কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩৫৯১৫
فضائل کا بیان
قحط کے زمانہ میں غمخواری
35906 ۔۔۔ (مسندعمر) لیث بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں کو مدینہ میں سخت قحط سالی لاحق ہوئی حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں رمادہ کے ساتھ عمر (رض) نے عمر وبن العاص کو لکھا وہ مصر کے گورنر تھے اللہ کا بندہ امیر المومنین عمر کی طرف سے عمروبن العاص کی طرف السلام علیکم اما بعد میری زندگی کی قسم اے عمرو اگر تمہارا اور تمہارے ساتھ والوں کا پیٹ بھرجائے تو تمہیں اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں اور میرے ساتھ والے ہلاک ہوجائیں اے فریاد کو سننے والے فریاد کو سن لے امیر المومنین اس کلمہ کو ہراتے رہے اس خط کے ملنے کے بعد عمروبن العاص نے جواب لکھا امابعد لبیک ثم یالبیک میں نے تمہاری طرف اونٹوں کا اتنا بڑا قافلہ روانہ کیا ہے پہلا اونٹ تمہارے پاس پہنچے گا تو اس کا آخری اونٹ میرے پاس ہوگا السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ عمربن عاص نے ایک بڑا قافلہ روانہ کیا اول مدینہ منورہ پہنچ چکا تھا آخری مصر سے روانہ ہواہر اونٹ دوسرے کے پیچھے قطار میں تھا وہ سامان عمر (رض) کے پاس پہنچا تو اس سے لوگوں پر خوب وسعت فرمایا مدینہ منورہ اور اردگرد کے لوگوں میں ایک گھر کے لیے ایک اونٹ مع سازو سامان کے عطاء فرمایا عبدالرحمن بن عوف زبیر بن عوام اور سعد بن ابی وقاص کو بھیجا کہ اس مال کو لوگوں میں تقسیم کریں۔ انھوں نے ہر گھر ایک اونٹ اور کھانے کا سامان دیا ، کہ کھانا کھائیں اور اونٹ ذبح کریں اس کا گوشت کھائیں اور چربی پگھلا کر سالن بنائیں اور کھال کی جوتی بنائیں اور جس تھیل کے اندر کھانا تھا اس سے لحاظ وغیرہ بنوائیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح لوگوں پر وسعت فرمادی جب عمر (رض) نے یہ حالت دیکھی اللہ کا شکر ادا کیا اور عمر وبن العاص کے پاس خط لکھا کہ خود بھی مدینہ آئے اور اپنے ساتھ مصری شرفاء کی ایک جماعت لے کر آئے اب وہ سارے آگئے تو عمر (رض) نے کہا اے عمرو اللہ تعالیٰ نے مصرکو مسلمانوں کے ہاتھ فتح فرمایا اور اس کو اہل مصر اور تمام مسلمانوں کے لیے قوت کا ذریعہ بنایا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا جب میں نے اہل حرمین پر آسانی پیدا کرنا چاہا اور ان پر وسعت دینا چاہا کہ نہرکھدواؤں دریانیل سے کہ وہ سمندر میں بہے یہ ہمارے لیے آسان ہے جو ہم چاہتے ہیں کہ کھانا مکہ اور مدینہ منورہ تک پہنچائیں کیونکہ پیٹھ پر لاد کر لانا مشکل بھی ہے اور اس سے ہمارا مقصود پورا نہیں ہوسکتا ہے آپ اور آپ کے ساتھی جاکر مشورہ کریں تاکہ آپ لوگوں کی رائے میں اتفاق پیدا ہو انھوں نے جاکر بقیہ ساتھیوں سے مشورہ کیا تو یہ کام ان پر بھاری گذرا انھوں نے کہا ہمیں خوف ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے مصر کو نقصان پہنچ جائے لہٰذا آپ امیر المومنین پر اس کا مشکل ہوناظاہر کردیں کہ اس پر نہ اتفاق ہوسکتا ہے نہ کام انجام پاسکتا ہے نہ ہی ہمیں اس کے بغیر کوئی راستہ نظر آرہا ہے اب عمروبن العاص عمر بن خطاب کی بات سے تعجب کرنے لگا اور کہا اللہ کی قسم اے امیر المومنین آپ نے سچ کہا کہ معاملہ ایسا ہی ہواجو آپ نے کہا تو عمر (رض) نے فرمایا کہ اے عمرو میری طرف سے پختہ عزم لے کرجائیں آپ اس میں اتفاق پائیں گے تم میں کوئی تغیر نہیں آئے گا یہاں تک کہ اس کام سے فارغ ہوجاؤ گے انشاء اللہ تعالیٰ عمرو (رض) واپس گئے اس کے لیے کھدائی کرنے والوں کو جمع کیا جس سے کام مکمل ہوخلیج کی کھدائی کی جو فسطاط کی جانب سے ہے جس کو خلیج امیرالمومنین کہا جاتا ہے اس کو دریائے نیل سے بحر قلزم تک پہنچا یا کوئی اختلاف پیدانہ ہوا اس میں کشتیاں چلنے لگیں اس کے ذریعہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک کھانے کا سامان آسانی کے ساتھ آسانی کے ساتھ پہنچے لگا اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ اہل حرمین کو فائدہ پہنچایا اس کا نام خلیج امیر المومنین ہے اس نہر کے ذریعہ برابر کھانے کا سامان غلہ وغیرہ پہنچتا رہا ان کے بعد عمربن عبدالعزیز کے زمانہ تک چلتا رہا بعد میں حکام نے اس کو ضائع کردیا اس کو چھوڑ دیا گیا اس پر ریت جم گیا اس طرح نہر بند ہوگئی اس کا آخری کنا رہ ذنب التمساح ہوگیا جو طحاء قلزم کے کنارہ پر ہے۔ (ابن عبدالحکم)
35906- "مسند عمر" عن الليث بن سعد أن الناس بالمدينة أصابهم جهد شديد في خلافة عمر بن الخطاب في سنة الرمادة فكتب إلى عمرو بن العاص وهو بمصر: من عبد الله عمر أمير المؤمنين إلى العاص بن العاص، سلام! أما بعد فلعمري يا عمرو! ما تبالي إذا شبعت أنت ومن معك أن أهلك أنا ومن معي، فيا غوثاه! ثم يا غوثاه - يردده قوله. فكتب إليه عمرو بن العاص: لعبد الله عمر أمير المؤمنين من عمرو بن العاص، أما بعد فيا لبيك! ثم يا لبيك! وقد بعثت إليك بعير أولها عندك وآخرها عندي، والسلام عليك ورحمة الله وبركاته، فبعث عمرو إليه بعير عظيمة فكان أولها بالمدينة وآخرها بمصر يتبع بعضها بعضا، فلما قدمت على عمر وسع بها على الناس ودفع إلى أهل كل بيت بالمدينة وما حولها بعيرا بما عليه من الطعام، وبعث عبد الرحمن بن عوف والزبير بن العوام وسعد ابن أبي وقاص يقسمونها على الناس، فدفعوا إلى أهل كل بيت بعيرا بما عليه من الطعام أن يأكلوا الطعام وينحروا البعير فيأكلوا لحمه ويأتدموا شحمه ويحتذوا جلده وينتفعوا بالوعاء الذي كان فيه الطعام لما أرادوا من لحاف أو غيره، فوسع الله بذلك على الناس، فلما رأى ذلك عمر حمد الله وكتب إلى عمرو بن العاص يقدم عليه هو وجماعة من أهل مصر، فقدموا عليه، فقال عمر: يا عمرو! إن الله قد فتح على المسلمين مصر وهي كثيرة الخير والطعام وقد ألقي في روعي لما أحببت من الرفق بأهل الحرمين والتوسع عليهم حين فتح الله عليهم مصر وجعلها قوة لهم ولجميع المسلمين أن أحفر خليجا من نيلها حتى يسيل في البحر، فهو أسهل لما نريد من حمل الطعام إلى المدينة ومكة، فإن حمله على الظهر يبعد ولا نبلغ منه ما نريد، فانطلق أنت وأصحابك فتشاوروا على ذلك حتى يعتدل فيه رأيكم، فانطلق عمرو فأخبر بذلك من كان معه من أهل مصر، ثقل ذلك عليهم وقالوا: نتخوف أن يدخل في هذا ضرر على أهل مصر، فنرى أن تعظم ذلك على أمير المؤمنين وتقول له: إن هذا الأمر لا يعتدل ولا يكون ولا نجد إليه سبيلا، فرجع عمرو إلى عمر فضحك عمر حين رآه وقال: والذي نفسي بيده! لكأني أنظر إليك يا عمرو وإلى أصحابك حين أخبرتهم بما أمرتك به من حفر الخليج، فثقل ذلك عليهم وقالوا: يدخل في هذا ضرر على أهل مصر فنرى أن تعظم ذلك على أمير المؤمنين وتقول له: إن هذا الأمر لا يعتدل ولا يكون ولا نجد إليه سبيلا، فعجب عمرو من قول عمر وقال: صدقت والله يا أمير المؤمنين! لقد كان الأمر على ما ذكرت، فقال له عمر: انطلق يا عمرو بعزيمة مني حتى تجد في ذلك ولا يأتي عليك الحول حتى تفرغ منه إن شاء الله، فانصرف عمرو وجمع لذلك من الفعلة ما بلغ منه ما أراد، وحفر الخليج الذي في جانب الفسطاط الذي يقال له: "خليج أمير المؤمنين" فساقه من النيل إلى القلزم، فلم يأت الحول حتى جرت فيه السفن، فحمل فيه ما أراد من الطعام إلى المدينة ومكة، فنفع الله بذلك أهل الحرمين وسمي "خليج أمير المؤمنين". ثم لم يزل يحمل فيه الطعام حتى حمل فيه بعد عمر بن عبد العزيز، ثم ضيعه الولاة بعد ذلك فترك وغلب عليه الرمل فانقطع فصار منتهاه إلى ذنب التمساح من ناحية طحاء القلزم. "ابن عبد الحكم".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান
কানযুল উম্মাল (উর্দু) - হাদীস নং ৩৫৯১৫ | মুসলিম বাংলা