কানযুল উম্মাল (উর্দু)
طلاق کا بیان
হাদীস নং: ২৭৯৬৩
طلاق کا بیان
طلاق یافتہ عورت کے نان نفقہ اور رہائش کا بیان :
27963 ۔۔۔ ثوری ، سلمہ بن کہیل ، شعبی کی سند سے حدیث مروی ہے کہ فاطمہ بنت قیس (رض) کہتی ہیں میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دیں میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے سوال کیا آپ نے فرمایا : تمہارے لیے نفقہ اور سکنی (رہائش) نہیں ہوگا شعبی کہتے ہیں : میں نے ابراہیم (رح) سے اس کا تذکرہ کیا وہ بولے : سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں ہم اپنے رب کی کتاب کو اور اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے اس عورت (جو مطلقہ ثلاث یا بائن ہو) کے لیے نفقہ بھی ہے اور اس کی رہائش بھی ہے۔ فائدہ : ۔۔۔ حوالہ کی جگہ خالی ہے البتہ یہ حدیث امام مسلمہ نے کتاب الطلاق باب المطلقۃ ثلاثا کے ذیل میں ذکر کی ہے ، معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عورت جسے طلاق رجعی دی گئی ہو بالاتفاق اس کے لیے نان نفقہ اور سکنی ہوگا مطلقہ ثلاث حاملہ کے لیے بھی نان نفقہ اور سکنی ہوگا البتہ مطلقہ ثلاث غیر حاملہ کے متعلق اختلاف ہے امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دونوں چیزیں ہوں گی ان کی دلیل ” اسکنوھن من حیث سکنتم من وجدکم “۔ الایۃ دلیل ہے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک کچھ بھی نہیں ہوگا ان کی دلیل حدیث بالا ہے جبکہ امام مالک اور شافعی (رح) کے نزدیک حدیث کے پیش نظر سکنی ہوگا اور نفقہ نہیں ہوگا ۔ البتہ سیدنا حضرت عمر بن خطاب (رض) کا فیصلہ احناف کے مسلک کا مؤید ہے۔
27963 عن الثوري عن سلمة بن كهيل عن الشعبي عن فاطمة بنت قيس قالت : طلقني زوجي ثلاثا ، فجئت إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألته فقال : لا نفقة لك ولا سكنى ، قال : فذكرت ذلك لابراهيم فقال : قال عمر بن الخطاب لا ندع كتاب ربنا وسنة نبينا صلى الله عليه وسلم ، لها النفقة والسكنى