আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮২৪
سیر کا بیان
جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٨) ابو نضرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے متعلق سوال کیا { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } انھوں نے کہا : اس سے مراد اہل ضرر ہیں، یعنی لوگ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر جہاد نہیں کرسکتے تھے۔ تکالیف اور بیماری نے ان کو جانے سے روک لیا تھا اور دوسرے لوگ صحیح ہونے کے باوجود نہیں جاتے تھے۔ لہٰذا بیمار لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں معذور قرار دیا۔
(١٧٨١٨) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضْرَمِیُّ عَنْ أَبِی عَقِیلٍ عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا عَنْ قَوْلِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ غَیْرِ أُولِی الضَّرَرِ } [النسائ : ٩٥] قَالَ : ہُمْ أُولُو الضَّرَرِ قَوْمٌ کَانُوا عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لاَ یَغْزُونَ مَعَہُ کَانَتْ تَحْبِسُہُمْ أَوْجَاعٌ وَأَمَرَاضٌ وَآخَرُونَ أَصْحَائُ فَکَانَ الْمَرْضَی أَعْذَرَ مِنَ الأَصْحَائِ ۔ [صحیح ]