے اسے اس زمین سے اجر ملے گا اس زمین سے جو بھی پرندے کھائیں گے وہ اس زمین میں اس شخص کے لیے صدقہ شمار ہوگا۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس حدیث میں استعمال ہونے والے لفظ العافیہ سے مراد پرندے وغیرہ ہیں۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَلَهُ فِيهَا أَجْرٌ وَمَا أَكَلَتْ الْعَافِيَةُ مِنْهَا فَلَهُ فِيهَا صَدَقَةٌ قَالَ أَبُو مُحَمَّد الْعَافِيَةُ الطَّيْرُ وَغَيْرُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا ٹکڑا عطا کرنا۔
حضرت ابیض بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زمین کا ایک ٹکڑا مانگا جس کا نام شذ مآرب تھا۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں عطا کردیا پھر حضرت اقرع بن حابس تمیمی نے عرض کی اے اللہ کے نبی زمانہ جاہلیت میں وہ حصہ میں نے حاصل کیا تھا یہ وہ زمین ہے جہاں پانی نہیں ہوتا اور وہ شخص جو وہاں تک پہنچ جائے وہ اسے اپنے قبضے میں لے سکتا ہے اس کی مثال پانی کی طرح ہے جو مسلسل جاری ہو۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابیض بن حمال سے وہ قطعہ اراضی واپس کرنے کے لیے کہا۔ حضرت ابیض کہتے ہیں میں نے عرض کی میں وہ آپ کو اس شرط پر واپس کروں گا کہ آپ اسے میری طرف سے صدقہ بنادیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ تمہاری طرف سے صدقہ ہے اور اس کی مثال اس پانی کی طرح ہے جو لگاتار بہتا ہے جو شخص اس تک پہنچ جائے اسے حاصل کرلے۔ حضرت ابیض بیان کرتے ہیں پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کچھ قطعہ اراضی اور کھجوروں کا ایک باغ بطن وادی میں عطا کیا۔ حضرت ابیض کی مراد یہ ہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو ان سے قطعہ اراضی واپس لیا تھا اس کے عوض میں یہ مجھے عطا کیا۔ فرج نامی راوی کہتے ہیں وہ قطعہ اراضی اسی حالت میں رہا جو شخص اس تک پہنچ جائے وہ اسے قبضے میں کرے گا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ السَّبَائِيُّ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ أَنَّ أَبَاهُ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ اسْتَقْطَعَ الْمِلْحَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَأَقْطَعَهُ ثُمَّ إِنَّ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْيَضَ فِي قَطِيعَتِهِ فِي الْمِلْحِ فَقُلْتُ قَدْ أَقَلْتُهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ وَهُوَ مِثْلُ مَاءِ الْعِدِّ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ قَالَ وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَكَذَا بِالْجَوْفِ جَوْفِ مُرَادٍ مَكَانَهُ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ قَالَ الْفَرَجُ فَهُوَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زمین کا ٹکرا عطا کرنا۔
علقمہ بیان کرتے ہیں اپنے والد کے حوالے سے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں زمین کا ایک ٹکڑا عطا کیا حضرت وائل بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاویہ کو میرے ساتھ بھیجا اور ارشاد فرمایا وہ زمین اسے دے دو ۔ یحییٰ بیان کرتے ہیں یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِي مُعَاوِيَةَ قَالَ أَعْطِهَا إِيَّاهُ قَالَ يَحْيَى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پودے لگانے کی فضیلت۔
حضرت زید بن حارثہ کی اہلیہ سیدہ ام مبشر بیان کرتی ہیں میرے باغ میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور دریافت کیا اے ام مبشر یہ باغ کسی مسلمان نے لگایا ہے یا کافر نے میں نے جواب دیا مسلمان نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو بھی مسلمان پودا لگاتا ہے اس میں سے کوئی جانور یا پرندہ کھاتا ہے تو وہ چیز اس کے لیے صدقہ ہوجاتی ہے۔
أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ مُبَشِّرٍ امْرَأَةُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِي فَقَالَ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ أَمُسْلِمٌ غَرَسَ هَذَا أَمْ كَافِرٌ قُلْتُ مُسْلِمٌ فَقَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَغْرِسُ غَرْسًا فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ أَوْ دَابَّةٌ أَوْ طَيْرٌ إِلَّا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چراگاہ کا بیان۔
حضرت ابیض بیان کرتے ہیں انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے چراگاہ کے اردگرد چاردیواری کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسی چاردیواری کی کوئی گنجائش نہیں ہے حضرت ابیض نے عرض کی میں اپنی زمین کے اردگرد چار دیواری کرنا چاہتا ہوں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایسی چاردیواری کی کوئی ضرورت نہیں ہے فرج نامی راوی بیان کرتے ہیں حظاری سے مراد وہ زمین ہے جہاں کھیت ہوں اور اس کے اردگرد چار دیواری قائم کی گئی ہو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ سَعِيدٍ عَنْ جَدِّهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حِمَى الْأَرَاكِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ فَقَالَ أَرَاكَةٌ فِي حِظَارِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِمَى فِي الْأَرَاكِ قَالَ فَرَجٌ يَعْنِي أَبْيَضُ بِحِظَارِي الْأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৯৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پانی کو فروخت کرنے کی ممانعت۔
حضرت ایاس بن عبد مزنی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کرام میں شامل ہیں بیان کرتے ہیں پانی کو فروخت نہ کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پانی کو فروخت کرنے سے منع کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ عمرو بن دینار فرماتے ہیں ہمیں پتہ نہیں اس سے کون سا پانی مراد ہے وہ فرماتے ہیں مجھے نہیں پتہ اس سے مراد پینے والا پانی ہے یا جسے کنویں سے نکالا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ قَالَ سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ عَبْدٍ الْمُزَنِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبِيعُوا الْمَاءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ لَا نَدْرِي أَيَّ مَاءٍ قَالَ يَقُولُ لَا أَدْرِي مَاءً جَارِيًا أَوْ الْمَاءَ الْمُسْتَقَى
তাহকীক: