কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪৩৬০৬
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
تمام عبادات کی جڑ تقویٰ ہے
43593 ۔۔۔ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے تقوی کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ سارے معاملہ کی جڑ ہے قرآن مجید کی تلاوت اور ذکر اللہ کا التزام کر کیونکہ یہ تیرے لیے آسمان میں ذکر اور زمین میں نور کا باعث ہے سوائے بھلی بات کے اکثر خاموش رہا کر، یہ عمل شیطان کو ہٹاتا اور دین کے معاملہ میں تیرا مددگار ثابت ہوگا، زیادہ ہنسنے سے بچا کر کیونکہ بکثرت ہنسنا دل کو مردہ کردیتا اور چہرے کی رونق کو ختم کردیتا ہے جہاد کی پابندی کرنا کیونکہ یہ میری امت کی رہبانیت (ترک دنیا) ہے مسکینوں سے محبت کرنا ان کے ساتھ بیٹھنا، اپنے سکم درجہ کو دیکھ اپنے سے بالا مرتبہ کو نہ دیکھ اس سے تیرے دل میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناقدری نہیں ہوگی، اپنے رشتہ داروں سے تعلق برقرار رکھنا اگرچہ وہ ناطہ توڑیں، حق بات کہو چاہے کڑوی ہو اللہ کے بارے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ کرنا، جو تجھے اپنے عیوب معلوم ہیں وہ تجھے لوگوں سے غافل کردے، اور جو کام تو خود کرتا ہے ان پر غصہ نہ کر، آدمی میں تین خصلتیں عیب کے کافی ہیں۔ لوگوں کی باتیں اسے معلوم ہوں اور اپنی ذات سے ناواقف ہو اور جن کاموں میں خود مبتلا ہو وہ ان کے لیے برے سمجھے اپنے ساتھی کو تکلیف پہنچائے۔ ابو ذر ! تدبیر جیسی عقل نہیں، بچنے جیسا کوئی تقوی نہیں، حسن اخلاق جیسا کوئی حسب (خاندانی شرافت) نہیں۔ (عبد بن حمید فی تفسیرہ طبرانی عن ابی ذر۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1222 ۔
کلام ۔۔۔ ضعیف الجامع 1222 ۔
(43593 -) أوصيك بتقوى الله ، فانه رأس الامر كله ، عليك بتلاوة القرآن وذكر الله ! فانه ذكر لك في السماء ونور لك في الارض ، عليك بطول الصمت إلا من خير ! فانه مطردة للشيطان عنك وعون لك على أمر دينك ، إياك وكثرة الضحك ! فانه يميت القلب ويذهب بنور الوجه ، عليك بالجهاد ! فانه رهبانية أمتي ، أحب المساكين وجالسهم ، انظر إلى من تحتك ولا تنظر إلى من فوقك فانه أجدر ألا تزدري نعمة الله عندك ، صل قرابتك وإن قطعوك ، قل الحق وإن كان مرا ، لا تخف في الله لومة لائم ليحجزك عن الناس ما تعلم من نفسك ، ولا تجد عليهم فيما تأتي ، وكفى بالمرء عيبا أن يكون فيه ثلاث خصال : أن يعرف من الناس ما يجهل من نفسه ، ويستحيي لهم مما هو فيه ويؤذي جليسه ، يا أبا ذر ! لا عقل كالتدبير.ولا ورع كالكف ، ولا حسب كحسن الخلق (عبد بن حميد في تفسيره ، طب - عن أبي ذر).