সুনানুদ্দারিমী (উর্দু)
مسند الدارمي (سنن الدارمي)
خرید وفروخت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৬ টি
হাদীস নং: ২৪৫৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ولاء کو فروخت کرنے کی ممانعت
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں حکم یوں ہی ہے ولاء کو نہ تو فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہبہ کیا جاسکتا ہے۔
أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدبر غلام کو فروخت کرنا
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری بیان کرتے ہیں ہم میں سے ایک شخص نے مدبر غلام کو آزاد کردیا حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غلام کو بلوا کر اسے فروخت کروا دیا۔ حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں وہ شخص اس سے اگلے برس انتقال کر گیا۔
أَخْبَرَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَّا عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ قَالَ فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَاعَهُ قَالَ جَابِرٌ وَإِنَّمَا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ام ولد کو فروخت کرنا۔
حضرت ابن عباس (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں جب کسی شخص کی کنیز اس کے بچے کو جنم دے تو وہ اس شخص کے مرنے کے بعد آزاد ہوجائے گی۔
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وَلَدَتْ أَمَةُ الرَّجُلِ مِنْهُ فَهِيَ مُعْتَقَةٌ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ أَوْ بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کے صاع اور مد کا بیان
حضرت انس بن مالک بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے اللہ ان (مدینے والوں) کے ماپنے کے آلات میں برکت عطا کر صاع اور ان کے مد میں برکت عطا کر (راوی کہتے ہیں اہل مدینہ کے بارے میں دعا کی ہے)
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَنَفِيُّ الْمَدَنِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اناج کو صرف برابر برابر فروخت کیا جاسکتا ہے
حضرت بلال بیان کرتے ہیں میرے پاس نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کھجوروں کا ایک مد موجود تھا مجھے اس سے زیادہ اچھی کھجوریں ملی تو میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خرید لی انھیں لے کر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا آپ نے دریافت کیا اے بلال یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں میں نے عرض کی میں نے دو صاع کے عوض میں ایک صاع خریدا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تم انھیں واپس کردو اور ہماری کھجوریں واپس لے آؤ۔
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ كَانَ عِنْدِي مُدُّ تَمْرٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ أَطْيَبَ مِنْهُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ مِنْهُ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا يَا بِلَالُ قُلْتُ اشْتَرَيْتُ صَاعًا بِصَاعَيْنِ قَالَ رُدَّهُ وَرُدَّ عَلَيْنَا تَمْرَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اناج کو صرف برابر برابر فروخت کیا جاسکتا ہے
حضرت ابوسعید (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنوعدی سے تعلق رکھنے والے ایک انصاری صاحب کو خیبر کا عامل مقرر کیا وہ خیبر سے عمدہ کھجوریں لے کر آئے (اس حدیث کے راوی عبداللہ بن مسلمہ فرماتے ہیں حدیث میں لفظ جدید سے مراد عمدہ ہے) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس عامل سے دریافت کیا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہوتی ہیں اس نے عرض کی نہیں اللہ کی قسم یا رسول اللہ ہم نے دو صاع عام کھجوروں کے عوض میں ان کا ایک صاع خریدا ہے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ایسا نہ کرو بلکہ ان کی برابر، برابر خریدو فروخت کیا کرو یا پھر انھیں فروخت کر کے ان کی قیمت کے ذریعے دوسری کھجوریں حاصل کرلو وزن کے ذریعے خریدو فروخت کی جانے والی چیزوں میں بھی ایسا ہی کرو۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَأَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَخَا بَنِي عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ فَاسْتَعْمَلَهُ عَلَى خَيْبَرَ فَقَدِمَ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ قَالَ ابْنُ مَسْلَمَةَ يَعْنِي جَيِّدًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَشْتَرِي الصَّاعَ بِالصَّاعَيْنِ مِنْ الْجَمْعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَفْعَلُوا وَلَكِنْ مِثْلًا بِمِثْلٍ أَوْ بِيعُوا هَذَا وَاشْتَرُوا بِثَمَنِهِ مِنْ هَذَا وَكَذَلِكَ الْمِيزَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف کی ممانعت۔
