আসসুনানুল কুবরা (বাইহাক্বী) (উর্দু)
جنازوں کا بیان
হাদীস নং: ৬৯১৫
جنازوں کا بیان
تین اوقات میں نمازِ جنازہ اور تدفین کے مکروہ ہونے کا بیان
(٦٩١٥) محمد بن ابو حرملۃ فرماتے ہیں : زینب بنت ابو سلمہ فوت ہوگئیں اور طارق مدینہ کے امیر تھے ۔ ان کے پاس ایک جنازہ فجر کی نماز کے بعد لایا گیا اور اسے بقیع میں رکھا گیا اور طارق اندھیرے میں نمازِ فجر پڑھتا تھا۔ ابو حرملہ فرماتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سناوہ اپنے گھر والوں کو کہہ رہے تھے ؟ اب اگر تم جنازہ پڑھ لو تو درست ہے کہ تم اسی وقت جنازہ پڑھو یا پھر سورج بلند ہونے تک انتظار کرو۔
(۶۹۱۵) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی حَرْمَلَۃَ : أَنَّ زَیْنَبَ بِنْتَ أَبِی سَلَمَۃَ تُوُفِّیَتْ وَطَارِقٌ أَمِیرُ الْمَدِینَۃِ فَأُتِیَ بِجَنَازَتِہَا بَعْدَ صَلاَۃِ الصُّبْحِ فَوُضِعَتْ بِالْبَقِیعِ قَالَ وَکَانَ طَارِقٌ یُغَلِّسُ بِالصُّبْحِ قَالَ ابْنُ أَبِی حَرْمَلَۃَ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ یَقُولُ لأَہْلِہَا : إِمَّا أَنْ تُصَلُّوا عَلَی جَنَازَتِکُمُ الآنَ وَإِمَّا أَنْ تَتْرُکُوہَا حَتَّی تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ۔
[صحیح۔ أخرجہ مالک]
[صحیح۔ أخرجہ مالک]