কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৪৬৩
حج اور عمرۃ کا بیان
القرآن
حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
حج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پڑھنا اور دونوں کے اکٹھے ادائیگی کی نیت کرنا
12463 ابونصر سلمی سے مروی ہے کہ میں نے حج کے لیے تلبیہ پڑھ لیا ۔ پھر میں نے حضرت علی (رض) کو پالیا۔ میں نے عرض کیا : میں نے حج کے لیے تلبیہ پڑھ (لیا ہے اور احرام باندھ ) لیا ہے، لیکن میں عمرہ کو ملانے کی بھی طاقت رکھتا ہوں۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں۔ ہاں اگر تو عمرہ کا احرام باندھتا پھر حج کو اس کے ساتھ ملانا چاہتا تو ملا سکتا تھا۔ لیکن اگر تو نے حج کے ساتھ ابتدا کرلی ہے تو اب اس کے ساتھ عمرہ نہیں ملا سکتا۔ ابونصر سلمی نے پوچھا : اگر میں دونوں کا ارادہ کروں تو کیا کرنا پڑے گا ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا پانی کا برتن اپنے اوپر بہاؤ (غسل کرو) پھر دونوں کا اکٹھے احرام باندھ لو اور دونوں کے لیے دو طواف کرو ایک طواف حج کے لیے اور ایک طواف اپنے عمرہ کے لیے اور دو سعی کرو پھر کوئی چیز تمہارے لیے حلال نہیں ہوگی یوم النحر تک ۔ السنن للبیہقی
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ابونصر غیر معروف راوی ہے۔ ابن الترکمانی فرماتے ہیں مگر یہی روایت دوسری کئی عمدہ اسانید سے بھی مروی ہے۔
امام بیہقی (رح) فرماتے ہیں : ابونصر غیر معروف راوی ہے۔ ابن الترکمانی فرماتے ہیں مگر یہی روایت دوسری کئی عمدہ اسانید سے بھی مروی ہے۔
12463- عن أبي نصر السلمي قال: أهللت بالحج فأدركت عليا، فقلت: إني أهللت بالحج فأستطيع أن أضم إليه عمرة قال: لا، لو كنت أهللت بالعمرة، ثم أردت أن تضم إليها الحج ضممته، فإذا بدأت بالحج فلا تضم إليه عمرة قال: فما أصنع إذا أردت ذلك؟ قال: صب عليك إداوة من ماء ثم تحرم بهما جميعا فتطوف لهما طوافين طوافا لحجك وطوافا لعمرتك، وتسعي سعيين، ثم لم يحل منك شيء إلى يوم النحر. "هق" وقال أبو نصر غير معروف