কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৪৭৭
حج اور عمرۃ کا بیان
التمتع ۔۔۔حج تمتع
12477 سعید بن المسیب (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے حج کے مہینوں میں حج تمتع سے منع فرمایا ہے اور فرمایا کہ اگرچہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ یہی حج کیا تھا۔ لیکن پھر بھی میں اس سے روکتا ہوں۔ وہ اس لیے کہ تم میں سے کوئی دنیا کے کس کس کونے سے آتا ہے غبار آلود اور پراگندہ حال ہوتا ہے اور وہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرتا ہے، اس کی غبار آلود حالت، پراگندہ بال اور تھکاوٹ اور تلبیہ اس کے عمرے میں ختم ہوجاتا ہے (اور یہی چیزیں اللہ کو محبوب ہیں) کیونکہ وہ بیت اللہ کا طواف کرتا ہے اور حلال ہوجاتا ہے پھر کپڑے پہنتا ہے خوشبو لگاتا ہے اور اپنے اہل کے ساتھ مباشرت بھی کرتا ہے اگر وہ ساتھ ہوں۔ پھر جب ترویہ (آٹھ ذی الحجہ) کا دن ہوتا ہے تو پھر حج کا تلبیہ پڑھتا ہے اور منیٰ جاتا ہے اور تلبیہ پڑھتا ہے، اب اس کے بال پراگندہ ہوتے ہیں اور نہ وہ غبار آلود حالت میں ہوتا ہے ، نہ اس کو تھکاوٹ ہوتی ہے اور زیادہ دنوں کا تلبیہ ہوتا ہے سوائے ایک دن کے، حالانکہ حج عمرہ سے افضل (عبادت) ہے۔ اگر ہم لوگوں کو (حج اس طرح اس حج تمتع کے لئے) چھوڑ دیں تو وہ پیلو کے درختوں تلے عورتوں سے ہم آغوش ہوں گے، جبکہ اہل بیت (رسول اللہ تو غربت وفاقے کی وجہ سے) نہ ان کے پاس مال مویشی تھے اور نہ اناج فصل، ان کی کشادگی تو تبھی ہوتی تھی جب ان کے پاس کچھ آجاتا تھا۔
حلیۃ الاولیاء ، مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، السنن للبیہقی۔
فائدہ : مذکورہ روایت حلیۃ الاولیاء میں 205/5 پر ہے اور صرف یہی حوالہ منتخب کنزالعمال میں ہے۔
محش رقم طراز ہیں کہ بقیہ کتب مذکورہ میں مذکورہ روایت رجوع کرنے پر نہیں ملی۔ 12
حلیۃ الاولیاء ، مسند احمد، البخاری، مسلم، النسائی، السنن للبیہقی۔
فائدہ : مذکورہ روایت حلیۃ الاولیاء میں 205/5 پر ہے اور صرف یہی حوالہ منتخب کنزالعمال میں ہے۔
محش رقم طراز ہیں کہ بقیہ کتب مذکورہ میں مذکورہ روایت رجوع کرنے پر نہیں ملی۔ 12
12477- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب، نهى أن المتعة في أشهر الحج وقال: فعلتها مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أنهى عنها، وذلك أن أحدكم يأتي من أفق من الآفاق شعثا نصبا معتمرا في أشهر الحج وإنما شعثه ونصبه وتلبيته في عمرته ثم يقدم فيطوف بالبيت ويحل ويلبس ويتطيب ويقع على أهله إن كانوا معه، حتى إذا كان يوم التروية أهل بالحج وخرج إلى منى يلبي بحجة لا شعث فيها ولا نصب ولا تلبية إلا يوما والحج أفضل من العمرة لو خلينا بينهم وبين هذا لعانقوهن تحت الأراك من أن أهل البيت ليس لهم ضرع ولا زرع، وإنما ربيعهم فيمن يطرأ عليهم " حل حم خ م ن ق"