কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯৫২
فضائل کا بیان
تصویر والے گھر میں داخل نہ ہونا
35943 ۔۔۔ ابی وائل سے روایت ہے کہ میں نے عمر (رض) کے ساتھ ملک شام کا سفر کیا ایک منزل پر قیام کیا ایک دھتا ان امیر المومنین کے متعلق پوچھتے ہوئے آپ (رض) کے پاس پہنچا جب دھقان نے عمر (رض) کو دیکھا تو سجدہ میں گر کیا تو عمر (رض) نے پوچھا یہ کس طرح کا سجدہ ہے ؟ تو عرض کیا کہ ہم بادشاہوں کے ساتھ یہی برتاؤ کرتے ہیں تو عمر (رض) نے فرمایا اس اللہ کے آگے سجدہ کرو جس نے تمہیں پیدا فرمایا اس نے کہا اے امیر المومنین میں نے آپ کے لیے کچھ کھانا تیار کیا ہے آپ تشریف لائیں تو عمر (رض) نے پوچھا تمہارے گھر میں عجم کے سرداروں کی تصاویر ہیں اس نے کہا ہاں تو فرمایا پھر تو ہم آپ کے گھر نہیں جائیں گے البتہ گھر جاکر ہمارے لیے ایک طرح کا کھانا تیار کرکے لاؤ اس سے زیادہ نہیں وہ گھر گیا اور ایک ہی طرح کا کھاتا تیار کرکے لایا اس میں سے آپ (رض) نے تناول فرمایا پھر اپنے غلام سے پوچھا کہ تمہارے مشکیزے میں کچھ نبیذ ہے اس نے کہا ہاں وہ لایا اور برتن میں ڈالا س کو سونھ کر دیکھاتو اس میں سے بوآرہی تھی تو اس پر تین مرتبہ پانی بہایا پھر پی لیا اس کے بعد کہا اگر تمہیں اپنے مشروب کے بارے میں شک ہو تو اس طرح کرو پھر فرمایا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرمائے ہوئے سنا کہ دبیاج اور حریر استعمال مت کرو اور سونے چاندی کے برتن میں مت پیو کیونکہ یہ دنیا میں کافروں کے لیے ہے اور آخرت میں تمہارے لیے (مسدد ، حاکم ، ابن عساکر)
35943- عن أبي وائل قال: غزوت مع عمر الشام فنزلنا منزلا فجاء دهقان يستدل على أمير المؤمنين حتى أتاه، فلما رأى الدهقان عمر سجد، فقال عمر: ما هذا السجود؟ فقال: هكذا نفعل بالملوك، فقال عمر: اسجد لربك الذي خلقك، فقال: يا أمير المؤمنين! إني قد صنعت لك طعاما فأتني، فقال عمر: هل في بيتك تصاوير العجم! قال: نعم، قال: لا حاجة لي في بيتك ولكن انطلق فابعث لنا بلون من الطعام ولا تزدنا عليه، فانطلق فبعث إليه بطعام فأكل منه، ثم قال عمر لغلامه: هل في إداوتك شيء من ذلك النبيذ، قال: نعم، فأتاه فصبه في إناء ثم شمه فوجده منكر الريح فصب عليه ماء ثم شمه فوجده منكر الريح فصب عليه الماء ثلاث مرات ثم شربه ثم قال: إذا رابكم من شرابكم شيء فافعلوا به هكذا، ثم قال، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تلبسوا الديباج والحرير ولا تشربوا في آنية الفضة والذهب فإنها لهم في الدنيا ولنا في الآخرة. "مسدد، ك، كر".