কানযুল উম্মাল (উর্দু)
غزوات کا بیان
হাদীস নং: ৩০০৯১
غزوات کا بیان
غزوہ خندق :
30091 ۔۔۔ ” مسند ابی سعید “۔ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ہے کہ غزوہ خندق کے دوران ہم ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں سے سے روک دیئے گئے پھر ہماری کفایت کردی گئی چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے ” وکفی اللہ المؤمنین القتال وکان اللہ قویا عزیز “۔ اللہ تعالیٰ مومنین کی طرف سے جنگ کے لیے کافی ہے اور اللہ تعالیٰ قوت والا اور غالب ہے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت بلال (رض) کو حکم دیا انھوں نے اذان دی پھر نماز قائم کی پہلے ظہر کی نماز پڑھی جس طرح کہ اس سے پہلے پڑھتے تھے پھر اقامت کہی اور عشاء کی نماز پڑھی ایسے ہی جس طرح پہلے پڑھتے تھے ، آپ نے یہ نمازیں یہ آیت نازل ہونے سے پہلے پڑھیں (آیت)” فان خفتم فرجالا اور کبانا “۔ یعنی اگر تمہیں خوف ہو تو پیادہ پا نماز پڑھ لو یا سوار ہو کر ۔ یعنی نماز خوف کے حکم کے نزول سے قبل کا وقعہ ہے۔ (رواہ ابو داؤد والطیالسی وعبدالرزاق واحمد بن حنبل وابن ابی شیبۃ وعبدبن حمید والنسائی وابو یعلی وابو الشیخ فی الاذان والبیہقی)
30091- "مسند أبي سعيد" عن أبي سعيد حبسنا يوم الخندق عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء حتى كفينا ذلك وذلك قوله تعالى: {وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيّاً عَزِيزاً} فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فأمر بلالا فأذن، ثم أقام الصلاة، ثم صلى الظهر كما كان يصليها قبل ذلك ثم أقام فصلى العصر كما كان يصليها قبل ذلك، ثم أقام المغرب فصلى المغرب كما كان يصليها قبل ذلك ثم أقام العشاء فصلاها كما كان يصليها قبل ذلك وذلك قبل أن ينزل {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَاناً} . "ط، عب، حم، ش" وعبد بن حميد، "ن، ع" وأبو الشيخ في الأذان، "هق".