কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৮৭৫
نکاح کا بیان
شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45863 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ھند نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! سطح زمین پر کوئی ایسا نہیں تھا جس کی ذلت و رسوائی آپ سے زیادہ مجھے محبوب ہو اور آج سے مجھے آپ کی عزت سے زیادہ کسی کی عزت محبوب نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا تمہاری اس عقیدت میں ضرور اضافہ ہوگا۔ پھر بولی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوسفیان بخیل شخص ہے کیا مجھ پر کوئی حرج ہے کہ اگر میں اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اسی کے عیال پر خرچ کروں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں اگر تم قاعدہ کے مطابق عیال پر خرچ کرتی رہو۔ رواہ عبدالرزاق ورواہ البخاری فی کتاب الالحکام باب من رائی القاضی ان یحکم بعلمہ ج 106002
45863- عن عائشة قالت: جاءت هند إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! والله ما كان على ظهر الأرض أهل خباء أحب إلي أن يذلهم الله من أهل خبائك! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وأيضا والذي نفسي بيده لتزدادن! ثم قالت: يا رسول الله! إن أبا سفيان رجل ممسك فهل علي جناح أن أنفق على عياله من ماله بغير إذنه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا حرج عليك أن تنفقي عليهم بالمعروف. " عب.