কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৮১০
نکاح کا بیان
چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45798 مسروق کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : میں نہیں جانتا کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو۔ چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) کا آپس میں مہر چار سو درہم ہوتا تھا۔ یا اس سے کم تھا مہور میں زیادتی اگر باعث شرافت یا تقویٰ ہوتی تم ان پر سبقت نہ لے جاسکتے ۔ پھر آپ (رض) منبر سے نیچے اتر آئے ۔ اسی اثناء میں قریش کی ایک عورت آپ کے آڑے آگئی اور کہنے لگی : اے امیر المومنین ! آپ لوگوں کو مہروں میں چار سو درہم سے زیادتی کرنے سے منع کرتے ہیں فرمایا : جی ہاں۔ عورت بولی کیا آپ نے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا۔ واتیتم، احداھن قنطار الایۃ۔ فرمایا : جی ہاں یہ آیت سنی ہے لوگوں میں ہر آدمی عمر سے زیادہ فقاھت کا مالک ہے۔ آپ (رض) منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اے لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں کے مہر کے متعلق چار سو درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے منع کیا تھا تم میں سے جو شخص اپنی دلی خوشی سے جتنا مال دینا چاہے دے سکتا ہے۔ رواہ سعید بن المنصور وابویعلی والمحاملی فی امالیہ
45798- عن مسروق قال: ركب عمر المنبر فقال: لا أعرف من زاد الصداق على أربعمائة درهم، فقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وإنما الصدقات فيما بينهم أربعمائة درهم فما دون ذلك، ولو كان الإكثار في ذلك تقوى أو مكرمة لما سبقتموهم إليها - ثم نزل، فاعترضته امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين! نهيت الناس أن يزيدوا في صدقاتهن على أربعمائة درهم؟ قال: نعم، قالت أما سمعت الله يقول في القرآن {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً} الآية فقال: اللهم! غفرا، كل الناس أفقه من عمر! ثم رجع فركب المنبر فقال: أيها الناس! إني كنت نهيتكم أن تزيدوا في صدقاتهن على أربعمائة، فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب أو ما طابت نفسه فليفعل. "ص، ع، والمحاملي في أماليه".