আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
سیر کا بیان
হাদীস নং: ১৭৭৩১
سیر کا بیان
فرض کی ابتداء نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہوئی۔ پھر لوگوں پر اور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تبلیغ رسالت میں اپنی قوم سے تکالیف پہنچیں ان کا اختصار کے ساتھ بیان
(١٧٧٢٥) حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی : { وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ } کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے اور ان میں سے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخلص جماعت ہے ان کو بھی تو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نکلے اور صفا (پہاڑی) پر چڑھ کر آپ نے ( (وَا صَبَاحَاہْ ) ) کی زور دار آواز سے بلایا تو لوگوں نے کہا : یہ کون بلانے والا ہے (بعض) نے کہا ” محمد “ ابن عباس (رض) کہتے ہیں : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تمام لوگ جمع ہوگئے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے بنی فلاں ! اے بنی فلاں ! اے بنی عبد مناف ! اے بنی عبدالمطلب ! تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں کہوں کہ اس پہاڑ کے دامن سے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم میری تصدیق کرو گے۔ انھوں نے کہا : ہم نے کبھی بھی آپ کو جھوٹا نہیں پایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” بیشک میں تمہیں آنے والے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں “ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ابو لہب نے کہا تو ہلاک ہوجائے، کیا اسی کام کے لیے تو نے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس سورة کو نازل کیا { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } [اللہب ١] ” ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہوگئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوگیا۔ “ اسی طرح اعمش نے آخر سورة تک تلاوت کی۔
(١٧٧٢٥) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِی جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو کُرَیْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الأَقْرَبِینَ } [الشعراء ٢١٤] وَرَہْطَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِینَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّہِ - (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) - حَتَّی صَعِدَ عَلَی الصَّفَا فَہَتَفَ : وَاصَبَاحَاہُ ۔ فَقَالُوا : مَنْ ہَذَا الَّذِی یَہْتِفُ ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ۔ قَالَ : فَاجْتَمَعُوا إِلَیْہِ فَقَالَ : یَا بَنِی فُلاَنٍ یَا بَنِی فُلاَنٍ یَا بَنِی عَبْدِ مَنَافٍ یَا بَنِی عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَرَأَیْتُکُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلاً تَخْرُجُ بِسَفْحِ ہَذا الْجَبَلِ أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ ؟ ۔ قَالُوا : مَا جَرَّبْنَا عَلَیْکَ کَذِبًا۔ قَالَ : فَإِنِّی نَذِیرٌ لَکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ۔ قَالَ فَقَالَ أَبُو لَہَبٍ : تَبًّا لَکَ مَا جَمَعْتَنَا إِلاَّ لِہَذَا۔ ثُمَّ قَامَ فَنَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ { تَبَّتْ یَدَا أَبِی لَہَبٍ } [اللہب ١] وَقَدْ تَبَّ کَذَا قَرَأَ الأَعْمَشُ إِلَی آخِرِ السُّورَۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یُوسُفَ بْنِ مُوسَی عَنْ أَبِی أُسَامَۃَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِی کُرَیْبٍ ۔[صحیح۔ متفق علیہ ]