কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯১৮
فضائل کا بیان
حضرت عمر (رض) کے اخلاق
35909 ۔۔۔ طارق بن شہاب روایت کرتے ہیں کہ جب عمربن خطاب ملک شام آئے ان کو قضاء حاجت کی ضرورت پیش آئی تو اونٹ سے اترے اور اپنے موزے اتارے ان کو اپنے ہاتھ میں لیا اور اونٹ کے لگام کو ہاتھ سے پکڑا پھر طہارت کی جگہ میں داخل ہوئے تو ابوعبیدہ بن جراح نے کہا اے امیر المومنین آپ نے اہل شام کے نزدیک بڑا کام انجام دیا کہ اپنے موزوں کو اتارا اپنی سواری کو خود سنبھالا اور طہارت کی جگہ داخل ہوئے عمر (رض) نے ابوعبید کے سینہ پر مکامارا اور کہا کیا وہ ان باتوں کارو سے تذکرہ کرتے ہیں اگر تمہارے علاوہ کوئی اور یہ بات کہتا تم لوگوں میں سب سے زیادہ ذلیل تھے اور گمراہ تھے اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام کی بدولت عزت دی اگر اسلام کے علاوہ کسی اور چیز میں عزت تلاش کروگے تو اللہ عزوجل تمہیں ذلیل کریں گے۔ (ابن المبارک وھبنا د حاکم حلیة الاولیاء بیہقی)
35909- عن طارق بن شهاب قال: لما قدم عمر بن الخطاب الشام عرضت له مخاضة فنزل عمر عن بعيره ونزع خفيه فأخذهما بيده وأخذ بخطام راحلته ثم خاض المخاضة فقال له أبو عبيدة بن الجراح: لقد فعلت يا أمير المؤمنين فعلا عظيما عند أهل الأرض! نزعت خفيك وقدت راحلتك وخضت المخاضة! فصك عمر بيده في صدر أبي عبيدة وقال: أوه يمد بها صوته! لو غيرك يقولها! أنتم كنتم أذل الناس وأضل الناس فأعزكم الله بالإسلام، فمهما تطلبوا العزة بغيره يذلكم الله عز وجل. "ابن المبارك وهناد، ك، حل، هب".