আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

سیر کا بیان

হাদীস নং: ১৭৮২৩
سیر کا بیان
جس کو جہاد چھوڑنے میں بڑھاپے، بیماری، اپاہج پن یا دائمی مرض کا عذر ہو

اللہ تعالیٰ کا جہاد کے بارے میں فرمان ہے : { لَیْسَ عَلَی الضُّعَفَآئِ وَ لَا عَلَی الْمَرْضٰی وَ لَا عَلَی الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰہِ و
(١٧٨١٧) حضرت خارجہ بن زید بن ثابت اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکینت نے ڈھانپ لیا اور میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پہلو میں تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر گری تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران سے زیادہ بھاری کوئی چیز نہیں پائی۔ پھر آپ کی یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لکھو ! { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَالْمُجٰھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ فَضَّلَ اللّٰہُ الْمُجٰھِدِیْنَ بِاَمْوَالِھِمْ وَ اَنْفُسِھِمْ۔۔۔} [النساء ٩٥] پوری آیت۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ یہ آیت میں نے کندھے (کی ہڈی) پر لکھی تو ابن ام مکتوم جو نابینا آدمی تھے، کھڑے ہوئے۔ جب انھوں نے مجاہدین کی فضیلت بیٹھنے والوں پر سنی تو انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس آدمی کا کیا حال ہے جو مومنین کے ساتھ جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ ابھی ابن ام مکتوم کی کلام ختم نہیں ہوئی تھی کہ پھر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکونت نے ڈھانپ لیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ران میری ران پر آگئی تو میں نے اس دفعہ بھی ویسے ہی بوجھ محسوس کیا جیسا کہ پہلی دفعہ محسوس کیا تھا۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ والی حالت جاتی رہی اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھیے تو میں نے پڑھی : { لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : { غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ } حضرت زید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے اس ٹکڑے کو اس آیت میں ملا دیا اور یہ ٹکڑا کندھے کی مضبوط ہڈی پر لکھا ہوا تھا۔
(١٧٨١٧) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ بْنُ شَرِیکٍ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْحَکَمِ بْنِ أَبِی مَرْیَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِی الزِّنَادِ حَدَّثَنِی أَبُو الزِّنَادِ أَنَّ خَارِجَۃَ بْنَ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدَّثَہُ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ السَّکِینَۃَ غَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَالَ زَیْدٌ وَأَنَا إِلَی جَنْبِہِ فَوَقَعَتْ فَخِذُ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - عَلَی فَخِذِی فَمَا وَجَدْتُ شَیْئًا أَثْقَلَ مِنْ فَخِذِ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - ثُمَّ سُرِّیَ عَنْہُ فَقَالَ : اکْتُبْ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُجَاہِدُونَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ بِأَمْوَالِہِمْ وَأَنْفُسِہِمْ } [النساء ٩٥] ۔ الآیَۃَ کُلَّہَا قَالَ زَیْدٌ فَکَتَبْتُ ذَلِکَ فِی کَتِفٍ فَقَامَ ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ وَکَانَ رَجُلاً أَعْمَی حِینَ سَمِعَ فَضِیلَۃَ الْمُجَاہِدِینَ عَلَی الْقَاعِدِینَ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَیْفَ بِمَنْ لاَ یَسْتَطِیعُ الْجِہَادَ مَعَ الْمُؤْمِنِینَ ؟ قَالَ فَمَا قَضَی ابْنُ أُمِّ مَکْتُومٍ کَلاَمَہُ أَوْ مَا ہُوَ إِلاَّ أَنْ فَصَلَ کَلاَمَہُ فَغَشِیَتْ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - السَّکِینَۃُ فَوَقَعَتْ فَخِذُہُ عَلَی فَخِذِی فَوَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا الْمَرَّۃَ مِثْلَمَا وَجَدْتُ مِنْ ثِقَلِہَا فِی الْمَرَّۃِ الأُولَی ثُمَّ سُرِّیَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَقَالَ : اقْرَأْ ۔ فَقَرَأْتُ { لاَ یَسْتَوِی الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ } [النساء ٩٥] فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - { غَیْرُ أُولِی الضَّرَرِ } [النساء ٩٥] قَالَ زَیْدٌ : فَأَلْحَقْتُہَا وَکَانَ مَلْحَقَتُہَا عِنْدَ صَدْعٍ فِی الْکَتِفِ ۔ [صحیح لغیرہ ]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে বাইহাকী (উর্দু) - হাদীস নং ১৭৮২৩ | মুসলিম বাংলা