কানযুল উম্মাল (উর্দু)

بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان

হাদীস নং: ৪১৯৮৯
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ (رض) نے کہا : چچاز اد ! میرے لیے گھر کا کام اور چکی پیسنا مشکل ہے تو تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کرو ! میں نے ان سے کہا : ٹھیک ہے اگلے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بذات خود ان کے پاس تشریف لے آئے اور وہ دونوں ایک لحاف میں سو رہے تھے دروازہ پر دستک دینے اور اجازت لے کر اندر آنے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا اٹھو نہیں آپ نے سردی کی وجہ سے اپنے پاؤں ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر بستر میں داخل کرلئے تو فاطمہ (رض) کہنے لگیں اللہ کے نبی ! مجھے گھر کے کام سے مشقت ہوتی ہے مال غنیمت جو اللہ تعالیٰ آپ کو عطا کرتا ہے اس میں سے کسی خادمہ کو حکم دیتے تو (میری کافی امداد ہوجاتی) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ سکھاؤں ؟ تینتیس بار سبحان اللہ تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس اللہ اکبرکہہ لیا کرو یہ زبانی حساب میں سو ہے اور عملی میزان میں ایک ہزار ہے اور یہ اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو ایک نیکی لے کر آیا تو اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ہیں، ایک لاکھ تک ۔ طبرانی فی الاوسط
41976- عن علي قالت فاطمة: يا ابن عم! شق علي العمل والرحى فكلم رسول الله صلى الله عليه وسلم! قلت لها: نعم، فأتاهما النبي صلى الله عليه وسلم من الغد وهما نائمان في لحاف واحد فأدخل رجله بينهما، فقالت فاطمة: يا نبي الله! شق علي العمل فإن أمرت لي بخادم مما أفاء الله عليك! قال: "أفلا أعلمك ما هو خير لك من ذلك؟ تسبحين الله ثلاثا وثلاثين، واحمدي ثلاثا وثلاثين، وكبري أربعا وثلاثين؛ فذلك مائة باللسان، وألف في الميزان، وذلك بأن الله تعالى يقول {مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا} إلى مائة ألف"."طس".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান