আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮১৭
سیر کا بیان
کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨١١) یزید بن ہرمز فرماتے ہیں کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور وہ آپ سے خلال کے متعلق پوچھ رہے تھے تو حضرت ابن عباس (رض) نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابن عباس (رض) حروریوں سے خط و کتابت کرتے ہیں اور اگر مجھے علم چھپانے کا ڈر نہ ہوتا تو میں اس کو کبھی نہ لکھتا۔ نجدہ نے ان کو لکھا : اما بعد ! مجھے یہ بتائیے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ غزوہ کرتے تھے اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے حصہ مقرر کرتے تھے ؟ اور کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمیت کب پوری ہوتی ہے اور خمس کے متعلق بتائیے کہ وہ کس کے لیے ہے ؟ پھر ابن عباس (رض) نے ان کی طرف لکھا کہ تم نے مجھ سے پوچھا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عورتوں کے ساتھ مل کر غزوہ کرتے تھے ؟ انھوں نے کہا : ہاں عورتیں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ غزوہ میں شریک ہوتی تھیں لیکن وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور بیماروں کی تیمار داری کرتی تھیں اور انھیں غنیمت میں سے دیا جاتا تھا لیکن ان کا حصہ مقرر نہ تھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ پس تم بھی ان کو قتل نہ کرنا ما سوائے اس کے کہ تم ان بچوں میں وہ کچھ جان لو جو کچھ خضر (علیہ السلام) نے جانا تھا اور اسی طرح مومن اور کافر کے درمیان تمیز کرنا پس کافر کو قتل کردینا اور مومن کو چھوڑ دینا اور اسی طرح تو نے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمیت کب پوری اور مکمل ہوتی ہے۔ آپ نے فرمایا : میری عمر کی قسم ! بعض دفعہ آدمی کی داڑھی نکل آتی ہے اور اس کو لین دین کا کوئی پتہ نہیں ہوتا۔ وہ اس معاملے میں بالکل کمزور ہوتا ہے اور جس کو وہ سمجھ بوجھ حاصل ہوجائے جو باقی لوگوں کو ہوتی ہے تو اس کی یتیمیت ختم ہوجاتی ہے اور تم نے مجھ سے خمس کے متعلق سوال کیا ہے تو ہم کہا کرتے تھے : یہ ہمارے لیے ہے لیکن قوم نے ہم پر انکار کردیا (کہ یہ تمہارا نہیں) تو ہم نے صبر کیا۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔
اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ رہے غلام اور عورتیں تو ان کے لیے جب یہ جنگ میں حاضر ہوتے تو کوئی خاص حصہ مقرر نہیں تھا، لیکن وہ قوم کے غنائم میں سے کچھ لے لیتے تھے۔
(١٧٨١١) أَخْبَرَنَا أَبُو زَکَرِیَّا بْنُ أَبِی إِسْحَاقَ وَأَبُو بَکْرٍ : أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ أَخْبَرَنَا حَاتِمٌ یَعْنِی ابْنَ إِسْمَاعِیلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ : أَنَّ نَجْدَۃَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ یَسْأَلُہُ عَنْ خِلاَلٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : إِنَّ نَاسًا یَقُولُونَ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ یُکَاتِبُ الْحَرُورِیَّۃَ وَلَوْلاَ أَنِّی أَخَافُ أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا لَمْ أَکْتُبْ إِلَیْہِ فَکَتَبَ نَجْدَۃُ إِلَیْہِ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ ؟ وَہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ ؟ وَہَلْ کَانَ یَقْتُلُ الصِّبْیَانَ وَمَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَعَنِ الْخُمُسِ لِمَنْ ہُوَ ؟
فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِیِّ الَّذِی قَتَلَ فَتُمَیِّزَ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْکَافِرِ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَکَتَبْتَ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلَعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ ضَعِیفُ الإِعْطَائِ فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ ہُوَ لَنَا فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شَیْئٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ [صحیح ]
فَکَتَبَ إِلَیْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِی ہَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ یَغْزُو بِہِنَّ یُدَاوِینَ الْمَرْضَی وَیُحْذَیْنَ مِنَ الْغَنِیمَۃِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ یَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - لَمْ یَقْتُلِ الْوِلْدَانَ فَلاَ تَقْتُلْہُمْ إِلاَّ أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْہُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنَ الصَّبِیِّ الَّذِی قَتَلَ فَتُمَیِّزَ بَیْنَ الْمُؤْمِنِ وَالْکَافِرِ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ وَکَتَبْتَ مَتَی یَنْقَضِی یُتْمُ الْیَتِیمِ وَلَعَمْرِی إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْیَتُہُ وَإِنَّہُ لَضَعِیفُ الأَخْذِ ضَعِیفُ الإِعْطَائِ فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِہِ مِنْ صَالِحِ مَا یَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَہَبَ عَنْہُ الْیُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِی عَنِ الْخُمُسِ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ ہُوَ لَنَا فَأَبَی ذَلِکَ عَلَیْنَا قَوْمُنَا فَصَبَرْنَا عَلَیْہِ ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ أَبِی شَیْبَۃَ وَإِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِیلَ ۔
(ت) وَرُوِّینَا فِی حَدِیثِ قَیْسِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ یَزِیدَ بْنِ ہُرْمُزَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا فِی ہَذَا الْحَدِیثِ : وَأَمَّا النِّسَائُ وَالْعَبِیدُ فَلَمْ یَکُنْ لَہُمْ شَیْئٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ وَلَکِنْ یُحْذَوْنَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ ۔ [صحیح ]