কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬৫৮
فتنوں کا بیان
جنگ حمل کا واقعہ
31646 ۔۔۔ قیس بن عباع سے روایت ہے کہ میں اور اشتر حضرت علی (رض) کے پاس پہنچے اور ہم نے کہا کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کو کوئی ایسی بات بتلائی ہے جو عام لوگوں کونہ بتلائی ہو فرمایا نہیں مگر جو میری اس کتاب میں ہے ایک کتاب نکالی تلوار کے نیام سے تو اس میں مذکور تھا مسلمانوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا وہ دوسری اقوام کے مقابلہ میں ایک ہاتھ کی طرح ہیں ان کے ادنی درجہ کے آدمی کی ذمہ داری پوری کرنے کی کوشش کی جائے گی کسی مومن کو کافر کے بدلہ میں قتل نہیں کیا جائے گا اور معاہدہ کا عہد برقرار ہوئے ہوئی اس کو قتل نہیں کیا جائے گا جس نے کوئی نئی بات نکالی اس کی ذمہ داری اس پر ہے جس نے بدعت کی ایجاد کی یا کسی بدعتی کو پناہ دی اس پر اللہ کی لعنت فرشتوں کی اور تمام لوگوں کو لعنت ہے ان سے نہ تاوان قبول کیا جائے گا۔ فدیہ ۔ ابوداؤد نسائی ابویعلی وابن جریر البیھقی
31647 عن قيس بن عباد قال : انطلقت أنا والاشتر إلى علي فقلنا : هل عهد إليك رسول الله صلى الله عليه وسلم شيئا لم يعهده إلى الناس عامة ، قال : لا إلا ما في كتابي هذا ، فأخرج كتابا من قراب سيفه فإذا فيه : المؤمنون تتكافأ دماؤهم وهم يد علي من سواهم ويسعى بذمتهم أدناهم ، ألا ! لا يقتل مؤمن بكافر ولا ذو عهد في عهده ، من أحدث حدثنا فعلى نفسه ومن أحدث حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين ، لا يقتبل منه صرف ولا عدل.
(د ، ن ، ع وابن جرير ، ق)
(د ، ن ، ع وابن جرير ، ق)