আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

سیر کا بیان

হাদীস নং: ১৭৭৯১
سیر کا بیان
جو آدمی اس بات کو ناپسند کرے کہ جس زمین سے اس نے ہجرت کی ہے اسی میں اس کو موت آئے اس کا بیان
(١٧٧٨٥) حضرت عمرو قاری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور جب آپ حنین جانے لگے تو آپ نے حضرت سعد (رض) کو پیچھے چھوڑ دیا اور جب آپ جعرانہ سے عمرہ کرنے آئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت سعد کے پاس تشریف لائے اور وہ تکلیف سے نڈھال غشی کی حالت میں تھے۔ (افاقہ کے بعد) حضرت سعد (رض) نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! میں مال دار آدمی اور میرا وارث بھی کوئی نہیں ہے (یعنی کلالہ) کیا میں سارے مال کی وصیت کر جاؤں یا صدقہ کر دوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے کہا : کیا دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : کیا آدھے مال کی وصیت کر دوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں۔ انھوں نے پھر کہا : کیا ایک تہائی مال کو صدقہ کر دوں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ! اور یہ بھی زیادہ ہے۔ پھر حضرت سعد (رض) نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایسی جگہ پر بیماری میں مبتلا ہوں، جہاں سے میں نے ہجرت کی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے درجات کو بلند کرے اور تیرے ذریعے سے کچھ لوگوں کو نقصان پہنچائے اور بعض کو فائدہ۔ پھر آپ نے کہا : اے عمرو بن قاری ! اگر میرے بعد سعد فوت ہوجائے تو اسے یہاں دفن کرنا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے راستے کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا۔ یہ روایت بھی سفیان کی روایت کے موافق ہے جس میں ہے کہ یہ واقعہ عام الفتح میں پیش آیا جبکہ باقی رواۃ زہری کے طریق سے کہتے ہیں کہ یہ واقعہ حجۃ الوداع کے سال میں پیش آیا اور اسی طرح اس روایت میں ابن خیثم نام کے آدمی میں بھی اختلاف کیا گیا ہے جو عمرو بن قاری کے پوتے ہیں۔
(١٧٧٨٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُہَیْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ عَمْرٍو الْقَارِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - قَدِمَ فَخَلَّفَ سَعْدًا مَرِیضًا حَیْثُ خَرَجَ إِلَی حُنَیْنٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَنِ الْجِعْرَانَۃِ مُعْتَمِرًا دَخَلَ عَلَیْہِ وَہُوَ وَجِعٌ مَغْلُوبٌ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - إِنَّ لِی مَالاً وَإِنِّی أُورَثُ کَلاَلَۃً فَأُوصِی بِمَالِی کُلِّہِ أَوْ أَتَصَدَّقُ بِہِ ۔ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثَیْہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَوْصَی بِشَطْرِہِ ؟ قَالَ : لاَ ۔ قَالَ : فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِہِ ؟ قَالَ : نَعَمْ وَذَاکَ کَثِیرٌ ۔ قَالَ : أَیْ رَسُولَ اللَّہِ أُصِیبُ بِالدَّارِ الَّتِی خَرَجْتُ مِنْہَا مُہَاجِرًا۔ قَالَ : إِنِّی لأَرْجُو أَنْ یَرْفَعَکَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَنْ یُکَادَ بِکَ أَقْوَامٌ وَیَنْتَفِعُ بِکَ آخَرُونَ یَا عَمْرُو بْنَ الْقَارِیِّ إِنْ مَاتْ سَعْدٌ بَعْدِی فَہَا ہُنَا ادْفِنْہُ نَحْوَ طَرِیقِ الْمَدِینَۃِ ۔ وَأَشَارَ بِیَدِہِ ہَکَذَا۔ ہَذِہِ الرِّوَایَۃُ تُوَافِقُ رِوَایَۃَ سُفْیَانَ فِی أَنَّ ذَلِکَ کَانَ عَامَ الْفَتْحِ وَسَائِرُ الرُّوَاۃِ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالُوا فِیہِ عَامَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَاخْتُلِفَ فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ عَلَی ابْنِ خُثَیْمٍ فِی اسْمِ حَفَدَۃِ عَمْرِو بْنِ الْقَارِیِّ ۔ [ضعیف ]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান