আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৮১৬
سیر کا بیان
کن پر جہاد کرنا واجب نہیں
(١٧٨١٠) حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ میری ماں مجھے مدینہ میں لے کر آئی تو لوگوں نے ان کی طرف نکاح کے پیغام بھیجے تو انھوں نے کہا کہ میں نکاح اس آدمی سے کروں گی جو اس یتیم کی پرورش کرے گا تو انھوں نے انصار میں سے ایک آدمی سے نکاح کرلیا تو آپ ہر سال انصار کے بچوں کو جب ان کو پیش کیا جاتا ان میں سے جس کے اندر صلاحیت معلوم کرتے اس کو لشکر میں بھیج دیتے۔ حضرت سمرہ بن جندب (رض) فرماتے ہیں کہ ایک سال مجھے اور میرے ساتھ ایک اور لڑکے کو پیش کیا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو قبول کرلیا اور مجھے رد کردیا۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ نے اس کو قبول کرلیا ہے اور مجھے واپس کردیا ہے۔ اگر میں اسے گرا لوں تو کیا پھر میں بھی جاسکتا ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو تم دونوں کشتی کرلو تو کہتے ہیں : میں نے اسے پچھاڑ دیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے بھی اجازت دے دی۔
(١٧٨١٠) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْہَرَوِیُّ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِیدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِیُّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : أَتَتْ بِی أُمِّی فَقَدِمَتِ الْمَدِینَۃَ فَخَطَبَہَا النَّاسُ فَقَالَتْ : لاَ أَتَزَوَّجُ إِلاَّ بِرَجُلٍ یَکْفُلُ لِی ہَذَا الْیَتِیمَ فَتَزَوَّجَہَا رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - یَعْرِضُ غِلْمَانَ الأَنْصَارِ فِی کُلِّ عَامٍ فَیُلْحِقُ مَنْ أَدْرَکَ مِنْہُمْ قَالَ وَعُرِضْتُ عَامًا فَأَلْحَقَ غُلاَمًا وَرَدَّنِی فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللَّہِ لَقَدْ أَلْحَقْتَہُ وَرَدَدْتَنِی وَلَوْ صَارَعْتُہُ لَصَرَعْتُہُ قَالَ : فَصَارِعْہُ ۔ فَصَارَعْتُہُ فَصَرَعْتُہُ فَأَلْحَقَنِی۔ [صحیح ]