কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৬২২
فتنوں کا بیان
خوارج کو قتل کرنے کا حکم ہے
31611 ۔۔۔ عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سات سوسونے اور چاندی کے ٹکڑے لائے گئے آپ صحابہ (رض) میں تقسیم فرما رہے تھے تو ایک دیہاتی شخص آیا جو نیا نیا داخل اسلام ہوا تھا اس کو کوئی حصہ نہیں دیا تو اس نے کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کی قسم کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو انصاف کرنے کا حکم فرمایا لیکن میں آپ کو انصاف کرتے ہوئے نہیں دیکھ رہا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تیرا ناس ہو میرے بعد کون انصاف کرے گا ؟ جب وہ چلا گیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میری امت میں اس جیسی ایک قوم ہوگی جو قرآن پڑھیں گے لیکن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے جب ان کی ایک نسل ختم ہوگئی تو دوسری نسل ظاہر ہوگئی حتی کہ ان کے مابقیہ لوگوں میں دجال ظاہر ہوگا دوسری روایت کے الفاظ میں ان کے حلق سے آگے نہیں بڑھے گا اگر وہ مل جائیں تو ان کو قتل کرو پھر دوبارہ مل جائیں تو دوبارہ قتل کرو ایک روایت میں ہے جب یہ قوم نکلے ان کو قتل کرو دوبارہ نکل آئیں تو دوبارہ قتل کرو۔ رواہ ابن جریر
31611 عن عبد الله بن عمرو قال : أتي رسول الله صلى الله عليه وسلم بسبعمائة من ذهب وفضة فجعل يقسمها بين أصحابه وفيه رجل من أهل البادية من ذهب وفضة فجعل يقسمها بين أصحابه وفيهم رجل من أهل البادية حديث عهد بأعرابية فلم يعطه منها شيئا فقال : يا محمد ! والله لئن كان الله أمرك أن تعدل ما أراك أن تعدل فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ويحك ! ومن يعدل عليك بعدي ؟ فلما أدبر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يكون في أمتي أشباه هذا يقرأون القرآن لا يجاوز تراقيهم ، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية ، كلما قطع قرن نشأ قرن حتى يخرج في بقيتهم الدجال. وفي لفظ : لا يجاوز تراقيهم ، إذا لقيتموهم فاقتلوهم ثم إذا لقيتموهم فاقتلوهم ثم إذا لقيتموهم فاقتلوهم.
وفي لفظ : فإذا خرجوا فاقتلوهم ثم إذا خرجوا فاقتلوهم.
(ابن جرير).
وفي لفظ : فإذا خرجوا فاقتلوهم ثم إذا خرجوا فاقتلوهم.
(ابن جرير).