কানযুল উম্মাল (উর্দু)
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
হাদীস নং: ৪১৯৮৮
بدشگونی نیک شگون اور چھوت چھات کا بیان
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے خاص تحفہ
٤١٩٧٥۔۔۔ طلب بن حوشب جو عوام بن حوشب کے بھائی ہیں جعفر بن محمد سے وہ اپنے والد علی بن الحسین وہ حضرت حسین بن علی سے وہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے حضرت فاطمہ (رض) سے کہا : اپنے والد محترم کے پاس جاؤ اور ان سے غلام مانگو جو تمہیں چکی اور تنور کی گرمی سے بچائے چنانچہ وہ آپ کے پاس آئیں اور غلام مانگا تو آپ نے فرمایا : جب قیدی آئیں تو میرے پاس آنا پھر بحرین کی جانب سے قیدی آئے تو لوگ آپ سے غلام مانگتے رہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بہت عطا کرنے والے تھے جو چیز بھی مانگی جاتی آپ دے دیتے اور جب کچھ بھی نہ بچاتو وہ آپ کے پاس غلام مانگنے آئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ہمارے پاس قیدی آئے اور وہ لوگوں نے مانگ لیے لیکن میں تمہیں ایسے کلمات سکھاتا ہوں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہیں۔ جب اپنے بستر پر آؤ توکہاکرواللہ ! اے سات آسمانوں اور عرش عظیم کے رب ! اے ہمارے رب اور ہرچیز کے رب ! توراۃ انجیل اور قرآن کو نازل کرنے والے دانہ اور کٹھلی کو پھاڑنے والے میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں ہراس چیز کے شر سے جس کی پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے تو ہی سب سے پہلے ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں تو ہی سب سے آخر میں ہے تیرے بعد کچھ نہیں تو ہی ظاہر ہے تیرے اوپر کوئی چیز نہیں ہمارا قرض اداکردے اور ہمیں فقروفاقہ سے بےنیاز کردے چنانچہ فاطمہ (رض) لونڈی کے بدلہ ان کلمات پر خوش ہو کرواپس ہوگئیں، حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : میں نے ان کلمات کو جب سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سکھائے انھیں نہیں چھوڑا کسی نے کہا صفین کی رات بھی ؟ آپ نے فرمایا : صنین کی رات بھی نہیں۔ ابونعیم انتقاء الوحشۃ
41975- عن طلاب بن حوشب أخى العوام بن حوشب عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي بن الحسين عن الحسين بن علي عن علي بن أبي طالب أنه قال لفاطمة: اذهبي إلى أبيك فسليه يعطك خادما يقيك الرحى وحر التنور! فأتته فسألته، فقال: "إذا جاء سبي فأتينا"! فجاء سبي من ناحية البحرين، فلم يزل الناس يطلبون ويسألونه إياه، وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم معطاء لا يسئل شيئا إلا أعطاه، حتى إذا لم يبق شيء أتته تطلب، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: "جاءنا سبي فطلبه الناس، ولكن أعلمك ما هو خير لك من خادم! إذا أويت إلى فراشك فقولي: "اللهم! رب السماوات السبع ورب العرش العظيم، ربنا ورب كل شيء، منزل التوراة والإنجيل والقرآن، وفالق الحب والنوى، إني أعوذ بك من شر كل شيء أنت آخذ بناصيته، أنت الأول فليس قبلك شيء، وأنت الآخر فليس بعدك شيء، وأنت الظاهر فليس فوقك شيء، أقض عنا الدين وأعننا من الفقر"؛ فانصرفت فاطمة راضية بذلك من الجارية. قال علي: فما تركتها منذ علمني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قيل: ولا ليلة صفين؟ قال: ولا ليلة صفين."أبو نعيم في انتفاء الوحشة".