কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩৫৯৩৪
فضائل کا بیان
حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35925 ۔۔۔ ربیع بن زیاد حارثی سے روایت ہے کہ وہ عمر (رض) کے پاس وفد کے ساتھ حاضر ہوا ان کو عمر (رض) کی ہیت وغیرہ دیکھ کر تعجب ہوا عمر (رض) سخت کھانا کھانے کی شکایت ربیع نے کہا اے امیر لمومنین نرم کھانا کھانے نرم اور اعلی سواری کرنے نرم لباس پہننے کا سب سے زیادہ حقدار آپ ہی ہیں عمر (رض) نے ایک ٹہنی لے کر ان کے سر پر ماری اور کہا خدا کی قسم تم نے اس بات سے اللہ کو راضی کرنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ تو میرا قرب حاصل کرنا چاہتا ہے میں گمان کرتا تھا کہ تجھ میں سمجھ ہے ارے تیرا ناس ہو کیا تو چاہتا ہے میری اور ان لوگوں کی مثال پوچھا اور ان کی مثال کیا ہے ؟ فرمایا اس قوم کی مثال ہے جو سفر میں نکلی ہے اور اپنے خرچہ سب جمع کرکے ان میں سے ایک شخص کو دیدیا اور اس سے کہا ہم پر خرچ کرو کیا اس کو حق حاصل ہوگا کہ اپنے نفس کو اوروں پر ترجیح دے تو عرض کیا نہیں اے امیر المومنین تو فرمایا یہی مثال ہے میری اور ان کی ۔ (ابن سعد ابن راھویہ ابن عساکر)
35925- عن الربيع بن زياد الحارثي أنه وفد إلى عمر بن الخطاب فأعجبته هيئته ونحوه فشكى عمر طعاما غليظا أكله فقال الربيع: يا أمير المؤمنين! إن أحق الناس بطعام لين ومركب لين وملبس لين لأنت، فرفع عمر جريدة معه فضرب بها رأسه وقال أما والله! ما أراك أردت بها الله وما أردت بها إلا مقاربتي، إن كنت لأحسب أن فيك؟ ويحك! هل تدري ما مثلي ومثل هؤلاء؟ قال: وما مثلك ومثلهم؟ قال: مثل قوم سافروا فدفعوا نفقاتهم إلى رجل منهم فقالوا له: أنفق علينا، فهل يحل له أن يستأثر منها بشيء؟ قال: لا يا أمير المؤمنين! قال: فكذلك مثلي ومثلهم. "ابن سعد وابن راهويه، كر".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩৫৯৩৪ | মুসলিম বাংলা