কানযুল উম্মাল (উর্দু)

حج اور عمرۃ کا بیان

হাদীস নং: ১২৫২৬
حج اور عمرۃ کا بیان
حجراسود پر دھکے دینے کی ممانعت
12526 عبداللہ بن عبید بن عمیر سے مروی ہے کہ ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے سوال کیا : کیا بات ہے کہ آپ ان دو رکنوں حجرا سود اور رکن یمانی کے علاوہ کسی اور رکن کا استلام نہیں کرتے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے ارشاد فرمایا : میں ایسا کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے، ارشاد فرمایا : ان دونوں کا استلام کرنا گناہوں کو مٹا دیتا ہے، نیز میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے ایک ہفتے بیت اللہ کا طواف کیا (غالباً ہفتے سے صرف سات چکرمراد ہیں) اور ان کو شمار کیا پھر دو رکعت نماز پڑھی اس نے گویا ایک جان آزاد کردی اور بندہ (اس عمل کے دوران) جب بھی کوئی قدم رکھتا ہے یا اٹھاتا ہے تو اس کے بدلے اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے اور ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے اور ایک درجہ بلند کردیاجاتا ہے۔ ابن زنجویہ
12526- عن عبد الله بن عبيد بن عمير أن أباه سأل ابن عمر؛ مالي أراك لا تستلم هذين الركنين لا تستلم غيرهما؟ يعني الحجر الأسود والركن اليماني، قال: إن أفعل فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن استلامهما يحط الخطايا وسمعته يقول: من طاف أسبوعا يحصيه، ثم صلى ركعتين فله كعدل رقبة أو نسمة ما رفع رجل قدمه وما وضعها إلا كتب له بها حسنة ومحي عنه بها خطيئة ورفع له بها درجة. "ابن زنجويه".
tahqiqতাহকীক:তাহকীক চলমান