আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

سیر کا بیان

হাদীস নং: ১৭৭৫১
سیر کا بیان
مشرکین سے درگزر کے منسوخ ہونے اور ان سے قتال کی نہی کے منسوخ ہونے کا بیان اور حرمت والے مہینوں میں قتال کرنے کی ممانعت کا بیان امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہوگیا : { وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ} [الب
(١٧٧٤٥) حضرت جندب بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک گروہ کو روانہ کیا اور اس پر عبیدہ بن حارث کو امیر بنایا اور جب وہ جانے کے لیے نکلا تو اس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت نے رلا دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی جگہ پر عبداللہ بن جحش کو امیر بنادیا اور ایک خط لکھ کردیا اور ان سے کہا کہ اس کو فلاں جگہ پر کھول کر پڑھنا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اپنے ساتھ سفر پر لے جانے کے لیے اپنے کسی بھی ساتھی پر جبر نہ کرنا۔ “ جب وہ اس جگہ پر پہنچے جہاں پر آپ نے خط کھولنے کا حکم دیا تھا تو انھوں نے خط کھول کر پڑھا اور ساتھ ہی انا للہ و انا الیہ راجعون بھی پڑھ دیا اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی بات سنی اور اس کی اطاعت کی۔ کہتے ہیں کہ ان کے ساتھیوں میں سے آدمی واپس آگئے اور باقی ان کے ساتھ چلتے رہے اور ابن حضرمی ملے اور انھوں نے اس کو قتل کردیا اور ان کو پتا نہ چلا کہ یہ رجب کا مہینہ ہے یا جمادی اخریٰ کا تو مشرکین نے کہا کہ تم نے حرمت والے مہینے میں قتل کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ والی آیات نازل فرمائیں : { یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الشَّھْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیْہِ قُلْ قِتَالٌ فِیْہِ کَبِیْرٌ۔۔۔} [البقرۃ ٢١٧] ” اس قول تک { وَ الْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] ” یہ لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حرمت والے مہینے میں قتال کرنے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہہ دیجیے کہ ان میں قتال کرنا تو کبیرہ گناہ ہے ۔۔۔ لیکن فتنہ پھیلانا تو قتل کرنے سے بھی بڑا گناہ ہے۔ “ راوی کہتے ہیں کہ بعض مسلمانوں نے کہا کہ اگر انھوں نے اچھا کام بھی کیا ہے تو اس پر ان کو اجر نہیں ملے گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : { اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ھَاجَرُوْا وَ جٰھَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللّٰہِ وَ اللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ۔} [البقرۃ ٢٨١] ” جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا تو یہی لوگ اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا رحم کرنے والا ہے۔ “
(١٧٧٤٥) أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ بِبَغْدَادَ حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو : عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِی یُحَدِّثُ عَنِ الْحَضْرَمِیِّ عَنْ أَبِی السَّوَّارِ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - رَہْطًا وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ عُبَیْدَۃَ بْنَ الْحَارِثِ قَالَ فَلَمَّا انْطَلَقَ لِیَتَوَجَّہَ بَکَی صَبَابَۃً إِلَی رَسُولِ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - مَکَانَہُ رَجُلاً یُقَالُ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَحْشٍ وَکَتَبَ لَہُ کِتَابًا وَأَمَرَہُ أَنْ لاَ یَقْرَأَہُ إِلاَّ بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا وَقَالَ : لاَ تُکْرِہَنَّ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ عَلَی الْمَسِیرِ مَعَکَ ۔

فَلَمَّا صَارَ ذَلِکَ الْمَوْضِعَ قَرَأَ الْکِتَابَ وَاسْتَرْجَعَ قَالَ : سَمْعًا وَطَاعَۃً لِلَّہِ وَرَسُولِہِ قَالَ فَرَجَعَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِہِ وَمَضَی بَقِیَّتُہُمْ مَعَہُ فَلَقَوُا ابْنَ الْحَضْرَمِیِّ فَقَتَلُوہُ فَلَمْ یُدْرَ ذَلِکَ مِنْ رَجَبٍ أَوْ مِنْ جُمَادَی الآخِرَۃِ فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ قَتَلْتُمْ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ فَنَزَلَتْ { یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ} [البقرۃ ٢١٧] إِلَی قَوْلِہِ { وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ } [البقرۃ ٢١٧] قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِینَ لَئِنْ کَانُوا أَصَابُوا خَیْرًا مَا لَہُمْ أَجْرٌ فَنَزَلَتْ {إِنَّ الَّذِینَ آمَنُوا وَالَّذِینَ ہَاجَرُوا وَجَاہَدُوا فِی سَبِیلِ اللَّہِ أُولَئِکَ یَرْجُونَ رَحْمَۃَ اللَّہِ وَاللَّہُ غَفُورٌ رَحِیمٌ} [البقرۃ ٢٨١] ۔ [حسن ]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
সুনানে বাইহাকী (উর্দু) - হাদীস নং ১৭৭৫১ | মুসলিম বাংলা