কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فضائل کا بیان
হাদীস নং: ৩২৩০৬
فضائل کا بیان
ابراہیم (علیہ السلام) کے ختنہ کا ذکر
32293 ۔۔۔ فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) نے جھوٹ نہیں بولامگر تین مرتبہ کا توریہ دو اللہ کی ذات کی خاطر انی سقیم دوسری فرمایا بل فعلہ کبیر ھم ہذا اور ایک مرتبہ وہ سفر میں تھے ایک ظالم بادشاہ پر ان کا گذر ہو اس سے کہا گیا کہ ہمارے علاقہ میں ایک مہمان آیا ہے ان کے ساتھ ایک خوبصورت عورت ہے تو اس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس قاصد بھیجا کہ یہ عورت کون ہے ؟ تو فرمایا کہ یہ میری بہن ہے پھر ساروعلیھا السلام کی پاس آکر واقعہ ذکر کیا اور ان کو سکھایا کہ دیکھو اس وقت روئے زمین پر ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی مومن نہیں ہے اگر ظالم بادشاہ تمہارے متعلق پوچھے تو میں کہوں گا یہ میری بہن ہے تو تم میری تصدیق کرنا پھر سارہ کو اپنے پاس بلوایا جب اس کے پاس پہنچا تو اس نے برے ارادہ سارا کو ہاتھ لگانا چانا تو اس کا ہاتھ شل ہوگیا تو اس نے سارہ (علیہا السلام) سے کہا اللہ سے دعا کرو آئندہ تمہارے سے بری حرکت نہیں کروں گا سارہ نے دعا کی تو اس کی حالت ٹھیک ہوگئی پھر دوبارہ ہاتھ لگانا چاہا دوبارہ عذاب نازل ہوا اب کے دفعہ پہلے سے سخت تھا اس نے پھر دعاء کی درخواست کی اور وعدہ کیا آئندہ ایسا نہیں کروں گا سارہ علیہما اسلام کی دعاء سے پھر ٹھیک ہوگیا پھر اس نے دربان کو بلا کررکھا تم تو میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہوبل کہ جنات کو لے کر آئے پھر سارہ کو ایک خادمہ دی وہ واپس باہر آئی توابھی ابراہیم (علیہ السلام) نماز میں مشغول تھے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا دونوں ٹھہرجاؤ توسارہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس فاجر کے مکروفریب کو اسی کی طرف لوٹادیا اور ہاجرہ کو بطور خادم کے دیا۔ (احمد بیہقی بروایت ابی ہریرة)
32295- لم يكذب إبراهيم إلا ثلاث كذبات: ثنتين منهن في ذات الله قوله: {إِنِّي سَقِيمٌ} ، وقوله: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} ، بينا هو ذات يوم وسارة إذ أتى على جبار من الجبابرة فقيل له: إن ههنا رجلا معه امرأة من أحسن الناس، فأرسل إليه فسأله عنها فقال: من هذه؟ قال: أختي، فأتى سارة فقال: يا سارة! ليس على وجه الأرض مؤمن غيري وغيرك، وإن هذا سألني فأخبرته أنك أختي فلا تكذبيني، فأرسل إليها فلما دخلت عليه ذهب يتناولها بيده فأخذ فقال: ادعي الله لي ولا أضرك، فدعت الله فأطلق، ثم تناولها ثانية فأخذ مثلها أو أشد فقال: ادعي الله لي فلا أضرك، فدعت فأطلق، فدعا بعض حجبته فقال: إنك لم تأتني بإنسان إنما اتيتني بشيطان فأخدمها هاجر فأتته وهو قائم يصلي فأومأ بيده: مهيا، قالت: رد الله كيد الفاجر في نحره وأخدم هاجر. "حم، ق - عن أبي هريرة"