কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯৩৩
فضائل کا بیان
حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35924 ۔۔۔ حمید بن ہلال سے روایت ہے کہ حفص بن ابی العاص عمر (رض) کے پاس کھانے کے وقت حاضر ہوا کرتے تھے لیکن کھانے میں شریک نہیں ہوتے تھے تو عمر (رض) نے ان سے فرمایا تمہیں ہمارے ساتھ شریک ہونے سے کیا چیز مانع ہے ؟ تو عرض کیا کہ آپ کا کھانا بدمزہ اور سخت ہوتا ہے میں نرم کھانا پسند کرتا ہوں میرے لیے لایا کھانا تیار کیا گیا ہے اس میں سے کچھ کھا کر دیکھا پھر فرمایا کہ تم مجھے اس سے عاجز سمجھتے ہو کہ میں ایک بکری ذبح کا حکم دوں اس سے بال صاف کرلیا جائے پھر آٹا کے متعلق حکم دوں اس کو چھان لیا جائے پھر اس سے نرم روٹی پکائی جائے پھر میں حکم دوں ایک صاع کشمش کو گھی میں ڈالا جائے پھر اوپر سے پانی ڈالا جائے اور وہ ہرن کے خون کی طرف سرخ ہوجائے تو حفص نے کہا میں سمجھتا ہوں آپ ہر عیش زندگی سے واقف ہیں عمر (رض) نے کہا ہاں بالکل واقف ہوں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر مجھے اندیشہ نہ ہوتا کہ قیامت کے روز میرے نیکیوں میں کمی ہوجائے گی تو میں تمہارے ساتھ پر عیش زندگی گذارنے میں شریک ہوتا۔ (ابن سعد وعبدبن حمید)
35924- عن حميد بن هلال أن حفص بن أبي العاص كان يحضر طعام عمر وكان لا يأكل فقال له عمر: ما يمنعك من طعامنا؟قال: طعامك جشب غليظ وإني راجع إلى طعام لين قد صنع لي فأصيب منه، قال: أتراني أعجز أن آمر بشاة فيلقي عنها شعرها وآمر بدقيق فينخل في خرقة ثم آمر به فيخبز خبزا رقاقا وآمر بصاع من زبيب فيقذف في سعن ثم يصب عليه من الماء فيصبح كأنه دم غزال؟ فقال حفص: إني لأراك عالما بطيب العيش، فقال عمر: أجل، والذي نفسي بيده لولا كراهية أن ينقص من حسناتي يوم القيامة لشاركتكم في لين عيشكم. "ابن سعد وعبد ابن حميد".