কানযুল উম্মাল (উর্দু)
حج اور عمرۃ کا بیان
হাদীস নং: ১২৩৯০
حج اور عمرۃ کا بیان
حج کی فضیلتوں کا بیان
12390 حارث بن سوید حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں، آپ (رض) نے ارشاد فرمایا : اس سے پہلے پہلے حج کرلو پھر تم حج نہ کرسکو، کیونکہ گویا میں (مستقبل میں) دیکھ رہا ہوں کہ ایک حبشی (سیاہ فام) چھوٹے چھوٹے کاموں والا بانگا ٹیڑھا آدمی ہے، اس کے ہاتھ میں کدال ہے اور وہ اسی کے ساتھ کعبۃ اللہ کے پتھروں کو ڈھارہا ہے۔
حضرت علی (رض) سے کسی نے عرض کیا : کیا آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں ؟ یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ نے اسی بات کو سنا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے (زمین میں) دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا (میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں) بلکہ میں نے اس کو تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ الحارث، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی۔
کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی حصین بن عمر الاحمسی ہے، جس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام ذھبی (رح) فرماتے ہیں حصین واہ (بےکار) راوی ہے۔
الحاکم فی المستدرک کتاب المناسک 448/1
حضرت علی (رض) سے کسی نے عرض کیا : کیا آپ اپنی طرف سے فرما رہے ہیں ؟ یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آپ نے اسی بات کو سنا ہے ؟ حضرت علی (رض) نے ارشاد فرمایا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے (زمین میں) دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا (میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا ہوں) بلکہ میں نے اس کو تمہارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے۔ الحارث، حلیۃ الاولیاء، السنن للبیہقی۔
کلام : مذکورہ روایت میں ایک راوی حصین بن عمر الاحمسی ہے، جس کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ چنانچہ امام ذھبی (رح) فرماتے ہیں حصین واہ (بےکار) راوی ہے۔
الحاکم فی المستدرک کتاب المناسک 448/1
12390- عن الحارث بن سويد عن علي قال: حجوا قبل أن لا تحجوا فكأني أنظر إلى حبشي أصمع أفدع بيده معول يهدمها حجرا حجرا فقيل له: شيء تقوله برأيك؟ أو سمعته من النبي صلى الله عليه وسلم؟ قال: لا والذي فلق الحبة وبرأ النسمة1 ولكن سمعته من نبيكم صلى الله عليه وسلم. "الحارث حل هق" وفيه حصين بن عمر الأحمسي ضعفوه