কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৫৮৬
فتنوں کا بیان
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتراض کرنے والا
31575 ۔۔۔ ابوصادق مولی فیاض بن ربیعہ الاسدی سے روایت ہے کہ میں علی (رض) کے پاس آیا میں اس وقت غلام تھا میں نے اے امیر المومنین اپنا ہاتھ آگے کیجئے تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر بیعت کروں انھوں نے میری طرف سراٹھاکر دیکھا اور پوچھا آپ کون ؟ میں نے کہا ایک غلام ہوں تو فرمایا کہ پھر میں بیعت نہیں لیتا میں نے کہا اے میر المومنین اگر میں آپ کے ساتھ رہاتو آپ کی مدد کرونگا اور آپ کی عدم موجودگی میں خیرخواہی کروں گا تو فرمایا پھر صحیح ہے اپنا ہاتھ آگے کیا میں نے بیعت کرلی میں نے ان کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک شخص ظاہر ہوگا وہ دعوت دے گا مجھے گالی دی جائے اور مجھ سے برات کا اظہار کیا جائے جہاں تک گالی کا تعلق ہے وہ تمہاری نجات ہے اور میری لیے زکوۃ جہاں برات کا تعلق ہے مجھ سے برات کا اظہار مت کرو کیونکہ میں فطرت یعنی دین صحیح پر قائم ہوں ۔ (المحاملی ابن عساکر وردی الحاکم فی الکنی آخرہ)
31575 عن أبي صادق مولى عياض بن ربيعة الاسدي قال : أتية علي بن أبي طالب وأنا مملوك فقلت : يا أمير المؤمنى ! ابسط يدك أبايعك فرفع رأسه إلي فقال : ما أنت ؟ فقلت : مملوك ، قال : لا إذن ، قلت : يا أمير المؤمنين ! إنما أقول : إني شهدتك نصرتك وإذا غبت نصحتك ، قال : فنعم إذن ، فبسط يده فبايعته ، وسمعته يقول : إنه سيأتيكم رجل يدعوكم إلى سبي وإلى البراءة مني ، فأما السب فانه لكم نجاة ولي زكاة ، وأما البراءة فلا تبرؤا مني ؟ فاني على الفطرة. (المحاملي ، كر ، وروي الحاكم في الكنى آخره).