কানযুল উম্মাল (উর্দু)
غزوات کا بیان
হাদীস নং: ৩০০৮৯
غزوات کا بیان
غزوہ خندق :
30089 ۔۔۔ ابن جہاد (رض) سے مروی ہے کہ ان کے بیٹے نے کہا (ابن جہاد (رض) کو شرف صحبت حاصل ہے) اے اباجان ! آپ لوگوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت میں رہے ہیں اگر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھ لیتا آپ کے ساتھ ایسا اور ایسا برتاؤ کرتا ابن جہاد (رض) نے فرمایا : اے بیٹا ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اصلاح کرتے رہو قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ہم غزوہ خندق کے موقع پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے آپ نے فرمایا : جو شخص مشرکین کی خبر لائے گا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا چنانچہ لوگوں میں سے کوئی بھی نہ اٹھا چونکہ بھوک اور سردی نے لوگوں کو نہایت کسم پرسی کے عالم میں دکھیل دیا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر فرمایا : اے حذیفہ (رض) حضرت حذیفہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں صرف اس خوف سے نہیں اٹھا کہ ممکن ہے میں آپ کے پاس مشرکین کی خبر نہ لا سکوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حذیفہ (رض) کے لیے دعائے خیر کی ۔ (رواہ ابن عساکر)
30089- عن وهب انبأنا سعيد بن عبد الرحمن الجشمي رجل من الأنصار من بني سلمة عن أبيه عن جده ابن جهاد وكان ابن جهاد من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن ابنه قال: يا أبتاه رأيتم رسول الله صلى الله عليه وسلم وصحبتموه والله لو رأيته لفعلت وفعلت فقال: يا بني اتق الله وسدد فوالذي نفسي بيده لقد رأيتنا معه يوم الخندق وهو يقول: " من يذهب فيأتيني بخبرهم جعله الله رفيقي يوم القيامة؟ فما قام من الناس أحد من صميم ما بنا من الجوع والقر، ثم نادى يا حذيفة باسمه فقال: يا رسول الله والذي نفسي بيده ما منعني أن أقوم إلا خشية أن لا آتيك بخبرهم فقال: اذهب ودعا له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بخير". "كر".