কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬৯৩
فتنوں کا بیان
جنگ جمل میں مصالحت کی کوشش
31681 ۔۔۔ (ایضا ) محمد بن عمربن علی (رض) بن ابی طالب سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے جنگ جمل میں قتال شروع کرنے سے پہلے تین مرتبہ صلح کے لیے مخالفین کو دعوت دی یہاں تک تیسرے دن حضرت حسن حسین اور عبداللہ بن جعفر (رض) ان کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ہم میں زخمی زیادہ ہوگئے تو فرمایا بھتیجے اللہ کی قسم میں تو مخالفین کی ہر حرکت سے واقف ہوں اور فرمایا مجھے پانی بھر کر دوان کو پانی دیا گیا انھوں نے وضوء کیا پھر دو رکعت نماز پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے دعاء کی اور اپنے لشکر کو ہدایت کی کہ اگر تم غالب آؤ مخالفین کے کسی بھاگنے والے کا تعاقب نہ کرنا کسی زخمی کو قتل نہ کرنا جو برتن لڑائی کے میدان میں لے آئے ان پر توقبضہ کرلو اور جو اس کے علاوہ ہیں وہ ورثہ کے ہیں۔ (بیہقی نے روایت کی اور کہا یہ روایت منقطع ہے)
31682 (أيضا) عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب أن عليا لم يقاتل أهل الجمل حتى دعا الناس ثلاثا حتى إذا كان يوم الثالث دخل عليه الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر فقالوا : قد أكثروا فينا الجراح ، فقال : يا ابن أخي ! والله ما جهلت شيئا من أمرهم إلا ما كانوا فيه ! وقال : صب لي ماء ! فصب له ماء فتوضأ ثم صلى ركعتين حتى إذا فرغ رفع يديه ودعا ربه وقال لهم : إن ظهرتم على القوم فلا تتبعوا مدبرا ولا تجهزوا على جريح وانظروا ما حضرت به الحرب من آنية فاقبضوه ! وما كان سوى ذلك فهو لورثته.
(هق ، وقال : هذا منقطع).
(هق ، وقال : هذا منقطع).