মা'আরিফুল হাদীস

মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়

হাদীস নং: ১৭০০
মু‘আশারাত ও মু‘আমালাত অধ্যায়
ضروری ہے کہ نکاح چوری چھپے نہ ہو اعلانیہ ہو
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نکاح بالاعلان کیا کرو اور مسجدوں میں کیا کرو اور دف بجوایا کرو ۔ (جامع ترمذی)

تشریح
رسول اللہ ﷺ کی اس ہدایت کا مقصد بظاہر یہی ہے کہ نکاح چوری چھپے نہ ہو اوس میں بڑے مفاسد کا خطرہ ہے لہذا بالاعلان کیا جائے ۔ اور اس کے لئے آسان اور بہتر یہ ہے کہ مسجد میں کیا جائے ، مسجد کی برکت بھی حاصل ہو گی اور لوگوں کو جمع کرنے جوڑنے کی زحمت بھی نہ ہو گی ، گواہوں شاہدوں کی شرط بھی آپ سے آپ پوری ہو جائے گی ۔
حضور ﷺ کے زمانے میں نکاح و شادی کی تقریب کے موقع پر دف بجانے کا رواج تھا اور بلاشبہ اس تقریب کا تقاضا ہے کہ بالکل خشک نہ ہو ، کچھ تفریح کا بھی سامان ہو اس لئے آپ ﷺ نے دَف بجانے کی اجازت بلکہ ایک گونہ ترغیب دی ۔
کتاب المعاشرت والمعاملات
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعْلِنُوا هَذَا النِّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدُّفُوفِ. (رواه الترمذى)
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান