আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)

نکاح کا بیان

হাদীস নং: ১৩৪৯০
نکاح کا بیان
کسی شخص کا اپنے آپ کو اللہ کی عبادت کے لیے الگ کرلینا جب کہ اس کا نفس نکاح کی طرف مائل نہ ہو
(١٣٤٨٤) ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں ایک دن بھوک کی وجہ سے زمین پر پڑا تھا اور میرا پیٹ بھوک کی وجہ سے پتھر بن گیا تھا ایک دن میں اس راستے پر بیٹھ گیا، جہاں سے لوگ نکل رہے تھے ابوبکر میرے پاس سے گزرے۔ میں نے اللہ کی آیت کے بارے میں سوال کیا تاکہ وہ مجھے کچھ دیں تو وہ گزر گئے اور انھوں نے کچھ بھی نہ کہا۔ عمر (رض) گزرے۔ میں نے ان سے سوال کیا وہ بھی گزر گئے اور کچھ نہ دیا۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گزرے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرائے، جب مجھے دیکھا اور فرمایا : آؤ میں آپ کے ساتھ چلا گیا، آپ داخل ہوئے میں نے بھی اجاز طلب کی اور اجازت مل گئی۔ میں نے دودھ کا ایک پیالہ پایا : تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : یہ پیالہ کہاں سے آیا ہے ؟ جواب ملا کہ فلاں مرد یا عورت نے تحفہ بھیجا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! جاؤ اہل صفہ کو بلا کر لاؤ۔ فرمایا : اہل صفہ اسلام کے مہمان ہیں ان کا نہ کوئی گھر ہے اور نہ مال ہے۔ جب بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس صدقہ آتا، آپ ان کی طرف پیغام بھیجتے اور ان کو شریک کرتے۔ یہ بات مجھ پر گراں گذری، یہ ایک پیالہ ہے، مجھے تو اس میں سے صرف ایک گھونٹ ملے گا۔ میں ان کو بلا کرلے آیا، جب وہ آگئے کہ تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ میں ان میں سے ہر ایک کو دودھ پیش کروں۔ مجھے یہ لگتا تھا کہ مجھے نہیں ملے گا لیکن اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ماننا بھی ضروری تھا، جب وہ آئے انھوں نے اجازت طلب کی، اجازت دے دی گئی اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر میں مجلس بنا کر بیٹھ گئے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول ! فرمایا : پکڑو اور ان کو دو ۔ میں نے پیالہ پکڑا اور آدمی کو دے دیا اس نے پیا یہاں تک کہ وہ سیر ہوگیا پھر میں نے دوسرے کو پیالہ دیا وہ بھی سیر ہوگیا۔ پھر میں پیالہ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تمام لوگ سیر ہوچکے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پیالہ پکڑا، اس کو اپنے ہاتھ پر رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگے فرمایا : اے ابوہریرہ (رض) ! میں نے کہا : حاضر اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! فرمایا : میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سچ کہا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیٹھ جا اور پینا شروع کرو۔ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھ گیا اور پینا شروع کیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور پیو میں نے پیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اور پیو میں پیتا گیا۔ یہاں تک کہ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! جس نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا ہے، میں اس کی جگہ نہیں پاتا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ٹھیک ہے میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیالہ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کی تعریف اور بسم اللہ پڑھی اور بچا ہوا دودھ پی لیا۔
(۱۳۴۸۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ یُوسُفَ السُّوسِیُّ مِنْ أَصْلِہِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ الْبَغْدَادِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَیْمٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ حَدَّثَنَا مُجَاہِدٌ أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کَانَ یَقُولُ : وَاللَّہِ الَّذِی لاَ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ إِنْ کُنْتُ لأَعْتَمِدُ بِکَبِدِی عَلَی الأَرْضِ مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ کُنْتُ لأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَی بَطْنِی مِنَ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ یَوْمًا عَلَی طَرِیقِہِمُ الَّذِی یَخْرُجُونَ مِنْہُ فَمَرَّ بِی أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی عُمَرُ فَسَأَلْتُہُ عَنْ آیَۃٍ مِنْ کِتَابِ اللَّہِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُہُ إِلاَّ لِیَسْتَتْبِعَنِی فَمَرَّ وَلَمْ یَفْعَلْ ثُمَّ مَرَّ بِی أَبُو الْقَاسِمِ -ﷺ- فَتَبَسَّمَ حِینَ رَآنِی وَعَرَفَ مَا فِی نَفْسِی وَمَا فِی وَجْہِی ثُمَّ قَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحَقْ ۔ وَمَضَی وَاتَّبَعْتُہُ فَدَخَلَ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِی فَدَخَلْتُ فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِی قَدَحٍ فَقَالَ : مِنْ أَیْنَ ہَذَا اللَّبَنُ؟ ۔ قَالُوا : أَہْدَاہُ لَکَ فُلاَنٌ أَوْ فُلاَنَۃُ قَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ فَقُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : الْحِقْ إِلَی أَہْلِ الصُّفَّۃِ فَادْعُہُمْ لِی ۔ قَالَ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ إِذَا أَتَتْہُ صَدَقَۃٌ بَعَثَ بِہَا إِلَیْہِمْ وَلَمْ یَتَنَاوَلْ مِنْہَا شَیْئًا وَإِذَا أَتَتْہُ ہَدِیَّۃٌ أَرْسَلَ إِلَیْہِمْ فَأَصَابَ مِنْہَا وَأَشْرَکَہُمْ فِیہَا فَسَائَ نِی ذَلِکَ قُلْتُ : وَمَا ہَذَا اللَّبَنُ فِی أَہْلِ الصُّفَّۃِ کُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِیبَ مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ شَرْبَۃً أَتَقَوَّی بِہَا وَأَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَائُ وا أَمَرَنِی أَنْ أُعْطِیَہُمْ وَمَا عَسَی أَنْ یَبْلُغَنِی مِنْ ہَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ یَکُنْ مِنْ طَاعَۃِ اللَّہِ وَطَاعَۃِ رَسُولِہِ بُدٌّ فَأَتَیْتُہُمْ فَدَعَوْتُہُمْ فَأَقْبَلُوا حَتَّی اسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَہُمْ وَأَخَذُوا مَجَالِسَہُمْ مِنَ الْبَیْتِ فَقَالَ : یَا أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ۔ قَالَ : خُذْ فَأَعْطِہِمْ ۔ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِیہِ الرَّجُلَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحِ فَأُعْطِیہِ الآخَرَ فَیَشْرَبُ حَتَّی یَرْوَی ثُمَّ یَرُدُّ عَلَیَّ الْقَدَحَ حَتَّی انْتَہَیْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- وَقَدْ رَوِیَ الْقَوْمُ کُلُّہُمْ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَہُ عَلَی یَدِہِ وَنَظَرَ إِلَیَّ وَتَبَسَّمَ وَقَالَ : أَبَا ہُرَیْرَۃَ ۔ قُلْتُ : لَبَّیْکَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : بَقِیتُ أَنَا وَأَنْتَ ۔ قُلْتُ : صَدَقْتَ یَا رَسُولَ اللَّہِ قَالَ : اقْعُدْ فَاشْرَبْ ۔ فَقَعَدْتُ وَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَقَالَ : اشْرَبْ ۔ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ یَقُولُ : اشْرَبْ ۔ فَأَشْرَبُ حَتَّی قُلْتُ : لاَ وَالَّذِی بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَہُ مَسْلَکًا قَالَ : فَادْنُ ۔ فَأَعْطَیْتُہُ الْقَدَحَ فَحَمِدَ اللَّہَ وَسَمَّی وَشَرِبَ الْفَضْلَۃَ۔

رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ وَالْمَوْضِعُ الْمَقْصُودُ مِنْ ہَذَا الْخَبَرِ فِی ہَذَا الْبَابِ قَوْلُہُ : وَأَہْلُ الصُّفَّۃِ أَضْیَافُ الإِسْلاَمِ لاَ یَأْوُونَ إِلَی أَہْلٍ وَلاَ مَالٍ۔ [صحیح۔ بخاری ۵۳۷۵]
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান