কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২৫৯৭
حج اور عمرۃ کا بیان
حج کے واجبات اور مستحبات
12597 اسامہ (رض) سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں عرفہ کی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ردیف (ہم سوار) تھا۔ جب سورج غروب ہوا تھا تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپسی کا سفر شروع فرمایا تھا۔ مسند احمد، ابن داؤد

مسند احمد اور امام احمد کی افراد میں یہ اضافہ بھی منقول ہے :

اور جب حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے لوگوں کا ازدحام سنا تو ارشاد فرمایا : اے لوگو ! آہستہ روی اختیار کرو، وقار اور سکون کو لازم پکڑو۔ بیشک تیز چلنا نیکی نہیں ہے۔ چنانچہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کو ازدحام کرتے ہوئے دیکھتے تو پہلی آہستہ رفتاری پکڑ لیتے اور جب (راستے کی) کشادگی پاتے تو تیز ہوجاتے، حتیٰ کہ اس گھاٹی پر گزرے جس کے متعلق اکثر لوگوں کا گمان ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہاں نماز پڑھی تھی (لیکن صحیح بات یہ ہے کہ) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہاں اترے تو میں آپ کے پاس وضو کا پانی لے کر حاضر ہوا آپ نے (ہلکا پھلکا) وضو کیا۔ میں نے عرض کیا : نماز کا ارادہ ہے یارسول اللہ ! ؟ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : نماز آگے ہوگی۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سوار ہوگئے اور کوئی نماز نہیں پڑھی حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے پھر وہاں اتر کر مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا۔
12597- عن أسامة قال: كنت رديف رسول الله صلى الله عليه وسلم عشية عرفة فلما وقعت الشمس دفع رسول الله صلى الله عليه وسلم. "حم د" زاد "حم قط في الأفراد" ولما سمع حطمة الناس خلفه قال: رويدا أيها الناس عليكم بالسكينة فإن البر ليس بالإيضاع فكان إذا التحم عليه الناس أعنق وإذا وجد فرجة نص حتى مر بالشعب الذي يزعم كثير من الناس أنه صلى فيه، فنزل فبال ثم جئته بالإداوة فتوضأ ثم قلت:الصلاة يا رسول الله فقال: الصلاة أمامك، فركب وما صلى حتى أتى المزدلفة فنزل بها فجمع بين الصلاتين المغرب والعشاء.
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান