কানযুল উম্মাল (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২৮০৩৫
طلاق کا بیان
استبراء کا بیان :
28035 ۔۔۔ ابو سعید جہنی کی روایت ہے کہ صعب بن جثامہ نے اپنے (مرحوم) بھائی محلم بن جثامہ کی بیوی سے شادی کرلی اس عورت کا محلم سے ایک لڑکا بھی تھا جو سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کے زمانہ میں خلافت میں وفات پا گیا صعب اپنی بیوی سے کنارہ کش ہوگیا ، سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس کا تذکرہ کیا گیا سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس سے پوچھا : تم اپنی بیوی سے اس کے لڑکے کے مرنے کے بعد علیحدہ کیوں ہوگئے ہو ؟ صعب نے کہا : میں اچھا نہیں سمجھتا کہ رحم میں میں ایسا نطفہ داخل کروں جس کا میراث میں کوئی حق نہ ہو ۔ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : تم ایسے شخص ہو جسے رشد و ہدایت کی طرف راہنمائی کی گئی ہے اور تجھے اس کی توفیق بھی دی گئی ہے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے مختلف لشکروں میں خطوط لکھے کہ جس شخص کے نکاح میں کوئی عورت ہو جس کی کسی دوسرے شخص سے اولاد ہو وہ اس وقت تک اس کے پاس نہ جائے جب تک اس کا استبراء رحم نہ کرے ۔ (رواہ ابن اسنی فی کتاب الاخرۃ وابن ابی شیبۃ)
28035- عن أبي سعيد الجهني "عن الصعب بن جثامة أنه كان تزوج امرأة أخيه محلم بن حثامة بعد أخيه ولها منه غلام فتوفي ابن أخيه في زمن عمر بن الخطاب، فاعتزل الصعب امرأته فذكر ذلك لعمر بن الخطاب فقال له عمر: ما حملك على اعتزالك امرأتك مذ توفي ابنها؟ قال: كرهت أن أدخل في رحمها من لا حق له في الميراث، فقال له عمر:أنت الرجل تهدي إلى الرشد وتوفق له، ثم كتب بذلك إلى الأجناد: من كانت تحته امرأة ولها ولد من غيره، ثم توفي ولدها فلا يقربنها حتى يستبرأ رحمها". "ابن السني في كتاب الآخرة، ش".