কানযুল উম্মাল (উর্দু)
فتنوں کا بیان
হাদীস নং: ৩১৪৭৬
فتنوں کا بیان
فتنہ کے زمانہ میں صبر کرنا
31461 ۔۔۔ زہری سے مروی ہے کہ ان سے کہا گیا کہ ہم تو آپ کے بارے بڑ ا چھاگمان رکھتے تھے کہ آپ صاحب قرآن اور صاحب مسجد ہیں لیکن ایسانظر نہیں آرہا ہے۔ زہری نے کہا کہ یہ کمی ہے ؟ پھر کہنے لگے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں لوگ سنت کے تابع ہوتے تھے اور وہ بہت زیادہ عبادت نہیں کرتے تھے لیکن وہ امانت دار تھے اور نیک نیت اور مخلص تھے جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انتقال ہوگیا تو لوگ ایک درجہ نیچے آگئے اور وہ ابوبکر اور عمر (رض) کے ساتھ ایک خاص طرز پرچلتے رہے پھر جب عمر (رض) کا انتقال ہوگیا تو لوگ ایک درجہ مزید نیچے آگئے اور وہ عثمان (رض) کے ساتھ ڈٹے رہے ان کے ظاہر بالکل ٹھیک تھے یہاں تک کہ جب عثمان (رض) قتل ہوئے تو پردہ چاک ہوگیا اور اس فتنے میں لوگوں نے خون کو حلال سمجھ لیا ایک دوسرے قطع رحمی کی اور اعراض برتا تا آنکہ یہ فتنہ ٹھنڈا پڑا اور ان لوگوں میں اللہ نے حضرت معاویہ (رض) کے دور میں الفت پیدا فرما دی ، چنانچہ یہ لوگ دنیا میں ایک دوسرے سے مسابقت کرتے اور اسی کے لیے کوشش کرتے تھے پھر ابن زبیر کا فتنہ اٹھاوہ تو تباہی مچانے والا تھا پھر عبدالملک بن مروان کے ہاتھ پر صلح ہوئی (یہ سب کچھ ہوا ) تو آپ کا ان لوگوں کے بارے میں جو کچھ حسن ظن تھا آپ تو اس کا انکار کردیں گے۔
اور یہ معاملہ یوں ہی پستی کی طرف جاتا رہے گا وہاں تک کہ اس زمین پر سب سے خوش بخت حمام والے اور کتے پالنے والے ہوں گے جو اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے اور انھیں حلال حرام کا کچھ پتہ بھی نہ ہوگا۔ رواہ ابن عساکر
اور یہ معاملہ یوں ہی پستی کی طرف جاتا رہے گا وہاں تک کہ اس زمین پر سب سے خوش بخت حمام والے اور کتے پالنے والے ہوں گے جو اللہ کی عبادت کرتے ہوں گے اور انھیں حلال حرام کا کچھ پتہ بھی نہ ہوگا۔ رواہ ابن عساکر
31465 عن الزهري إنه قيل له : كنا لا نزال نحسن الظن بالرجل من أهل القرآن وأهل المساجد ثم يخالف ، قال : ذلك النقص ، ثم قال : إن الناس كانوا في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل سنة ولم يكن لهم كثير عبادة ولكنهم كانوا يؤدون الامانة ويصدقون النية ، فلما مات رسول الله صلى الله عليه وسلم هبط الناس درجة وكانوا على شريعة من أمرهم مع أبي بكر وعمر فلما مات عمر هبط الناس درجة وكانوا مع عثمان حنسة علانيتهم فلا بأس بحالهم حتى قتل عثمان ، انهتك الحجاب وكان الناس في فتنتهم استحلوا الدماء فتقاطعوا وتدابروا حتى انكشفت ، ثم ألفهم الله في زمان معاوية فكانوا أهل دنيا يتنافسون فيها ويتصنعون لها ، ثم حضرتهم فتنةابن الزبير فكانت الصيلم ، ثم صلحوا على يدي عبد الملك بن مروان ، فأنت منكر معهم ما تذكر من حسن ظنك بهم وخلافهم ، فليس يزال هذا الامر ينتقص حتى يكون أسعد أهل الاسلام أصحاب الحمام والكلاب يعبدون الله على الامر ولا يعرفون حلالا ولا حراما.(كر).