আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮৫৫
سیر کا بیان
حکمران لشکر کو گھر واپسی سے نہ روکے
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں اگر حکمران غازیوں کو روکے گا وہ غلط کرے گا اور سب اس کی مخالفت کر کے واپس جاسکتے ہیں۔
(١٧٨٤٩) عبداللہ بن کعب بن مالک انصاری فرماتے ہیں کہ انصار کا لشکر اپنے امیر کے ساتھ فارس میں تھا اور حضرت عمر (رض) کا معمول تھا کہ ایک سال بعد لشکر کو واپس بلاتے تھے۔ حضرت عمر (رض) ان سے غافل ہوگئے۔ جب مقررہ وقت گزر گیا تو سرحد والے لوگ لوٹ آئے۔ امیر نے ان پر سختی کی اور ڈرایا اور یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابی تھے۔ انھوں نے عمر (رض) سے کہا : آپ ہم سے غافل ہوگئے اور آپ نے ہمارے بارے میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کو ترک کردیا کہ لشکر کو تھوڑا تھوڑا کر کے واپس لایا جائے۔
(١٧٨٤٩) أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ سَعْدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِہَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الأَنْصَارِیِّ : أَنَّ جَیْشًا مِنَ الأَنْصَارِ کَانُوا بِأَرْضِ فَارِسَ مَعَ أَمِیرِہِمْ وَکَانَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ یُعَقِّبُ الْجُیُوشَ فِی کُلِّ عَامٍ فَشُغِلَ عَنْہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَلَمَّا مَرَّ الأَجَلُ قَفَلَ أَہْلُ ذَلِکَ الثَّغْرِ فَاشْتَدَّ عَلَیْہِ وَأَوْعَدَہُمْ وَہُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالُوا : یَا عُمَرُ إِنَّکَ غَفِلْتَ عَنَّا وَتَرَکْتَ فِینَا الَّذِی أَمَرَ بِہِ النَّبِیُّ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مِنْ إِعْقَابِ بَعْضِ الَغَزِیَّۃِ بَعْضًا۔ [صحیح۔ اخرجہ السجستانی ]