কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩৫৯১৪
فضائل کا بیان
قحط کے زمانہ میں غمخواری
35905 ۔۔۔ نیار الاسلمی سے روایت ہے کہ جب عمر (رض) نے استسقاء کی نماز پڑھنے کا ارادہ کیا لوگوں کو لے کر میدان میں نکلے تو اعمال کو حکم نامہ بھیجا کہ فلاں فلاں تاریخ کو لوگوں کے ساتھ نکل کر اپنے رب سے عاجزی کے ساتھ توبہ استغفار اور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قحط کو دور فرمادے خود بھی اس تاریخ میں ٹکا آپ کے جسم پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر تھی یہاں تک کہ عید گاہ پہنچنے اور لوگوں کو خطبہ دیا تضرع دعا جزی کی لوگ بھی الحاء وزاری کررہے تھے آپ (رض) کی اکثر دعا استغفار پر مشتمل تھی جب دعا ختم کرنے کا وقت قریب آیا ہاتھوں کو دراز کرکے اوپر اٹھایا اور چادر کو پلٹا کہ دائیں کو بائیں اور بائیں دائیں طرف کیا پھر ہاتھ کو دراز کیا اور دعا میں خوب آہ زاری کی اور اتنا روئے کہ ان کی داڑھی مبارک تر ہوگئی ۔ (ابن سعد)
35905- عن نيار الأسلمي قال: لما أجمع عمر على أن يستسقي ويخرج بالناس كتب إلى عماله أن يخرجوا يوم كذا وكذا وأن يتضرعوا إلى ربهم ويطلبوا إليه أن يرفع هذا المحل عنهم وخرج لذلك اليوم عليه برد رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى انتهى إلى المصلى فخطب الناس وتضرع، وجعل الناس يلحون، فما كان أكثر دعائه إلا الاستغفار حتى إذا قرب أن ينصرف رفع يديه مدا وحول رداءه وجعل اليمين على اليسار، ثم اليسار على اليمين، ثم مد يديه وجعل يلح في الدعاء وبكى عمر بكاء طويلا حتى أخضل لحيته. "ابن سعد".