حضرت عمر بن خطاب بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے سونے کو سونے کے عوض میں دست بدست اور چاندی کو چاندی کے عوض میں دست بدست اور کھجور کو کھجور کے عوض میں دست بدست اور گندم کو گندم کے عوض میں دست بدست اور جو کو جو کے عوض میں دست بدست فروخت کرو ان میں کوئی کمی بیشی نہ کرو۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّصْرِيِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ هَاءَ وَهَاءَ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ هَاءَ وَهَاءَ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ هَاءَ وَهَاءَ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ هَاءَ وَهَاءَ وَلَا فَضْلَ بَيْنَهُمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صرف کی ممانعت۔
ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں حضرت معاویہ کے عہد حکومت میں کچھ لوگوں نے تنخواہ کے عوض میں سونے اور چاندی کے برتن فروخت کئے تو حضرت عبادہ بن صامت کھڑے ہوئے اور فرمایا بیشک نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی کو اور گندم کے عوض میں گندم اور کھجوروں کے عوض میں کھجور اور جو کے عوض میں جو اور نمک کے عوض میں نمک کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ انھیں برابر فروخت کیا جاسکتا ہے جبکہ یہ دونوں ایک جیسے ہوں جب کوئی شخص ان میں کوئی اضافہ کرے گا یا کرو ائے گا تو وہ سودی لین دین ہوگا۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ قَالَ قَامَ نَاسٌ فِي إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ يَبِيعُونَ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَامَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ فَمَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سود صرف ادھار میں ہوتا ہے۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا سود ادھار میں ہوتا ہے امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو درہم کے عوض میں ایک درہم (قرض دیا جائے)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَعْنَاهُ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سونے کے عوض میں چاندی کی شکل میں ادائیگی کی رخصت۔
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے میں نے انھیں دیناروں کے عوض میں فروخت کیا تھا لیکن معاوضے میں درہم وصول کرلیے اور کبھی ایسا بھی ہوا کہ میں نے درہم کے عوض میں فروخت کیا اور دینار وصول کرلیے (اس روایت کے الفاظ میں اختلاف ہے) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں میں نے انھیں قبضے میں لیا اور پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ میں آپ سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں میں نے بقیع میں اونٹ فروخت کئے ہیں میں نے انھیں دینار کے عوض میں فروخت کیا ہے اور معاوضے میں درہم وصول کئے یا درہم کے عوض میں فروخت کیا تھا اور معاوضے میں دینار وصول کرلیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں ہے اگر تم نے آج کے سودے میں خریدا ہے جب تک تم دونوں فریق جدا نہ ہوئے ہو اور تمہارے درمیان کوئی اور شرط نہیں تھی۔ (یا قیمت کی ادائیگی باقی نہ رہ گئی تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنْتُ أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ وَرُبَّمَا قَالَ أَقْبِضُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ فَأَبِيعُ بِالدَّنَانِيرِ وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ وَأَبِيعُ بِالدَّرَاهِمِ وَآخُذُ الدَّنَانِيرَ قَالَ لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِكَ مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৬৯
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رہن کا حکم۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وصال ہوا تو اس وقت آپ کی زرہ ایک یہودی کے پاس تین صاع کے عوض میں رہن رکھی ہوئی تھی۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ دِرْعَهُ لَمَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭০
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سلف کا حکم۔
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں جب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ دو یا تین سال کے وعدے پر سلف کرلیتے تھے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پھلوں پر سلف کرلیا کرو جب کہ ان کی مقدار اور وزن معلوم ہو سفیان اس حدیث کو طویل عرصے تک بیان کرتے رہے اور اس میں یہ بات بھی ذکر کی کہ ادائیگی کی مدت بھی طے شدہ ہونی چاہیے عبداللہ بن کبیر نے انھیں اس بارے میں شک میں مبتلا کردیا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يُسْلِفُونَ فِي الثِّمَارِ فِي سَنَتَيْنِ وَثَلَاثٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلِّفُوا فِي الثِّمَارِ فِي كَيْلٍ مَعْلُومٍ وَوَزْنٍ مَعْلُومٍ وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ يَذْكُرُهُ زَمَانًا إِلَى أَجَلٍ مَعْلُومٍ ثُمَّ شَكَّكَهُ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭১
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض کی اچھے طریقے سے ادائیگی۔
حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں طے شدہ ادائیگی کے برابر دہم کا وزن کرکے دیا اور اس میں اضافہ کیا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَنَ لَهُمْ دَرَاهِمَ فَأَرْجَحَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭২
