কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬৯০
فتنوں کا بیان
جنگ جمل کے دن اعلان
31678 ۔۔۔ (مسندعلی ) داؤد روایت کرتے ہیں کہ عمران بن طلحہ (رض) معاویہ (رض) سے مل گئے تو معاویہ (رض) نے فرمایا کہ علی (رض) کے پاس واپس جاؤ کیونکہ وہ تمہارا مال تمہیں واپس کریں گے تو عمران واپس آیا اور کوفہ پہنچے اور علی (رض) کے پاس گئے تو انھوں نے کہا مراحبا اے بھتیجے میں نے تمہارے مال پر قبضہ کھانے کے لیے نہیں کیا بلکہ مجھے اس پر احمق لوگوں کے قبضہ کا خطرہ ہوا تھا تم اپنے چچا قرظ بن رکعب ابن عمیرہ کے پاس جاؤ ان سے کہو کہ تمہاری زمین سے جو کچھ غلہ حاصل ہواہو وہ تمہیں واپس کردیں مجھے اللہ کی ذات سے امید ہے کہ میں اور وہ ان لوگوں میں سے ہوں گے جنکے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ذکر فرمایا پھر یہ آیت تلاوت کی ونزعنا ما فی صدورھم من غل اخوانا علی سرمتقابلین توحارث اعور نے کہا اللہ کی قسم ایسا نہ ہوگا اللہ بڑے انصاف والے ہیں ایسا نہیں ہوسکتا کہ ہمیں اور ان کو جنت میں جمع فرمائیں تو علی (رض) نے فرمایا پھر کس کو جمع فرمائیں گے مجھے اور تیرے باپ کو ۔ (ابن عساکر ورواہ البیہقی عن ابی حیبہ مولی طلحہ)
31679 (مسند علي) عن داود قال : لحق عمران بن طلحة بمعاوية فقال له معاوية : ارجع إلى علي ! فانه يرد عليك مالك ، فرجع عمران فأتى الكوفة فدخل على علي فقال له علي : مرحبا بابن أخي ! إني لم أقبض مالكم لاخذه ولكن خفت عليه من السفهاء ، انطلق إلى عمك قرظة بن كعب ابن عميرة فمره فليرد عليك ما أخذنا من غلة أرضكم ! أما والله ! إني لارجو أن أكون أنا وأبوك من الذين ذكرهم الله في كتابه وتلا هذه الاية (ونزعنا ما في صدورهم من غل إخوانا على سرر متقابلين) فقال الحارث الاعور : لا والله ! الله أعدل أن يجمعنا وإياهم في الجنة ، قال : فمن ذا يا أعور - أنا وأبوك.(كر ، ورواه ق عن أبي حبيبة مولى طلحة).