কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩৫৯৩১
فضائل کا بیان
حضرت عمر (رض) کی دنیا سے بےرغبتی
35922 ۔۔۔ ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ وہ اہل بصرہ کے وفد کے ساتھ عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم ان کے پاس حاضر ہوئے روزانہ کھانے کے وقت ان کے پاس روٹی آتی جس پر تیل لگا ہوتاک بھی گھی کا سالن ہوتاک بھی تیل کا کبھی دودھ کا کبھی خشک گوشت جس کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے پانی میں ابالا گیا ہو کبھی تازہ گوشت ہوتالیکن وہ بہت تھوڑی مقدار میں ہوتا ایک دن ہم سے فرمانے لگے بخدا میں دیکھ رہاہوں کہ تم میرے کھانے کا اندازہ لگاتے ہو اور میرے کھانے کو ناپسند کرتے ہو واللہ اگر میں چاہتاتم سے زیادہ عمدہ کھانا اور عیش کی زندگی گذار سکتا تھاو اللہ میں سینہ کے گوشت اور کوہان کے گوشت سے ناوقف نہیں ہوں اسی صلاح صلائق اور صناب سے بھی ناواقف نہیں ہوں جریربن حازم نے کہا صلاء سے مراد بھنا ہوا گوشت اور صناب سے مراد کھانے کا مصالحہ صلائق نرم روٹی ، لیکن میں نے اللہ تعالیٰ کوسنا ایسی زندگی گذارنے والوں پر عیب لگایا ہے۔ اذھبتم طیعکم فی حیاتکم الدنیا واستمتعتم بھاتو ابوموسیٰ نے اپنے ساتھیوں سے کہا اگر تم بات کرنا چاہو کہ امیر المومنین تمہارے لیے بیت المال سے کھانا مقرر کردے تو بات کرلو چنانچہ انھوں نے بات کرلی تو امیر المومنین نے فرمایا اے امراء کیا تم اپنے لیے اس زندگی کو پسند نہیں کرتے جس کو میں اپنے لیے پسند کرتا ہوں تو وفد کے لوگوں نے کہا اے امیر المومنین مدینہ منورہ ایسی سرزمین ہے یہاں گذران بہت مشکل ہے ہم نہیں سمجھتے آپ کا کھانا رات کو کھانے کے قابل ہو ہم تو ایسی جگہ کے رہنے والے ہیں جو سرسبز و شاداب ہے اور ہمارا امیر ہمیں شام کا کھانا کھلائے ہیں وہ ہم سے کھایا بھی جاتا ہے عمر (رض) نے کچھ دیر کے لیے سرجھکایا پھر سر اٹھایا اور کہا میں نے تمہارے لیے بیت المال سے دو بکریاں اور دوتھیلیاں جب صبح ہوجائے تو ایک بکری ایک تھیلی کھانے کے ساتھ تم اور تمہارے ساتھی کھائیں پھر پانی حلال شراب مانگوا کر پئیں پھر اپنے دائیں جانب والے کو پلائیں پھر جو اس سے متصل ہو پھر اپنی ضرورت پوری کرلو پھر شام کے وقت رکھی ہوئی بکری کو رکھی ہوئی کھانے کی تھیلی میں ملاؤ تم اور تمہارے ساتھی ملکر کھائیں سن لوگوں کو بھی گھروں میں پیٹ بھر کر کھلاؤ ان کے بچوں کو بھی کھلاؤ اگر تم نے لوگوں کے ساتھ بےوفائی کی ان کے اخلاق اچھے نہیں ہوں گے اور اپنے بھوکوں کو کھانا نہیں کھلائیں گے۔ اللہ کی قسم جس گلی سے روزانہ دو بکریاں اور دوتھیلیاں لے لیے جائیں گے اس کی طرف خرابی بہت جلد بڑے گی۔ (ابن المبارک وابن سعد ابن عساکر)
35922- عن أبي موسى الأشعري أنه قدم على عمر بن الخطاب مع وفد أهل البصرة، قال: فكنا ندخل عليه وله كل يوم خبز يلت، وربما وافيناه مأدوما بسمن أحيانا بزيت وأحيانا بلبن، وربما وافقنا القدائد اليابسة قد دقت ثم أغلي بماء، وربما وافقنا اللحم الغريض وهو قليل، فقال لنا يوما: إني والله لقد أرى تقديركم وكراهيتكم طعامي وإني والله لو شئت لكنت أطيبكم طعاما وأرقكم عيشا! أما والله: ما أجهل عن كراكر وأسنمة وعن صلاء وعن صلائق وصناب - قال جرير ابن حازم: الصلاة الشواء، والصناب الخردل، والصلائق الخبز الرقاق - ولكني سمعت الله عير قوما بأمر فعلوه، فقال: "أذهبتم طيبتكم في حياتكم الدنيا واستمعتم بها" فقال أبو موسى: لو كلمتم أمير المؤمنين ففرض لكم من بيت المال طعاما تأكلونه فكلموه! فقال: يا معشر الأمراء! أما ترضون لأنفسكم ما أرضى لنفسي، فقالوا: يا أمير المؤمنين! إن المدينة أرض العيش بها شديد، ولا نرى طعامك يعشي ولا يؤكل وإنا بأرض ذات ريف وإن أميرنا يعشي وإن طعامه يؤكل،فنكس عمر ساعة ثم رفع رأسه فقال: قد فرضت لكم من بيت المال شاتين وجريبين، فإذا كان الغداة فضع إحدى الشاتين على أحد الجريبين فكل أنت وأصحابك، ثم ادع بشراب فاشرب - يعني الشراب الحلال - ثم اسق الذي عن يمينك ثم الذي يليه ثم قم لحاجتك، فإذا كان بالعشى فضع الشاة الغابرة على الجريب الغابر فكل أنت وأصحابك، ألا وأشبعوا الناس في بيوتهم وأطعموا عيالهم فإن تجفيتكم للناس لا يحسن أخلاقهم ولا يشبع جائعهم، فوالله مع ذلك ما أظن رستاقا يؤخذ منه كل يوم شاتان وجريبان إلا يسرع ذلك في خرابه. "ابن المبارك وابن سعد؛ كر".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩৫৯৩১ | মুসলিম বাংলা