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وزن میں اضافہ کرنا۔
حضرت سوید بن قیس بیان کرتے ہیں میں اور مخرمہ عبدی نے بحرین سے ایک کپڑا خریدا اور مکہ لے آئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے ہمارے ساتھ ایک پاجامے کا سودا کیا راوی کو شک ہے آپ نے ہم سے ایک پاجامہ خریدا وہاں وزن کرنے والا ایک شخص موجود تھا جو معاوضے کا وزن کرتا تھا آپ نے اس وزن کرنے والے سے فرمایا تم وزن کرو اور زیادہ تول دینا۔ (یعنی قیمت زیادہ کرنا) پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں تشریف لے گئے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ تو اللہ کے رسول تھے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ جَلَبْتُ أَنَا وَمَخْرَمَةُ الْعَبْدِيُّ بَزًّا مِنْ الْبَحْرَيْنِ إِلَى مَكَّةَ فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي فَسَاوَمَنَا بِسَرَاوِيلَ أَوْ اشْتَرَى مِنَّا سَرَاوِيلَ وَثَمَّ وَزَّانٌ يَزِنُ بِالْأَجْرِ فَقَالَ لِلْوَزَّانِ زِنْ وَأَرْجِحْ فَلَمَّا ذَهَبَ يَمْشِي قَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৩
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض کی ادائیگی میں صاحب حثیت آدمی کا تاخیر کرنا ظلم ہے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا قرض کی ادائیگی میں صاحب مال آدمی کا تاخیر کرنا ظلم ہے جب کسی شخص کو بقیہ قرض کی وصولی کسی کے حوالے سے کیا جائے تو اسے ایسا کرلینا چاہیے۔
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ وَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَتْبَعْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৪
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تنگ دست شخص کو مہلت دینا۔
عبداللہ بن کعب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں انھوں نے ابن ابی درد سے اپنے قرض کی واپسی کا مسجد میں مطالبہ کیا جو ابن ابی حدرد کے ذمے لازم تھا ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئی تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت اپنے گھر میں موجود تھے آپ نے آواز سن لی آپ ان دونوں کے پاس تشریف لائے اور بلند آواز سے کہا اے کعب انھوں نے عرض کی یا رسول اللہ میں حاضر ہوں آپ نے فرمایا تم اپنا اتنا قرض معاف کردو آپ نے اشارے کے ذریعے انھیں حکم دیا کہ نصف قرض معاف کردو حضرت کعب نے عرض کی میں نے ایساہی کیا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن ابی حدرد سے ارشاد فرمایا اٹھو اور تم بقیہ قرض ادا کردو۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا فَنَادَى يَا كَعْبُ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَيْ الشَّطْرَ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَ قُمْ فَاقْضِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৫
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے۔
حضرت ابوایسر بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی تنگ دست مقروض کو مہلت دے یا اسے کچھ قرض معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اس دن اس شخص کو اپنے رحمت کے سائے میں رکھے گا جس دن اللہ کی رحمت کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ راوی کہتے ہیں پھر انھوں نے اسے صحیفے (اس قرض کا معاہدہ تحریر تھا پر تھوک دیا اور بولے جاؤ یہ تمہارا ہے) یعنی یہ مقروض سے کہا راوی کہتے ہیں انھوں نے یہ بات بتائی کہ وہ مقروض تنگ دست شخص تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ رِبْعِيٍّ عَنْ أَبِي الْيَسَرِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ قَالَ فَبَزَقَ فِي صَحِيفَتِهِ فَقَالَ اذْهَبْ فَهِيَ لَكَ لِغَرِيمِهِ وَذَكَرَ أَنَّهُ كَانَ مُعْسِرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৬
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص کسی تنگ دست کو مہلت دے۔
حضرت ابوقتادہ (رض) بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص اپنے مقروض کو مہلت دے یا اسے کچھ قرض معاف کردے تو قیامت کے دن وہ شخص عرش کے سائے میں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَفَّسَ عَنْ غَرِيمِهِ أَوْ مَحَا عَنْهُ كَانَ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৭
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی شخص کسی مفلس کے پاس اپنا سامان پائے۔
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کسی مفلس آدمی کے پاس اپنا مال بعینہ پائے تو دوسرے کے مقابلے میں وہ شخص اس کا زیادہ مستحق ہوگا۔
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَدْرَكَ مَالَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ إِنْسَانٍ قَدْ أَفْلَسَ أَوْ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৪৭৮
خرید وفروخت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قرض کے بارے میں شدید تاکید۔
حضرت ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا مومن کی جان اس وقت تک لٹکی رہے گی جب تک اس کے ذمے قرض باقی رہے گا۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُ الْمُؤْمِنِ مُعَلَّقَةٌ مَا كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ
তাহকীক: