কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬৯২
فتنوں کا بیان
جنگ جمل کے دن اعلان
31680 ۔۔۔ (ایضا) یحییٰ بن سعید اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن جب ہم جنگ کے لیے تیار ہوگئے جب ہم نے صف بندی کرلی تو علی (رض) نے لوگوں میں نداء دی کہ کوئی تیر اندازی نہ کرے کوئی نیز بازی نہ کرے نہ تلوار چلائے اور قوم کے ساتھ ابتداء بالقتال نہ کرے بلکہ ان کے ساتھ نرم گفتگو کی جائے کیونکہ یہ مقام ایسا ہ جو اس میں کامیاب ہو اور وہ قیامت کے دن کامیاب ہوگا ہم جنگ سے رکے رہے یہاں تک دن چڑھ گیا اور قوم نے یکبارگی آواز لگائی کہ یا ثارات عثمان یعنی عثمان غنی (رض) کے خون کا بدلہ تو علی (رض) نے محمد بن حنیفہ کو پکارکر پوچھا یہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ تو بتایا ثارات عثمان (رض) کہہ رہے ہیں تو علی (رض) نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاکر فرمایا۔
اللھم کب الیوم قتلة عثمان لوجوھہم
اے اللہ عثمان (رض) کے قاتلیں کو آج اوندھے منہ گرادے۔ رواہ بیہقی
اللھم کب الیوم قتلة عثمان لوجوھہم
اے اللہ عثمان (رض) کے قاتلیں کو آج اوندھے منہ گرادے۔ رواہ بیہقی
31681 (أيضا) عن يحيى بن سعيد عن عمه قال : لما تواقعنا يوم الجمل وقد كان علي حين صففنا نادى في الناس : لا يرمين رجل بسهم ولا يطعن برمح ولا يضرب بسيف ولا تبدأ القوم بالقتال وكلموهم بألطف الكلام ! فان هذا مقام من فلج فيه فلج يوم القيامة ، فلم نزل وقوفا حتى تعالى النهار حتى نادى القوم بأجمعهم يا ثأرات عثمان ! فنادى علي محمد ابن الحنفية : ما يقولون ؟ فقال : يقولون : يا ثأرات عثمان ! فرفع علي يديه فقال : اللهم كب اليوم قتلة عثمان لوجوههم.
(هق).
(هق).