কানযুল উম্মাল (উর্দু)

فضائل کا بیان

হাদীস নং: ৩২১৪৯
فضائل کا بیان
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا منکر کافر ہے
32137 ۔۔۔ فرمایا جب آدم (علیہ السلام) نے جرم کا اعتراف کیا تو عرض کیا اے اللہ آپ سے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں مجھے معاف فرمادیں۔ اللہ تعالیٰ نے پوچھا کہ آپ نے محمد کو کی سے پہچان لیا حالانکہ میں نے ان کو ابھی تک پیدا نہیں کیا تو عرض کیا یا اللہ آپ نے مجھے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اور اس میں روح پھونکا میں نے سراٹھا کر دیکھا توعرش کے ستون پر لکھا ہوا تھا ۔” لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ “ تو مجھے معلوم ہوگیا کہ آپ نے اپنے نام کے ساتھ آپ کے سب سے محبوب بندہ کے نام کو ہی ملایا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے سچ کہا اے آدم وہ میرے نزدیک تمام مخلوق میں محبوب ہیں جب ان کے وسیلہ سے سوال کیا تو میں نے معاف کردیا اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو تمہیں پیدا نہ کرتا۔ (طبرانی سعید بن منصور ابونعیم فی الدلائل مستدرک نے روایت کرکے تعاقب کیا کہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن زید بن اسلم ضعیف بیہقی نے دلائل النبوہ میں نقل کرکے ضعیف قرار ہے ابن عساکر بروایت ابن عمر (رض) الضعیفہ 25 القدسیہ الضعیفہ 18)
32138- لما اقترف آدم الخطيئة قال: يا رب! اسألك بحق محمد إلا غفرت لي، فقال الله تعالى: وكيف عرفت محمدا ولم أخلقه بعد، قال: يا رب! لأنك لما خلقتني بيدك ونفخت في من روحك رفعت رأسي فرأيت على قوائم العرش مكتوبا "لا إله إلا الله محمد رسول الله" فعلمت أنك لم تضف إلى اسمك إلا أحب الخلق إليك، فقال الله عز وجل: صدقت يا آدم! إنه لأحب الخلق إلي وإذا سألتني بحقه فقد غفرت لك، ولولا محمد ما خلقتك. "ط، ص وأبو نعيم في الدلائل، ك وتعقب بأن فيه عبد الرحمن بن زيد بن أسلم ضعيف هق في الدلائل وضعفه وابن عساكر - عن عمر".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান