কানযুল উম্মাল (উর্দু)
نکاح کا بیان
হাদীস নং: ৪৫৭৩৮
نکاح کا بیان
متعہ کی حرمت کی وضاحت
45726 سلیمان بن یسار، ام عبداللہ بنت خیثمہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ شام سے ایک آدمی آیا اور اس نے ام عبداللہ کے پاس قیام کیا، اس شخص نے کہا شادی کی حاجت شدت سے محسوس ہورہی ہے لہٰذا تم میرے لیے کوئی عورت تلاش کرو جس سے میں متعہ کروں ام عبداللہ کہتی ہیں میں نے ایک عورت پر اسے دلالت کردی چنانچہ عورت کے ساتھ شرط لگا کر چند عادل گواہوں کی موجودگی میں متعہ کرلیا کچھ عرصہ اس کے پاس ٹھہرارہا اس کے بعد حضرت عمر بن خطاب (رض) کو اس کی خبر دی گئی انھوں نے مجھے اپنے پاس طلب کیا اور مجھ سے پوچھا : جو تم کہتی ہو وہ سچ ہے میں نے کہا : جی ھاں۔ آپ (رض) نے فرمایا : جب وہ دوبارہ آئے تو مجھے اطلاع کرنا چنانچہ جب وہ شخص دوبارہ آیا میں نے حضرت عمر (رض) کو اطلاع کردی آپ (رض) نے پیغام بھیج کر اسے اپنے پاس طلب کیا اور اس سے پوچھا تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ وہ بولا میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں متعہ کیا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس سے منع نہیں کیا حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے پھر حضرت ابوبکر (رض) کے زمانہ میں ہم متعہ کرتے رہے انھوں نے بھی ہمیں منع نہیں کیا حتیٰ کہ وہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے اب ہم آپ کے پاس موجود ہیں آپ نے بھی ہمیں اس سے منع نہیں کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہیں قبل ازیں اس سے باز رہنے کا علم ہوتا میں تمہیں ضرور رجم کرتا لہٰذا اس کی ممانعت کو دوسروں سے بیان کرو حتیٰ کہ نکاح اور سفاح کا امتیاز ہوسکے ۔ رواہ ابن جریر
45726- عن سليمان بن يسار عن أم عبد الله ابنة أبي خيثمة أن رجلا قدم من الشام فنزل عليها، فقال إن العزبة قد اشتدت علي فابغيني امرأة أتمتع معها، قالت: فدللته على امرأة فشارطها فاشهدوا على ذلك عدولا، فمكث معها ما شاء الله أن يمكث، ثم إنه خرج، فأخبر عن ذلك عمر بن الخطاب فأرسل إلي فسألني: أحق ما حدثت؟ قلت: نعم، قال: فإذا قدم فآذنيني به، فلما قدم أخبرته، فأرسل إليه فقال: ما حملك على الذي فعلته؟ قال: فعلته مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم لم ينهنا عنه حتى قبضه الله، ثم مع أبي بكر فلم ينهنا عنه حتى قبضه الله، ثم معك فلم تحدث لنا فيه نهيا؛ فقال عمر: أما والذي نفسي بيده! لو كنت تقدمت في نهى لرجمنك، بينوا حتى يعرف النكاح من السفاح. "ابن جرير".